حدیث نمبر: 829
829/1081 (صحيح) عن كلدة بن حنبل: أن صفوان بن أمية بعثه إلى النبي صلى الله عليه وسلم في الفتح بلبن وجداية(1) وضغابيس – قال أبو عاصم: يعني البقل-، و النبي صلى الله عليه وسلم بأعلى الوادي، ولم أسلم ولم أستأذن، فقال: "ارجع فقل: السلام عليكم. أأدخل؟". وذلك بعدما أسلم صفوان.ترجمہ:مولانا عثمان منیب
سیدنا کلدہ بن حنبل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ صفوان بن امیہ نے انہیں فتح (مکہ) کے موقع پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف دودھ، ہرن کا ایک بچہ اور ضغابیس — ابوعاصم نے کہا: یعنی سبزی — دے کر بھیجا، اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم وادی کے بالائی حصے میں تھے، (کلدہ کہتے ہیں:) میں نے نہ سلام کیا اور نہ اجازت مانگی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”واپس جاؤ اور کہو: السلام علیکم، کیا میں اندر آ جاؤں ؟“ اور یہ صفوان کے اسلام لانے کے بعد کی بات ہے ۔