❮
❯
حدیث نمبر: 775
775/1009- (صحيح موقوف) عن معاوية بن قرة قال: قال لي أبي: "يا بني! إن كنت في مجلس ترجو خيره، فعجلت بك حاجة، فقل: سلامٌ عليكم؛ فإنك تشركهم فيما أصابوا في ذلك المجلس. وما من قوم يجلسون مجلساً، فيتفرقون عنه لم يُذكر الله، إلا كأنما تفرقوا عن جيفة حمار".
ترجمہ:مولانا عثمان منیب

معاویہ بن قرہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: مجھ سے میرے والد نے فرمایا : ”اے میرے بیٹے! اگر تم کسی ایسی مجلس میں ہو جس کی بھلائی کی تمہیں امید ہو، پھر کوئی ضرورت تمہیں جلدی (اٹھنے پر) مجبور کر دے تو «سلامٌ عليكم» کہہ دو، اس طرح تم اس مجلس میں انہیں ملنے والی (بھلائی) میں ان کے شریک ہو جاؤ گے۔ اور جو لوگ بھی کسی مجلس میں بیٹھتے ہیں، پھر اللہ کا ذکر کیے بغیر وہاں سے جدا ہو جاتے ہیں تو گویا وہ مردار گدھے (کی لاش) کے پاس سے اٹھ کر جدا ہوئے ۔“

حوالہ حدیث صحيح الادب المفرد / حدیث: 775