742/960 (صحيح) عن جابر قال: صرع رسول الله صلى الله عليه وسلم من فرس بالمدينة على جذع نخلة، فانفكت قدمه، فكنا نعوده في مشربة لعائشة رضي الله عنها، فأتيناه، وهو يصلي قاعداً، فصليناً قياماً، ثم أتيناه مرة أخرى وهو يصلي المكتوبة قاعداً، فصلينا خلفه قياماً، فأومأ إلينا أنِ اقعدوا، فلما قضى الصلاة، قال: "إذا صلى الإمام قاعداً فصلوا قعوداً، وإذا صلى قائماً فصلوا قياماً، ولا تقوموا والإمام قاعد، كما تفعل فارس بعظمائهم".سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ میں ایک گھوڑے سے کھجور کے ایک تنے پر گر پڑے، جس سے آپ کا قدم (جوڑ سے) ہٹ گیا۔ ہم سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے ایک بالا خانے میں آپ کی عیادت کیا کرتے تھے۔ ہم آپ کے پاس آئے تو آپ بیٹھ کر نماز پڑھ رہے تھے، ہم نے کھڑے ہو کر نماز پڑھی۔ پھر ہم دوسری بار آپ کے پاس آئے تو آپ فرض نماز بیٹھ کر پڑھ رہے تھے، ہم نے آپ کے پیچھے کھڑے ہو کر نماز پڑھی، تو آپ نے ہمیں اشارہ کیا کہ بیٹھ جاؤ۔ جب آپ نماز پوری کر چکے تو فرمایا: ”جب امام بیٹھ کر نماز پڑھے تو تم بھی بیٹھ کر پڑھو، اور جب وہ کھڑے ہو کر پڑھے تو تم بھی کھڑے ہو کر پڑھو، اور جب امام بیٹھا ہو تو تم کھڑے نہ رہو، جیسے فارس والے اپنے بڑوں کے ساتھ کرتے ہیں۔“