❮
❯
حدیث نمبر: 704
704/911عن عبد الله [ هو ابن مسعود]، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: " عرضت علي الأمم بالموسم أيام الحج، فأعجبني كثرة أمتي؛ قد ملأوا السهل والجبل. قالوا: يا محمد! أرضيت؟ قال: نعم، أي ربّ! قال: فإن مع هؤلاء سبعين ألفاً يدخلون الجنة بغير حساب، وهم الذين لا يسترقون ولا يكتوون، ولا يتطيرون، وعلى ربهم يتوكلون". قال عكاشة: فادع الله أن يجعلني منهم. قال: "اللهم اجعله منهم". فقال رجل آخر: ادع الله أن يجعلني منهم. قال: "سبقك بها عُكّاشة".
ترجمہ:مولانا عثمان منیب

سیدنا عبداللہ (بن مسعود) رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”حج کے دنوں میں موسم (حج) میں مجھ پر امتیں پیش کی گئیں، مجھے اپنی امت کی کثرت بہت اچھی لگی، انہوں نے میدان اور پہاڑ بھر رکھے تھے۔ کہا گیا: اے محمد! کیا آپ راضی ہو گئے؟ میں نے کہا: ہاں، اے میرے رب! فرمایا: ان کے ساتھ ستر ہزار ایسے ہیں جو بغیر حساب کے جنت میں داخل ہوں گے، اور یہ وہ لوگ ہیں جو دم نہیں کرواتے، داغ نہیں لگواتے، بدشگونی نہیں لیتے اور اپنے رب پر بھروسہ رکھتے ہیں۔“ سیدنا عکاشہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: آپ اللہ سے دعا کیجیے کہ وہ مجھے ان میں سے کر دے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «اللهم اجعله منهم» ”اے اللہ! اسے ان میں سے کر دے۔“ پھر ایک دوسرے آدمی نے عرض کیا: اللہ سے دعا کیجیے کہ مجھے بھی ان میں سے کر دے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عکاشہ اس میں تم سے سبقت لے گئے۔“

حوالہ حدیث صحيح الادب المفرد / حدیث: 704
تخریج حدیث (حسن صحيح)