❮
❯
حدیث نمبر: 647
647/839 (صحيح) عن جابر بن عبد الله قال: وُلد الرجل منا من الأنصار غلام، وأراد أن يسميه محمداً( قال في رواية هنا: أن الأنصاري قال: حملته على عنقي، فأتيت به النبي صلى الله عليه وسلم )، (وفي أخرى : ولد له غلام، فأرادوا أن يسميه محمداً] قال: "تسموا باسمي، ولا تكنّوا بكنيتي؛ فإني إنما جعلت(وفي رواية ثالثة: بعثت) قاسماً، أقسم بينكم".
ترجمہ:مولانا عثمان منیب

سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ہم انصار میں سے ایک آدمی کے ہاں لڑکا پیدا ہوا اور اس نے اس کا نام محمد رکھنے کا ارادہ کیا - (یہاں ایک روایت میں ہے کہ انصاری نے کہا: میں نے اسے اپنی گردن پر اٹھایا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے آیا) اور ایک دوسری روایت میں ہے: اس کے ہاں لڑکا پیدا ہوا تو انہوں نے ارادہ کیا کہ وہ اس کا نام محمد رکھے - تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے نام پر نام رکھو اور میری کنیت پر کنیت نہ رکھو، کیونکہ مجھے تو قاسم (تقسیم کرنے والا) بنایا گیا ہے (اور ایک تیسری روایت میں ہے: بھیجا گیا ہے)، میں تمہارے درمیان تقسیم کرتا ہوں۔“

حوالہ حدیث صحيح الادب المفرد / حدیث: 647
تخریج حدیث (صحيح)