627/811-(صحيح) عن شريح بن هانئ قال: حدثني هانئُ بن يزيد، أنه لما وفد إلى النبي صلى الله عليه وسلم مع قومه فسمعهم النبي صلى الله عليه وسلم و هم يكنونه بأبي الحكم فدعاه النبي صلى الله عليه و سلم فقال: إن الله هو الحكم، وإليه الحكم، فلم تكنّيت بأبي الحكم؟". قال: لا، لكن قومي إذا اختلفوا في شيء أتوني فحكمت بينهم، فرضي كلا الفريقين. قال: "ما أحسن هذا!". ثم قال: "مالك من الولد؟". قلت: قلت: لي شريح، وعبد الله، ومسلم؛ بنو هانئ. قال: "فمن أكبرهم؟" قلت: شريح. قال: "فأنت أبو شريح"، ودعا له ولولده. وسمع النبي صلى الله عليه وسلم [قوماً](1) يسمون رجلاً منهم : عبد الحجر، فقال النبي صلى الله عليه وسلم : "ما اسمك؟" قال: عبد الحجر. قال: "لا. أنت عبد الله". قال شريح: وإن هانئاً لما حضر رجوعه إلى بلاده أتى النبي صلى الله عليه وسلم فقال: أخبرني بأي شيء يوجب الجنة؟ قال: "عليك بحسن الكلام، وبذل الطعام". شریح بن ہانی سے روایت ہے، انہوں نے کہا: مجھے (میرے والد) سیدنا ہانی بن یزید رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جب وہ اپنی قوم کے ساتھ وفد کی صورت میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سنا کہ وہ لوگ انہیں ابوالحکم کی کنیت سے پکار رہے ہیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بلایا اور فرمایا: ”بیشک اللہ ہی حکم (فیصلہ کرنے والا) ہے اور اسی کی طرف فیصلہ ہے، تو تم نے ابوالحکم کنیت کیوں رکھی؟“ انہوں نے عرض کیا: نہیں (یہ بات نہیں)، بلکہ میری قوم کے لوگ جب کسی معاملے میں اختلاف کرتے ہیں تو میرے پاس آتے ہیں، میں ان کے درمیان فیصلہ کر دیتا ہوں تو دونوں فریق راضی ہو جاتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ کتنی اچھی بات ہے!“ پھر فرمایا: ”تمہاری اولاد میں کون کون ہے؟“ میں نے عرض کیا: میرے (بیٹے) شریح، عبداللہ اور مسلم ہیں، ہانی کے بیٹے۔ آپ نے فرمایا: ”ان میں سب سے بڑا کون ہے؟“ میں نے عرض کیا: شریح۔ آپ نے فرمایا: ”تو تم ابوشریح ہو۔“ اور آپ نے ان کے لیے اور ان کی اولاد کے لیے دعا فرمائی۔ اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ لوگوں کو سنا کہ وہ اپنے ایک آدمی کو عبدالحجر (پتھر کا بندہ) کہہ کر پکار رہے ہیں، تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارا نام کیا ہے؟“ اس نے کہا: عبدالحجر۔ آپ نے فرمایا: ”نہیں، تم عبداللہ ہو۔“ شریح نے کہا: اور جب ہانی کی اپنے وطن واپسی کا وقت آیا تو وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور عرض کیا: مجھے بتائیے کہ کون سی چیز جنت کو واجب کر دیتی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اچھی بات کرنے اور کھانا کھلانے کو لازم پکڑو۔“