حدیث نمبر: 133
133/180 عن زاذان أبي عمر، قال: كنا عند ابن عمر، فدعا بغلام له كان ضربه فكشف عن ظهره، فقال: أيوجعك؟ قال: لا. فأعتقه، ثم رفع عوداً من الأرض فقال: ما لي فيه من الأجر ما يزن هذا العود؟ فقلت: يا أبا عبد الرحمن! لم تقول هذا؟ قال: سمعت النبي صلى الله عليه وسلم يقول – أو قال - : "من ضرب مملوكه حداً لم يأته، أو لطم وجهه، ( وفي لفظ: " من لطم عبده أو ضربه حداً لم يأته/177) فكفارته أن يُعتقه".
ترجمہ:مولانا عثمان منیب

ابوعمر زاذان سے روایت ہے ، وہ بیان کرتے ہیں کہ ہم لوگ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس تھے ۔ تو انہوں نے اپنے غلام کو بلایا جسے انہوں نے مارا تھا ۔ انہوں نے اس کی پیٹھ سے کپڑا ہٹایا ۔ کہا: کیا تمہیں تکلیف ہو رہی ہے ؟ اس نے کہا: نہیں ۔ تو انہوں نے غلام کو آزاد کر دیا ، پھرتنکا زمین سے اٹھا کر کہا کہ مجھے اس کا اتنا بھی اجر نہیں ملے گا جتنا اس تنکے کا وزن ہے ۔ میں نے کہا: اے ابوعبدالرحمان ! آپ ایسا کیوں کہتے ہیں ۔ کہا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”جو شخص اپنے غلام کو بےقصور حد لگائے یا اس کی چہرے پر طمانچہ مار دے“ اور ایک روایت میں ہے : ”جس نے اپنے غلام کے چہرے پر تھپڑ مارا یا اسے ایسی حد لگائی جس کا اس نے ارتکا ب نہیں کیا تو اس کا کفارہ یہ ہے کہ اسے آزاد کر دے ۔“

حوالہ حدیث صحيح الادب المفرد / حدیث: 133
تخریج حدیث (صحيح)