صحيح الادب المفرد
— حصہ اول : احادیث 1 سے 249
باب من لطم عبده فليعتقه من غير إيجاب باب: جو اپنے غلام کو طمانچہ مارے اسے چاہیے کہ اسے آزاد کر دے لیکن یہ واجب نہیں ہے
حدیث نمبر: 132M2
132c/176 وفي أخرى عن أبي شعبة عن سويد بن مقرن المزني - ورأى رجلا لطم غلامه - فقال : أما علمت أن الصورة محرمة ؟ رأيتني وإني سابع سبعة إخوة ، على عهد أن رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم ، ما لنا إلا خادم ، فلطمه أحدنا ، فأمرنا النبي صلی اللہ علیہ وسلم ان نعتقه / ۱۷۹ .ترجمہ:مولانا عثمان منیب
اور ایک دوسری روایت میں ہے : ابوشعبہ ، سیدنا سوید بن مقرن مزنی رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں — انہوں نے ایک آدمی کو دیکھا جس نے اپنے غلام کو تھپڑ مارا تھا — تو فرمایا : کیا تمہیں معلوم نہیں کہ چہرہ حرمت والا ہے (اس پر مارنا حرام ہے) ؟ میں نے اپنے آپ کو دیکھا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں میں سات بھائیوں میں سے ساتواں تھا ، ہمارے پاس صرف ایک خادم تھا ، ہم میں سے ایک نے اسے تھپڑ مار دیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ ہم اسے آزاد کر دیں ۔