صحيح الادب المفرد
— حصہ اول : احادیث 1 سے 249
باب من لطم عبده فليعتقه من غير إيجاب باب: جو اپنے غلام کو طمانچہ مارے اسے چاہیے کہ اسے آزاد کر دے لیکن یہ واجب نہیں ہے
132b/176 لطمت مولی لنا فقير ، فدعاني أبي فقال (له) : اقتص ، كنا ولد مقرن سبعة ، لنا خادم فلطمها أحدنا ، فذكر ذلك للنبي صلی اللہ علیہ وسلم فقال : ”مرهم فليعتقوها .“ فقيل للنبي صلی اللہ علیہ وسلم : ليس لهم خادم غيرها . قال : فليستخدموها ، فإذا استغنوا خلوا سبيلها / ۱۷۸ .(معاویہ بن سوید بن مقرن کہتے ہیں :) میں نے ہمارے ایک غلام کو تھپڑ مارا تو وہ بھاگ گیا ، میرے والد نے مجھے بلایا اور اس (غلام) سے کہا : اس سے بدلہ لے لو ۔ (پھر فرمایا :) ہم مقرن کی اولاد سات (بھائی) تھے ، ہماری ایک ہی خادمہ تھی ، ہم میں سے ایک نے اسے تھپڑ مار دیا ، یہ بات نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ذکر کی گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”انہیں حکم دو کہ اسے آزاد کر دیں ۔“ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا گیا : ان کے پاس اس کے علاوہ کوئی خادم نہیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”تو وہ اس سے خدمت لیتے رہیں ، جب (اس سے) بے نیاز ہو جائیں تو اسے آزاد کر دیں ۔“