حدیث نمبر: 132
132/176 عن هلال بن يساف قال: كنا نبيع البزّ في دار سويد بن مقرن، فخرجت جارية، فقالت لرجل شيئاً، فلطمها ذلك الرجل. فقال له سويد بن مقرن: ألطمت وجهها؟! لقد رأيتني سابع سبعة وما لنا إلا خادم فلطمها بعضنا، فأمره النبي صلى الله عليه وسلم أن يعتقها.
ترجمہ:مولانا عثمان منیب

ہلال بن یساف کہتے ہیں کہ ہم سوید بن مقرن کے گھر میں کپڑا فروخت کر رہے تھے ۔ ایک لونڈی نکلی ، اس نے کسی آدمی کو کو ئی بات کہہ دی ۔ اس آدمی نے لونڈی کو طمانچہ مار دیا تو سوید بن مقرن نے اس سے کہا: کیا تم نے اس کے منہ پر طمانچہ مار دیا ؟ میں نے اپنے آپ کو سات اشخاص میں سے ایک پایا (یعنی ہم لوگ سات آدمی تھے ) اور ہمارے پاس ایک ہی خادم تھا ۔ ہم میں سے ایک آدمی نے اسے طمانچہ مار دیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ اسے آزاد کر دیا جائے ۔

حوالہ حدیث صحيح الادب المفرد / حدیث: 132
تخریج حدیث (صحيح)