کتب حدیثسنن نسائيابوابباب: حاکم قسم (حلف) کیسے لے؟
حدیث نمبر: 5428
أَخْبَرَنَا سَوُّارُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مَرْحُومُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، عَنْ أَبِي نَعَامَةَ ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : قَالَ مُعَاوِيَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : إِنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ عَلَى حَلْقَةٍ يَعْنِي مِنْ أَصْحَابِهِ ، فَقَالَ : " مَا أَجْلَسَكُمْ ؟ " , قَالُوا : جَلَسْنَا نَدْعُو اللَّهَ , وَنَحْمَدُهُ عَلَى مَا هَدَانَا لِدِينِهِ وَمَنَّ عَلَيْنَا بِكَ ، قَالَ : " آللَّهِ مَا أَجْلَسَكُمْ إِلَّا ذَلِكَ ؟ " ، قَالُوا : آللَّهِ مَا أَجْلَسَنَا إِلَّا ذَلِكَ ، قَالَ : " أَمَا إِنِّي لَمْ أَسْتَحْلِفْكُمْ تُهَمَةً لَكُمْ ، وَإِنَّمَا أَتَانِي جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام , فَأَخْبَرَنِي أَنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يُبَاهِي بِكُمُ الْمَلَائِكَةَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` معاویہ رضی اللہ عنہ نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ کے حلقے کی طرف نکل کر آئے اور فرمایا : ” کیوں بیٹھے ہو ؟ “ وہ بولے : ہم بیٹھے ہیں ، اللہ سے دعا کر رہے ہیں ، اس کا شکر ادا کر رہے ہیں کہ اس نے ہمیں اپنے دین کی ہدایت بخشی اور آپ کے ذریعے ہم پر احسان فرمایا ، آپ نے فرمایا : ” اللہ کی قسم ! ۲؎ تم اسی لیے بیٹھے ہو ؟ “ وہ بولے : اللہ کی قسم ! ہم اسی لیے بیٹھے ہیں ، آپ نے فرمایا : ” سنو ، میں نے تم سے قسم اس لیے نہیں لی کہ تمہیں جھوٹا سمجھا ، بلکہ میرے پاس جبرائیل آئے اور مجھے بتایا کہ اللہ تعالیٰ اپنے فرشتوں پر تمہاری وجہ سے فخر کرتا ہے “ ۔
وضاحت:
۱؎: یعنی جب کسی معاملہ میں قاضی کو قسم لینے کی ضرورت ہو تو کن الفاظ کے ساتھ قسم لے۔ ۲؎: اسی لفظ میں باب سے مناسبت ہے، یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم لفظ «واللہ» سے قسم کھایا یا لیا کرتے تھے۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب آداب القضاة / حدیث: 5428
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج حدیث «صحیح مسلم/الدعوات (الذکر والدعاء) 11 (2701)، سنن الترمذی/الدعوات 7 (3379)، (تحفة الأشراف: 11416)، مسند احمد (4/92) (صحیح)»
حدیث نمبر: 5429
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَفْصٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبِي ، قَالَ : حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ سُلَيْمٍ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " رَأَى عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ عَلَيْهِ السَّلَام رَجُلًا يَسْرِقُ ، فَقَالَ لَهُ : أَسَرَقْتَ ؟ قَالَ : لَا , وَاللَّهِ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ ، قَالَ عِيسَى عَلَيْهِ السَّلَام : آمَنْتُ بِاللَّهِ وَكَذَّبْتُ بَصَرِي " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” عیسیٰ بن مریم علیہ السلام نے ایک شخص کو چوری کرتے دیکھا ، تو اس سے پوچھا : کیا تم نے چوری کی ؟ وہ بولا : نہیں ، اس اللہ کی قسم جس کے سوا کوئی حقیقی معبود نہیں ۱؎ ، عیسیٰ علیہ السلام نے کہا : میں نے یقین کیا اللہ پر اور جھوٹا سمجھا اپنی آنکھ کو ۔
وضاحت:
۱؎: اس حدیث میں یہی قسم کے الفاظ ہیں، ان الفاظ کے ساتھ بھی کبھی کبھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قسم کھایا یا لیا کرتے تھے، دونوں حدیثوں میں مذکور دونوں الفاظ کے علاوہ بھی کچھ الفاظ کے ذریعہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم قسم کھایا یا کرتے تھے جیسے «لا ومصرف القلوب» ، «لا ومقلب القلوب» وغیرہ۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب آداب القضاة / حدیث: 5429
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج حدیث «صحیح البخاری/الٔلنبیاء 48 (3444 تعلیقًا)، (تحفة الٔاشراف: 14223)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الفضائل40 (2368)، سنن ابن ماجہ/الکفارات 4 (2102)، مسند احمد (2/314، 383) (صحیح)»