کتب حدیثسنن نسائيابوابباب: جس کا کوئی گواہ نہ ہو اس کے بارے میں کیوں کر فیصلہ ہو۔
حدیث نمبر: 5426
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي مُوسَى : " أَنَّ رَجُلَيْنِ اخْتَصَمَا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي دَابَّةٍ لَيْسَ لِوَاحِدٍ مِنْهُمَا بَيِّنَةٌ فَقَضَى بِهَا بَيْنَهُمَا نِصْفَيْنِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` دو لوگ ایک جانور کے بارے میں جھگڑا لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچے ، ان میں سے کسی کے پاس کوئی گواہ نہ تھا ، تو آپ نے اس کے آدھا کیے جانے کا فیصلہ کیا ۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب آداب القضاة / حدیث: 5426
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج حدیث «سنن ابی داود/الٔرقضیة 22 (3613)، سنن ابن ماجہ/الٔوحکام 11 (2330)، (تحفة الأشراف: 9088)، مسند احمد (4/403) (ضعیف) (اس روایت کی سند اور متن دونوں میں سخت اختلاف ہے، اس کا مرسل ہونا ہی صحیح ہے، دیکھیے الإرواء رقم 2656)»