کتب حدیثسنن نسائيابوابباب: ایک قضیہ میں دو فیصلہ کرنا منع ہے۔
حدیث نمبر: 5423
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مَنْصُورِ بْنِ جَعْفَرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُبَشِّرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ حُسَيْنٍ ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ إِيَاسٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ ، وَكَانَ عَامِلًا عَلَى سِجِسْتَانَ ، قَالَ : كَتَبَ إِلَيَّ أَبُو بَكْرَةَ , يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " لَا يَقْضِيَنَّ أَحَدٌ فِي قَضَاءٍ بِقَضَاءَيْنِ ، وَلَا يَقْضِي أَحَدٌ بَيْنَ خَصْمَيْنِ وَهُوَ غَضْبَانُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبدالرحمٰن بن ابوبکرہ ( سجستان کے گورنر تھے ) کہتے ہیں کہ` مجھے ابوبکرہ رضی اللہ عنہ نے لکھ بھیجا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے : ” کوئی ایک قضیہ میں دو فیصلے نہ کرے ۱؎ ، اور نہ کوئی دو فریقوں کے درمیان غصے کی حالت میں فیصلہ کرے “ ۔
وضاحت:
۱؎: کیونکہ قضاء کا مقدمہ جھگڑے کو ختم کرنا ہے، اور ایک ہی معاملہ میں دو طرح کے فیصلے سے جھگڑا ختم نہیں ہوتا۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب آداب القضاة / حدیث: 5423
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج حدیث «انظر حدیث رقم: 5408 (صحیح)»