حدیث نمبر: 5418
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُرْوَةَ أَنَّهُ حَدَّثَهُ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الزُّبَيْرِ حَدَّثَهُ ، أَنَّ رَجُلَا مِنْ الْأَنْصَارِ خَاصَمَ الزُّبَيْرَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي شِرَاجِ الْحَرَّةِ الَّتِي يَسْقُونَ بِهَا النَّخْلَ ، فَقَالَ الْأَنْصَارِيُّ : سَرِّحِ الْمَاءَ يَمُرَّ فَأَبَى عَلَيْهِ ، فَاخْتَصَمُوا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اسْقِ يَا زُبَيْرُ ، ثُمَّ أَرْسِلِ الْمَاءَ إِلَى جَارِكَ " , فَغَضِبَ الْأَنْصَارِيُّ , فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ , أَنْ كَانَ ابْنَ عَمَّتِكَ ؟ فَتَلَوَّنَ وَجْهُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ثُمَّ قَالَ : " يَا زُبَيْرُ اسْقِ ثُمَّ احْبِسْ الْمَاءَ حَتَّى يَرْجِعَ إِلَى الْجَدْرِ " ، قَالَ الزُّبَيْرُ : إِنِّي أَحْسَبُ أَنَّ هَذِهِ الْآيَةَ نَزَلَتْ فِي ذَلِكَ فَلا وَرَبِّكَ لا يُؤْمِنُونَ سورة النساء آية 65 الْآيَةَ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ` انصار کے ایک شخص نے زبیر رضی اللہ عنہ سے حرہ کی نالیوں کے سلسلے میں جھگڑا کیا ، ( جن سے وہ باغ کی سینچائی کرتے تھے ) اور مقدمہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے کر آئے ، انصاری نے کہا : پانی کو بہتا چھوڑ دو ، تو انہوں نے انکار کیا ، ان دونوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مقدمہ پیش کیا ، تو آپ نے فرمایا : ” زبیر ! سینچائی کر لو پھر پانی اپنے پڑوسی کے لیے چھوڑ دو “ ، انصاری کو غصہ آ گیا ، وہ بولا : اللہ کے رسول ! وہ آپ کے پھوپھی زاد ہیں نا ؟ یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے کا رنگ بدل گیا ، پھر آپ نے فرمایا : ” زبیر ! سینچائی کرو ، اور پانی مینڈوں تک روک لو “ ، زبیر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : میرا خیال ہے کہ یہ آیت : «فلا وربك لا يؤمنون» ” نہیں ، تمہارے رب کی قسم ! وہ مومن نہیں ہوں گے “ ( النساء : ۶۵ ) اسی سلسلے میں اتری ۔