حدیث نمبر: 5417
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ عَوْفٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي حَمْزَةُ أَبُو عُمَرَ الْعَائِذِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَلْقَمَةُ بْنُ وَائِلٍ ، عَنْ وَائِلٍ ، قَالَ : شَهِدْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ جَاءَ بِالْقَاتِلِ يَقُودُهُ وَلِيُّ الْمَقْتُولِ فِي نِسْعَةٍ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِوَلِيِّ الْمَقْتُولِ : " أَتَعْفُو ؟ " قَالَ : لَا ، قَالَ : " فَتَأْخُذُ الدِّيَةَ ؟ " قَالَ : لَا ، قَالَ : " فَتَقْتُلُهُ ؟ " قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : " اذْهَبْ بِهِ " , فَلَمَّا ذَهَبَ فَوَلَّى مِنْ عِنْدِهِ دَعَاهُ ، فَقَالَ : " أَتَعْفُو " قَالَ : لَا ، قَالَ : " فَتَأْخُذُ الدِّيَةَ ؟ " قَالَ : لَا ، قَالَ : " فَتَقْتُلُهُ ؟ " قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : " اذْهَبْ بِهِ " , فَلَمَّا ذَهَبَ فَوَلَّى مِنْ عِنْدِهِ دَعَاهُ ، فَقَالَ : " أَتَعْفُو ؟ " قَالَ : لَا ، قَالَ : " فَتَأْخُذُ الدِّيَةَ ؟ " قَالَ : لَا ، قَالَ : " فَتَقْتُلُهُ ؟ " قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : " اذْهَبْ بِهِ " ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ ذَلِكَ : " أَمَا إِنَّكَ إِنْ عَفَوْتَ عَنْهُ يَبُوءُ بِإِثْمِهِ وَإِثْمِ صَاحِبِكَ " ، فَعَفَا عَنْهُ وَتَرَكَهُ فَأَنَا رَأَيْتُهُ يَجُرُّ نِسْعَتَهُ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´وائل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` میں اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر تھا جب قاتل کو مقتول کا ولی ایک رسی میں باندھ کر گھسیٹتا ہوا لایا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مقتول کے ولی سے فرمایا : ” کیا تم معاف کر دو گے ؟ “ وہ بولا : نہیں ، آپ نے فرمایا : ” کیا دیت لو گے ؟ “ وہ بولا : نہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تو اسے قتل کرو گے ؟ “ کہا : جی ہاں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اسے لے جاؤ “ ( اور قتل کرو ) جب وہ چلا اور آپ کے پاس سے چلا گیا تو آپ نے اسے بلایا اور فرمایا : ” کیا معاف کر دو گے ؟ “ کہا : نہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” دیت لو گے ؟ “ کہا : نہیں ، آپ نے فرمایا : ” تو اسے قتل کرو گے ؟ “ کہا : ہاں ، آپ نے فرمایا : ” لے جاؤ اسے “ ( اور قتل کرو ) جب وہ چلا اور آپ کے پاس سے چلا گیا تو آپ نے اسے بلایا اور فرمایا : ” کیا معاف کر دو گے ؟ “ کہا : نہیں ، آپ نے فرمایا : ” دیت لو گے ؟ “ کہا : نہیں ، آپ نے فرمایا : ” تو اسے قتل کرو گے ؟ “ کہا : ہاں ، آپ نے فرمایا : ” لے جاؤ اسے “ ( اور قتل کرو ) پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت فرمایا : ” اگر تم اسے معاف کر دو تو یہ اپنے گناہ اور تمہارے ( مقتول ) ساتھی کے گناہ سمیٹ لے گا “ ، یہ سن کر اس نے معاف کر دیا اور اسے چھوڑ دیا ، میں نے دیکھا کہ وہ اپنی رسی کھینچ رہا تھا ۔