أَخْبَرَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَسَنِ ، عَنْ حَجَّاجٍ ، قَالَ : قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ : أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرًا ، يَقُولُ : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ ضِرَابِ الْجَمَلِ ، وَعَنْ بَيْعِ الْمَاءِ ، وَبَيْعِ الْأَرْضِ لِلْحَرْثِ يَبِيعُ الرَّجُلُ أَرْضَهُ وَمَاءَهُ , فَعَنْ ذَلِكَ نَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اونٹ سے جفتی کرانے پر اجرت لینے سے ، پانی بیچنے اور زمین کو بٹائی پر دینے سے ۱؎ یعنی آدمی اپنی زمین اور پانی کو بیچ دے تو ان سب سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا ۔
وضاحت:
۱؎: اس بٹائی سے مراد وہ معاملہ ہے جس میں زمین والا زمین کے کسی خاص حصے کی پیداوار لینا چاہے، کیونکہ آدھے پر بٹائی کا معاملہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود اہل خیبر سے کیا تھا۔
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْحَكَمِ . ح وَأَنْبَأَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْحَكَمِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ عَسْبِ الْفَحْلِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نر کو مادہ پر چھوڑنے کی اجرت لینے سے منع فرمایا ۔
أَخْبَرَنَا عِصْمَةُ بْنُ الْفَضْلِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ حُمَيْدٍ الرُّوَاسِيِّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : " جَاءَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي الصَّعْقِ أَحَدِ بَنِي كِلَابٍ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَسَأَلَهُ عَنْ عَسْبِ الْفَحْلِ فَنَهَاهُ عَنْ ذَلِكَ ، فَقَالَ : إِنَّا نُكْرِمُ عَلَى ذَلِكَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` بنی کلاب کی شاخ بنی صعق کا ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور آپ سے نر کو مادہ پر چھوڑنے کی اجرت لینے کے بارے میں سوال کیا ، تو آپ نے اسے اس سے منع فرمایا ، اس نے کہا : ہمیں تو اس کی وجہ سے تحفے ملتے ہیں ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ الْمُغِيرَةِ ، قَالَ : سَمِعْتُ ابْنَ أَبِي نُعْمٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ كَسْبِ الْحَجَّامِ , وَعَنْ ثَمَنِ الْكَلْبِ , وَعَنْ عَسْبِ الْفَحْلِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پچھنا لگانے کی کمائی سے ، کتے کی قیمت سے اور نر کو مادہ پر چھوڑنے کی اجرت سے منع فرمایا ۔
أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ مَيْمُونٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ ابْنِ أَبِي نُعْمٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ عَسْبِ الْفَحْلِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نر کو مادہ پر چھوڑنے کی اجرت سے منع فرمایا ۔
أَخْبَرَنَا وَاصِلُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ثَمَنِ الْكَلْبِ وَعَسْبِ الْفَحْلِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کتے کی قیمت سے اور نر کو مادہ پر چھوڑنے کی اجرت سے منع فرمایا ۔