کتب حدیث ›
سنن نسائي › ابواب
› باب: سب سے بڑے گناہ کا بیان (واصل عن ابی وائل عن عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کی سفیان سے روایت کرنے میں یحییٰ اور عبدالرحمٰن کے اختلاف کا ذکر)۔
حدیث نمبر: 4018
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ وَاصِلٍ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُرَحْبِيلَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ , أَيُّ الذَّنْبِ أَعْظَمُ ؟ قَالَ : " أَنْ تَجْعَلَ لِلَّهِ نِدًّا وَهُوَ خَلَقَكَ " . قُلْتُ : ثُمَّ مَاذَا ؟ قَالَ : " أَنْ تَقْتُلَ وَلَدَكَ خَشْيَةَ أَنْ يَطْعَمَ مَعَكَ " . قُلْتُ : ثُمَّ مَاذَا ؟ قَالَ : " أَنْ تُزَانِيَ بِحَلِيلَةِ جَارِكَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! کون سا گناہ بڑا ہے ؟ آپ نے فرمایا : ” یہ کہ تم کسی کو اللہ کے برابر ( ہم پلہ ) ٹھہراؤ حالانکہ اس نے تمہیں پیدا کیا ہے “ ، میں نے عرض کیا : پھر کون سا ؟ آپ نے فرمایا : ” یہ کہ تم اس ڈر سے اپنے بچے کو مار ڈالو کہ وہ تمہارے ساتھ کھائے گا “ ۔ میں نے عرض کیا : پھر کون سا ؟ آپ نے فرمایا کہ ” تم اپنے پڑوسی کی بیوی سے زنا کرو “ ۔
حدیث نمبر: 4019
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ : حَدَّثَنِي وَاصِلٌ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ , أَيُّ الذَّنْبِ أَعْظَمُ ؟ قَالَ : " أَنْ تَجْعَلَ لِلَّهِ نِدًّا وَهُوَ خَلَقَكَ " . قُلْتُ : ثُمَّ أَيٌّ ؟ قَالَ : " أَنْ تَقْتُلَ وَلَدَكَ مِنْ أَجْلِ أَنْ يَطْعَمَ مَعَكَ " . قُلْتُ : ثُمَّ أَيٌّ ؟ قَالَ : " ثُمَّ أَنْ تُزَانِيَ بِحَلِيلَةِ جَارِكَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! کون سا گناہ سب سے بڑا ہے ؟ آپ نے فرمایا : ” یہ کہ تم کسی کو اللہ کے برابر ٹھہراؤ حالانکہ اس نے تم کو پیدا کیا ہے “ ۔ میں نے عرض کیا : پھر کون سا ؟ آپ نے فرمایا : ” یہ کہ تم اپنے بچے کو اس وجہ سے مار ڈالو کہ وہ تمہارے ساتھ کھائے گا “ ۔ میں نے عرض کیا : پھر کون سا ؟ آپ نے فرمایا : ” یہ کہ تم اپنے پڑوسی کی بیوی کے ساتھ زنا کرو “ ۔
حدیث نمبر: 4020
أَخْبَرَنَا عَبْدَةُ ، قَالَ : أَنْبَأَنَا يَزِيدُ ، قَالَ : أَنْبَأَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيُّ الذَّنْبِ أَعْظَمُ ؟ قَالَ : " الشِّرْكُ : أَنْ تَجْعَلَ لِلَّهِ نِدًّا ، وَأَنْ تُزَانِيَ بِحَلِيلَةِ جَارِكَ ، وَأَنْ تَقْتُلَ وَلَدَكَ مَخَافَةَ الْفَقْرِ أَنْ يَأْكُلَ مَعَكَ " . ثُمَّ قَرَأَ عَبْدُ اللَّهِ : وَالَّذِينَ لا يَدْعُونَ مَعَ اللَّهِ إِلَهًا آخَرَ سورة الفرقان آية 68 . قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ : هَذَا خَطَأٌ , وَالصَّوَابُ الَّذِي قَبْلَهُ ، وَحَدِيثُ يَزِيدَ هَذَا خَطَأٌ , إِنَّمَا هُوَ وَاصِلٌ ، وَاللَّهُ تَعَالَى أَعْلَمُ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا : کون سا گناہ سب سے بڑا ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” شرک یعنی یہ کہ تم کسی کو اللہ کے برابر ٹھہراؤ ، اپنے پڑوسی کی بیوی سے زنا کرو ، اور فقر و فاقہ کے ڈر سے کہ بچہ تمہارے ساتھ کھائے گا تم اپنے بچے کو قتل کر دو “ ، پھر عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے یہ آیت پڑھی «والذين لا يدعون مع اللہ إلها آخر» ” اور جو لوگ اللہ کے ساتھ کسی دوسرے معبود کو نہیں پکارتے ہیں “ ۔ ابوعبدالرحمٰن ( نسائی ) کہتے ہیں : اس حدیث کی سند میں غلطی ہے ، اس سے پہلے والی سند صحیح ہے ، یزید کی اس سند میں غلطی ہے ( کہ واصل کی بجائے عاصم ہے ) صحیح «واصل» ہے ۔