کتب حدیث ›
سنن نسائي › ابواب
› باب: سب سے بڑے گناہ کا بیان (واصل عن ابی وائل عن عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کی سفیان سے روایت کرنے میں یحییٰ اور عبدالرحمٰن کے اختلاف کا ذکر)۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ وَاصِلٍ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُرَحْبِيلَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ , أَيُّ الذَّنْبِ أَعْظَمُ ؟ قَالَ : " أَنْ تَجْعَلَ لِلَّهِ نِدًّا وَهُوَ خَلَقَكَ " . قُلْتُ : ثُمَّ مَاذَا ؟ قَالَ : " أَنْ تَقْتُلَ وَلَدَكَ خَشْيَةَ أَنْ يَطْعَمَ مَعَكَ " . قُلْتُ : ثُمَّ مَاذَا ؟ قَالَ : " أَنْ تُزَانِيَ بِحَلِيلَةِ جَارِكَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! کون سا گناہ بڑا ہے ؟ آپ نے فرمایا : ” یہ کہ تم کسی کو اللہ کے برابر ( ہم پلہ ) ٹھہراؤ حالانکہ اس نے تمہیں پیدا کیا ہے “ ، میں نے عرض کیا : پھر کون سا ؟ آپ نے فرمایا : ” یہ کہ تم اس ڈر سے اپنے بچے کو مار ڈالو کہ وہ تمہارے ساتھ کھائے گا “ ۔ میں نے عرض کیا : پھر کون سا ؟ آپ نے فرمایا کہ ” تم اپنے پڑوسی کی بیوی سے زنا کرو “ ۔
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ : حَدَّثَنِي وَاصِلٌ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ , أَيُّ الذَّنْبِ أَعْظَمُ ؟ قَالَ : " أَنْ تَجْعَلَ لِلَّهِ نِدًّا وَهُوَ خَلَقَكَ " . قُلْتُ : ثُمَّ أَيٌّ ؟ قَالَ : " أَنْ تَقْتُلَ وَلَدَكَ مِنْ أَجْلِ أَنْ يَطْعَمَ مَعَكَ " . قُلْتُ : ثُمَّ أَيٌّ ؟ قَالَ : " ثُمَّ أَنْ تُزَانِيَ بِحَلِيلَةِ جَارِكَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! کون سا گناہ سب سے بڑا ہے ؟ آپ نے فرمایا : ” یہ کہ تم کسی کو اللہ کے برابر ٹھہراؤ حالانکہ اس نے تم کو پیدا کیا ہے “ ۔ میں نے عرض کیا : پھر کون سا ؟ آپ نے فرمایا : ” یہ کہ تم اپنے بچے کو اس وجہ سے مار ڈالو کہ وہ تمہارے ساتھ کھائے گا “ ۔ میں نے عرض کیا : پھر کون سا ؟ آپ نے فرمایا : ” یہ کہ تم اپنے پڑوسی کی بیوی کے ساتھ زنا کرو “ ۔
أَخْبَرَنَا عَبْدَةُ ، قَالَ : أَنْبَأَنَا يَزِيدُ ، قَالَ : أَنْبَأَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيُّ الذَّنْبِ أَعْظَمُ ؟ قَالَ : " الشِّرْكُ : أَنْ تَجْعَلَ لِلَّهِ نِدًّا ، وَأَنْ تُزَانِيَ بِحَلِيلَةِ جَارِكَ ، وَأَنْ تَقْتُلَ وَلَدَكَ مَخَافَةَ الْفَقْرِ أَنْ يَأْكُلَ مَعَكَ " . ثُمَّ قَرَأَ عَبْدُ اللَّهِ : وَالَّذِينَ لا يَدْعُونَ مَعَ اللَّهِ إِلَهًا آخَرَ سورة الفرقان آية 68 . قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ : هَذَا خَطَأٌ , وَالصَّوَابُ الَّذِي قَبْلَهُ ، وَحَدِيثُ يَزِيدَ هَذَا خَطَأٌ , إِنَّمَا هُوَ وَاصِلٌ ، وَاللَّهُ تَعَالَى أَعْلَمُ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا : کون سا گناہ سب سے بڑا ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” شرک یعنی یہ کہ تم کسی کو اللہ کے برابر ٹھہراؤ ، اپنے پڑوسی کی بیوی سے زنا کرو ، اور فقر و فاقہ کے ڈر سے کہ بچہ تمہارے ساتھ کھائے گا تم اپنے بچے کو قتل کر دو “ ، پھر عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے یہ آیت پڑھی «والذين لا يدعون مع اللہ إلها آخر» ” اور جو لوگ اللہ کے ساتھ کسی دوسرے معبود کو نہیں پکارتے ہیں “ ۔ ابوعبدالرحمٰن ( نسائی ) کہتے ہیں : اس حدیث کی سند میں غلطی ہے ، اس سے پہلے والی سند صحیح ہے ، یزید کی اس سند میں غلطی ہے ( کہ واصل کی بجائے عاصم ہے ) صحیح «واصل» ہے ۔