کتب حدیثسنن نسائيابوابباب: زمین کو تہائی یا چوتھائی پر بٹائی دینے کی ممانعت کے سلسلے کی مختلف احادیث اور ان کے رواۃ کے الفاظ کے اختلاف کا ذکر۔
حدیث نمبر: 3933
أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ حَبِيبِ بْنِ عَرَبِيٍّ فِي حَدِيثِهِ ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ حَنْظَلَةَ بْنِ قَيْسٍ ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ ، قَالَ : " نَهَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ كِرَاءِ أَرْضِنَا وَلَمْ يَكُنْ يَوْمَئِذٍ ذَهَبٌ وَلَا فِضَّةٌ ، فَكَانَ الرَّجُلُ يُكْرِي أَرْضَهُ بِمَا عَلَى الرَّبِيعِ , وَالْأَقْبَالِ , وَأَشْيَاءَ مَعْلُومَةٍ وَسَاقَهُ " . رَوَاهُ سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ , وَاخْتُلِفَ عَلَى الزُّهْرِيِّ فِيهِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی زمین کرائے پر دینے سے منع فرمایا ، اس وقت سونا اور چاندی ( زیادہ ) نہیں تھا ۔ تو آدمی اپنی زمین کیاریوں اور نالیوں پر ہونے والی پیداوار اور متعین چیزوں کے بدلے کرایہ پر دیتا تھا ۔ اسے سالم بن عبداللہ بن عمر نے رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے ، اور اس میں زہری پر اختلاف ہوا ہے ۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب المزارعة / حدیث: 3933
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح الإسناد , شیخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج حدیث «انظر حدیث رقم: 3930 (صحیح الإسناد)»
حدیث نمبر: 3934
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَاءَ ، عَنْ جُوَيْرِيَةَ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، أَنَّ سَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ وَذَكَرَ نَحْوَهُ . تَابَعَهُ عُقَيْلُ بْنُ خَالِدٍ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´زہری سے روایت ہے کہ` سالم بن عبداللہ نے کہا ، اور پھر اسی طرح روایت بیان کی ، اور ( اس روایت میں ) عقیل بن خالد نے مالک کی متابعت کی ہے ۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب المزارعة / حدیث: 3934
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج حدیث «سنن ابی داود/البیوع 32 (3394)، (تحفة الأشراف: 15571)، مسند احمد (3/465، 143)، ویأتي عند المؤلف بأرقام: 3935، 3936، 3939) (صحیح)»
حدیث نمبر: 3935
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ جَدِّي ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عُقَيْلُ بْنُ خَالِدٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ، كَانَ يُكْرِي أَرْضَهُ , حَتَّى بَلَغَهُ أَنَّ رَافِعَ بْنَ خَدِيجٍ كَانَ يَنْهَى عَنْ كِرَاءِ الْأَرْضِ ، فَلَقِيَهُ عَبْدُ اللَّهِ , فَقَالَ : يَا ابْنَ خَدِيجٍ مَاذَا تُحَدِّثُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي كِرَاءِ الْأَرْضِ ؟ فَقَالَ رَافِعٌ لِعَبْدِ اللَّهِ : سَمِعْتُ عَمَّيَّ وَكَانَا قَدْ شَهِدَا بَدْرًا , يُحَدِّثَانِ أَهْلَ الدَّارِ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " نَهَى عَنْ كِرَاءِ الْأَرْضِ " ، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ : فَلَقَدْ كُنْتُ أَعْلَمُ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ الْأَرْضَ تُكْرَى ، ثُمَّ خَشِيَ عَبْدُ اللَّهِ أَنْ يَكُونَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحْدَثَ فِي ذَلِكَ شَيْئًا لَمْ يَكُنْ يَعْلَمُهُ ، فَتَرَكَ كِرَاءَ الْأَرْضِ . أَرْسَلَهُ شُعَيْبُ بْنُ أَبِي حَمْزَةَ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´سالم بن عبداللہ بیان کرتے ہیں کہ` عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما اپنی زمین کرائے پر اٹھاتے تھے ، یہاں تک کہ انہیں معلوم ہوا کہ رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ زمین کو کرائے پر اٹھانے سے روکتے ہیں ، تو عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے ان سے ملاقات کی اور کہا : ابن خدیج ! زمین کو کرائے پر اٹھانے کے بارے میں آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا نقل کرتے ہیں ؟ تو رافع رضی اللہ عنہ نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے کہا : میں نے اپنے دو چچاؤں کو ( کہتے ) سنا ( ان دونوں نے بدر میں شرکت کی تھی ) وہ دونوں گھر والوں سے بیان کر رہے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زمین کو کرائے پر اٹھانے سے روکا ہے ۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا : میں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں جانتا تھا کہ زمین کرائے پر اٹھائی جا سکتی ہے ، پھر عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو خوف ہوا کہ کہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سلسلے میں کوئی ایسی نئی بات کہی ہو گی جسے وہ نہ جان سکے ہوں ، چنانچہ انہوں نے زمین کو کرائے پر اٹھانا چھوڑ دیا ۔ اسے شعیب بن ابی حمزہ نے مرسلاً روایت کیا ہے ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: شعیب نے اپنی روایت میں یوں کہا ہے: «عن الزھری قال بلغنا أن رافع بن خدیج» جب کہ آگے روایت آ رہی ہے۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب المزارعة / حدیث: 3935
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج حدیث «انظر ما قبلہ (صحیح)»
حدیث نمبر: 3936
أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ خَلِيٍّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ : بَلَغَنَا أَنَّ رَافِعَ بْنَ خَدِيجٍ كَانَ يُحَدِّثُ , أَنَّ عَمَّيْهِ , وَكَانَا يَزْعُمُ شَهِدَا بَدْرًا ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " نَهَى عَنْ كِرَاءِ الْأَرْضِ " . رَوَاهُ عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ شُعَيْبٍ وَلَمْ يَذْكُرْ عَمَّيْهِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´زہری کہتے ہیں کہ` ہمیں یہ بات پہنچی ہے کہ رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ اپنے دو چچاؤں سے جو ان کے خیال میں غزوہ بدر میں شریک تھے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زمین کرائے پر اٹھانے سے منع فرمایا ۔ اسے عثمان بن سعید نے بھی شعیب سے روایت کیا ہے اور اس میں ان کے دونوں چچاؤں کا ذکر نہیں کیا ہے ۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب المزارعة / حدیث: 3936
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح لغيره , شیخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج حدیث «انظر حدیث رقم: 3934(صحیح) (سند میں انقطاع کی وجہ سے یہ روایت صحیح نہیں ہے، لیکن متابعات سے تقویت پاکر صحیح ہے)»
حدیث نمبر: 3937
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُغِيرَةِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ شُعَيْبٍ ، قَالَ الزُّهْرِيُّ : كَانَ ابْنُ الْمُسَيَّبِ يَقُولُ : لَيْسَ بِاسْتِكْرَاءِ الْأَرْضِ بِالذَّهَبِ وَالْوَرِقِ بَأْسٌ , وَكَانَ رَافِعُ بْنُ خَدِيجٍ يُحَدِّثُ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " نَهَى عَنْ ذَلِكَ " ، وَافَقَهُ عَلَى إِرْسَالِهِ عَبْدُ الْكَرِيمِ بْنُ الْحَارِثِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´زہری کہتے ہیں کہ` سعید بن مسیب کہتے تھے : سونے اور چاندی کے بدلے زمین کرائے پر اٹھانے میں کوئی مضائقہ اور حرج نہیں اور رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ بیان کرتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا ہے ۔ عبدالکریم بن حارث نے اس کے مرسل ہونے میں ان کی موافقت کی ہے ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: یعنی شعیب کی موافقت کی ہے اور یہ موافقت اس طرح ہے کہ زھری اور رافع کے درمیان سالم کا ذکر نہیں ہے جب کہ مالک اور عقیل نے سالم کا ذکر کیا ہے۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب المزارعة / حدیث: 3937
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح لغيره , شیخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج حدیث «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 3580) (صحیح) (یہ روایت منقطع ہے، زہری کی رافع رضی الله عنہ سے ملاقات نہیں ہے، لیکن سابقہ متابعات کی وجہ سے صحیح ہے)»
حدیث نمبر: 3938
قَالَ الْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ : عَنِ ابْنِ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي أَبُو خُزَيْمَةَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ طَرِيفٍ ، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ بْنِ الْحَارِثِ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، أَنَّ رَافِعَ بْنَ خَدِيجٍ ، قَالَ : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ كِرَاءِ الْأَرْضِ " ابْنُ شِهَابٍ : فَسُئِلَ رَافِعٌ بَعْدَ ذَلِكَ : كَيْفَ كَانُوا يُكْرُونَ الْأَرْضَ ؟ ، قَالَ : " بِشَيْءٍ مِنَ الطَّعَامِ مُسَمًّى , وَيُشْتَرَطُ أَنَّ لَنَا مَا تُنْبِتُ مَاذِيَانَاتُ الْأَرْضِ وَأَقْبَالُ الْجَدَاوِلِ " . رَوَاهُ نَافِعٌ ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ وَاخْتُلِفَ عَلَيْهِ فِيهِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´۱؎ : یعنی شعیب کی موافقت کی ہے اور یہ موافقت اس طرح ہے کہ زھری اور رافع کے درمیان سالم کا ذکر نہیں ہے جب کہ مالک اور عقیل نے سالم کا ذکر کیا ہے ۔` شرافع بن خدیج رضی اللہ عنہ نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زمین کرائے پر دینے سے منع فرمایا ۔ زہری کہتے ہیں : اس کے بعد رافع رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا : وہ لوگ زمین کو کرائے پر کیوں کر اٹھاتے تھے ؟ وہ بولے : غلے کی متعینہ مقدار کے بدلے میں اور اس بات کی شرط ہوتی تھی کہ ہمارے لیے وہ بھی ہو گا جو زمین میں کیاریوں اور نالیوں پر پیدا ہوتا ہے ۔ اسے نافع نے بھی رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے اور اس کی روایت میں ان کے شاگردوں میں اختلاف ہوا ہے ۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب المزارعة / حدیث: 3938
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح لغيره , شیخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج حدیث «انظر ما قبلہ (صحیح) (یہ روایت بھی منقطع ہے، لیکن سابقہ متابعت سے تقویت پاکر صحیح ہے)»
حدیث نمبر: 3939
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَزِيعٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا فُضَيْلٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي نَافِعٌ ، أَنَّ رَافِعَ بْنَ خَدِيجٍ أَخْبَرَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ، أَنَّ عُمُومَتَهُ جَاءُوا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ رَجَعُوا فَأَخْبَرُوا , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " نَهَى عَنْ كِرَاءِ الْمَزَارِعِ " ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ : قَدْ عَلِمْنَا أَنَّهُ كَانَ كُلُّ صَاحِبَ مَزْرَعَةٍ يُكْرِيهَا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى أَنَّ لَهُ مَا عَلَى الرَّبِيعِ السَّاقِي الَّذِي يَتَفَجَّرُ مِنْهُ الْمَاءُ ، وَطَائِفَةٌ مِنَ التِّبْنِ لَا أَدْرِي كَمْ هِيَ ؟ . رَوَاهُ ابْنُ عَوْنٍ ، عَنْ نَافِعٍ , فَقَالَ : عَنْ بَعْضِ عُمُومَتِهِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´نافع کا بیان ہے کہ` رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو خبر دی کہ ہمارے چچا لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئے ، پھر واپس آ کر خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھیت کرائے پر دینے سے منع فرمایا ہے ، تو عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا : ہمیں معلوم ہے کہ وہ ( رافع ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں زمین والے تھے ، اور اسے کرائے پر اس شرط پر دیتے تھے کہ جو کچھ اس کی کیاریوں کے کناروں پر جہاں سے پانی ہو کر گزرتا ہے پیدا ہو گا اور کچھ گھاس ( چارہ ) جس کی مقدار انہیں معلوم نہیں ان کی ہو گی ۔ اسے ابن عون نے بھی نافع سے روایت کیا ہے لیکن اس میں ( «عمومتہ» کے بجائے ) «بعض عمومتہ» کہا ہے ۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب المزارعة / حدیث: 3939
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح الإسناد , شیخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج حدیث «انظر حدیث رقم: 3935 (صحیح الإسناد)»
حدیث نمبر: 3940
أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، قَالَ : أَنْبَأَنَا ابْنُ عَوْنٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، كَانَ ابْنُ عُمَرَ يَأْخُذُ كِرَاءَ الْأَرْضِ , فَبَلَغَهُ عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ شَيْءٌ ، فَأَخَذَ بِيَدِي ، فَمَشَى إِلَى رَافِعٍ , وَأَنَا مَعَهُ , فَحَدَّثَهُ رَافِعٌ , عَنْ بَعْضِ عُمُومَتِهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " نَهَى عَنْ كِرَاءِ الْأَرْضِ " ، فَتَرَكَ عَبْدُ اللَّهِ بَعْدُ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´نافع سے روایت ہے کہ` ابن عمر رضی اللہ عنہما زمین کا کرایہ لیتے تھے ، انہیں رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کی کوئی بات سننے کو ملی تو انہوں نے میرا ہاتھ پکڑا اور رافع رضی اللہ عنہ کے پاس گئے اور میں ان کے ساتھ تھا ، تو رافع رضی اللہ عنہ نے ان سے اپنے کسی چچا سے روایت کرتے ہوئے ( یہ حدیث بیان کی ) کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زمین کرائے پر دینے سے منع فرمایا ہے ، اس کے بعد عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اسے ترک کر دیا ۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب المزارعة / حدیث: 3940
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج حدیث «انظر حدیث رقم: 3926 (صحیح)»
حدیث نمبر: 3941
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاق الْأَزْرَقُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّهُ كَانَ يَأْخُذُ كِرَاءَ الْأَرْضِ حَتَّى حَدَّثَهُ رَافِعٌ ، عَنْ بَعْضِ عُمُومَتِهِ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " نَهَى عَنْ كِرَاءِ الْأَرْضِ " ، فَتَرَكَهَا بَعْدُ . رَوَاهُ أَيُّوبُ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ رَافِعٍ ، وَلَمْ يَذْكُرْ عُمُومَتَهُ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ` وہ زمین کا کرایہ لیتے تھے ، یہاں تک کہ رافع رضی اللہ عنہ نے اپنے کسی چچا سے روایت کرتے ہوئے ان سے حدیث بیان کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زمین کرائیے پر دینے سے منع فرمایا ہے ۔ چنانچہ اس کے بعد انہوں نے اسے ترک کر دیا ۔ اسے ایوب نے نافع سے ، انہوں نے رافع رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے اور ان کے چچاؤں کا تذکرہ نہیں کیا ہے ۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب المزارعة / حدیث: 3941
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج حدیث «انظر حدیث رقم: 3926 (صحیح)»
حدیث نمبر: 3942
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَزِيعٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ وَهُوَ ابْنُ زُرَيْعٍ , قَالَ : حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ نَافِعٍ ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ كَانَ يُكْرِي مَزَارِعَهُ , حَتَّى بَلَغَهُ فِي آخِرِ خِلَافَةِ مُعَاوِيَةَ ، أَنَّ رَافِعَ بْنَ خَدِيجٍ يُخْبِرُ فِيهَا بِنَهْيِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَتَاهُ وَأَنَا مَعَهُ فَسَأَلَهُ ، فَقَالَ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْهَى عَنْ كِرَاءِ الْمَزَارِعِ " ، فَتَرَكَهَا ابْنُ عُمَرَ بَعْدُ فَكَانَ إِذَا سُئِلَ عَنْهَا ، قَالَ : زَعَمَ رَافِعُ بْنُ خَدِيجٍ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْهَا . وَافَقَهُ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، وَكَثِيرُ بْنُ فَرْقَدٍ ، وَجُوَيْرِيَةُ بْنُ أَسْمَاءَ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´نافع سے روایت ہے کہ` ابن عمر رضی اللہ عنہما اپنے کھیت کرایہ پر اٹھاتے تھے ، یہاں تک کہ معاویہ رضی اللہ عنہ کی خلافت کے آخری دور میں انہیں معلوم ہوا کہ اس سلسلے میں رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ممانعت نقل کرتے ہیں تو وہ ان کے پاس آئے ، میں ان کے ساتھ تھا ، انہوں نے رافع سے پوچھا تو انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھیتوں کو کرائے پر دینے سے منع فرماتے تھے ۔ اس کے بعد ابن عمر رضی اللہ عنہما نے اسے ترک کر دیا ، پھر جب ان سے اس کے متعلق پوچھا جاتا تو کہتے کہ رافع رضی اللہ عنہ کا کہنا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے روکا ہے ۔ ایوب کی موافقت عبیداللہ بن عمر ، کثیر بن فرقد اور جویریہ بن اسماء نے بھی کی ہے ۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب المزارعة / حدیث: 3942
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج حدیث «صحیح البخاری/الإجارة 22 (2285)، الحرث 18 (2343)، صحیح مسلم/البیوع 17 (1548)، سنن ابی داود/البیوع 32 (3394 تعلیقًا)، سنن ابن ماجہ/الرہون 8 (243)، (تحفة الأشراف: 3586)، مسند احمد (2/64، 3/464، 465، 4/140)، ویأتي عند المؤلف بأرقام: 3943-3946) (صحیح)»
حدیث نمبر: 3943
أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ بْنِ أَعْيَنَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعَيْبُ بْنُ اللَّيْثِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ فَرْقَدٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ كَانَ يُكْرِي الْمَزَارِعَ , فَحُدِّثَ أَنَّ رَافِعَ بْنَ خَدِيجٍ يَأْثُرُ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ نَهَى عَنْ ذَلِكَ ، قَالَ نَافِعٌ : فَخَرَجَ إِلَيْهِ عَلَى الْبَلَاطِ وَأَنَا مَعَهُ فَسَأَلَهُ ؟ فَقَالَ : نَعَمْ ، " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ كِرَاءِ الْمَزَارِعِ " , فَتَرَكَ عَبْدُ اللَّهِ كِرَاءَهَا .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´نافع سے روایت ہے کہ` عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کھیتوں کو کرائیے پر دیتے تھے ، ان سے کہا گیا کہ رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ نقل کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے روکا ہے ۔ نافع کہتے ہیں کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما مقام بلاط کی طرف نکلے ، میں ان کے ساتھ تھا ، تو آپ نے رافع رضی اللہ عنہ سے پوچھا تو انہوں نے کہا کہ ہاں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھیتوں کو کرائے پر دینے سے روکا ہے ، چنانچہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اسے کرائے پر دینا چھوڑ دیا ۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب المزارعة / حدیث: 3943
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح الإسناد , شیخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج حدیث «انظر حدیث رقم: 3942 (صحیح الإسناد)»
حدیث نمبر: 3944
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ مَسْعُودٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا خَالِدٌ وَهُوَ ابْنُ الْحَارِثِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، عَنْ نَافِعٍ ، أَنَّ رَجُلًا أَخْبَرَ ابْنَ عُمَرَ ، أَنَّ رَافِعَ بْنَ خَدِيجٍ يَأْثُرُ فِي كِرَاءِ الْأَرْضِ حَدِيثًا ، فَانْطَلَقْتُ مَعَهُ أَنَا , وَالرَّجُلُ الَّذِي أَخْبَرَهُ , حَتَّى أَتَى رَافِعًا فَأَخْبَرَهُ رَافِعٌ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " نَهَى عَنْ كِرَاءِ الْأَرْضِ " , فَتَرَكَ عَبْدُ اللَّهِ كِرَاءَ الْأَرْضِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´نافع سے روایت ہے کہ` ایک آدمی نے ابن عمر رضی اللہ عنہما کو بتایا کہ رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ زمین کو کرائے پر دینے کے سلسلے میں حدیث بیان کرتے ہیں ، تو میں اور وہ شخص جس نے انہیں بتایا تھا ان کے ساتھ چلے یہاں تک کہ وہ رافع رضی اللہ عنہ کے پاس آئے ، تو انہوں نے بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زمین کرائے پر دینے سے منع فرمایا ہے ، چنانچہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے زمین کرائے پر اٹھانی چھوڑ دی ۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب المزارعة / حدیث: 3944
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح الإسناد , شیخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج حدیث «انظر حدیث رقم: 3942 (صحیح الإسناد)»
حدیث نمبر: 3945
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ الْمُقْرِئُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبِي ، قَالَ : حَدَّثَنَا جُوَيْرِيَةُ ، عَنْ نَافِعٍ , أَنَّ رَافِعَ بْنَ خَدِيجٍ حَدَّثَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " نَهَى عَنْ كِرَاءِ الْمَزَارِعِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´نافع سے روایت ہے کہ` رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے حدیث بیان کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھیتوں کو کرائے پر اٹھانے سے منع فرمایا ہے ۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب المزارعة / حدیث: 3945
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح الإسناد , شیخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج حدیث «انظر حدیث رقم: 3942 (صحیح الإسناد)»
حدیث نمبر: 3946
أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنِي حَفْصُ بْنُ عِنَانٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، أَنَّهُ حَدَّثَهُ : قَالَ : كَانَ ابْنُ عُمَرَ يُكْرِي أَرْضَهُ بِبَعْضِ مَا يَخْرُجُ مِنْهَا , فَبَلَغَهُ أَنَّ رَافِعَ بْنَ خَدِيجٍ يَزْجُرُ عَنْ ذَلِكَ ، وَقَالَ : نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ ، قَالَ : كُنَّا نُكْرِي الْأَرْضَ قَبْلَ أَنْ نَعْرِفَ رَافِعًا ثُمَّ وَجَدَ فِي نَفْسِهِ فَوَضَعَ يَدَهُ عَلَى مَنْكِبِي حَتَّى دُفِعْنَا إِلَى رَافِعٍ فَقَالَ لَهُ عَبْدُ اللَّهِ : أَسَمِعْتَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ كِرَاءِ الْأَرْضِ فَقَالَ رَافِعٌ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " لَا تُكْرُوا الْأَرْضَ بِشَيْءٍ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´نافع کہتے ہیں کہ` ابن عمر رضی اللہ عنہما اپنی زمین کو اس میں پیدا ہونے والے غلہ کے بعض حصے کے بدلے کرائے پر دیتے تھے ، پھر انہیں معلوم ہوا کہ رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ اس سے روکتے اور کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا ہے ، اس پر عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا کہ رافع رضی اللہ عنہ کو جاننے سے پہلے ہم زمین کرائے پر اٹھاتے تھے ۔ پھر آپ نے اپنے دل میں کچھ محسوس کیا ، تو اپنا ہاتھ میرے مونڈھے پر رکھا یہاں تک کہ ہم رافع کے پاس جا پہنچے ، پھر ابن عمر نے رافع سے کہا : کیا آپ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو زمین کرائے پر دینے سے منع فرماتے سنا ہے ؟ رافع رضی اللہ عنہ نے کہا : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے کہ ” کسی چیز کے بدلے زمین کرائے پر نہ دو “ ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: «بشیٔ» (کسی چیز کے بدلے) کا لفظ شاذ ہے، کیونکہ سونے چاندی کے عوض زمین کو کرایہ پر دینے کی بات صحیح اور ثابت ہے۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب المزارعة / حدیث: 3946
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: شاذ بزيادة بشيء , شیخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج حدیث «انظر حدیث رقم 3942 (شاذ) (اس روایت میں ’’ بشیٔ ‘‘ کا لفظ شاذ ہے، باقی باتیں صحیح ہیں)»
حدیث نمبر: 3947
أَخْبَرَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ ، عَنْ عَبْدِ الْوَهَّابِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، وَنَافِعٍ أخبراه ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " نَهَى عَنْ كِرَاءِ الْأَرْضِ " . رَوَاهُ ابْنُ عُمَرَ ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ . وَاخْتُلِفَ عَلَى عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زمین کرائے پر دینے سے منع فرمایا ہے ۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اسے رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے ، اور ( اس روایت میں ابن عمر رضی اللہ عنہما سے رویت کرنے والے ) عمرو بن دینار سے روایت میں ان کے شاگردوں نے اختلاف کیا ہے ۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب المزارعة / حدیث: 3947
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج حدیث «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 3579) (صحیح)»
حدیث نمبر: 3948
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ ، قَالَ : أَنْبَأَنَا وَكِيعٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ ، يَقُولُ : كُنَّا نُخَابِرُ وَلَا نَرَى بِذَلِكَ بَأْسًا ، حَتَّى زَعَمَ رَافِعُ بْنُ خَدِيجٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " نَهَى عَنِ الْمُخَابَرَةِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` ہم لوگ مخابرہ کرتے تھے اور اس میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے ، یہاں تک کہ رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مخابرہ سے منع فرمایا ہے ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: یہاں " مخابرہ " سے مراد: بٹائی کا وہی معاملہ ہے جس کی تشریح حدیث نمبر ۳۸۹۳ کے حاشیہ میں گزری، یعنی: زمین کے بعض خاص حصوں میں پیدا ہونے والی پیداوار پر بٹائی کرنا، نہ کہ مطلق پیدا وار کے آدھا پر، جو جائز ہے۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب المزارعة / حدیث: 3948
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج حدیث «صحیح مسلم/البیوع 17 (1547)، سنن ابی داود/ البیوع 31 (3389)، سنن ابن ماجہ/الرہون 8 (2450)، (تحفة الأشراف: 3566)، مسند احمد (1/234، 2/11، 3/463، 465، 4/142) (صحیح)»
حدیث نمبر: 3949
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ خَالِدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، قَالَ : قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ : سَمِعْتُ عَمْرَو بْنَ دِينَارٍ ، يَقُولُ : أَشْهَدُ لَسَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ , وَهُوَ يَسْأَلُ عَنِ الْخِبْرِ ، فَيَقُولُ : مَا كُنَّا نَرَى بِذَلِكَ بَأْسًا , حَتَّى أَخْبَرَنَا عَامَ الْأَوَّلِ ، ابْنُ خَدِيجٍ أَنَّهُ سَمِعَ " النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنِ الْخِبْرِ " . وَافَقَهُمَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابن جریج کہتے ہیں کہ` میں نے عمرو بن دینار کو کہتے سنا : میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما کو سنا اور وہ مخابرہ کے بارے میں پوچھ رہے تھے تو وہ کہہ رہے تھے کہ ہم اس میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے یہاں تک کہ ہمیں رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ نے ( خلافت یزید کے ) پہلے سال ۱؎ میں خبر دی کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو مخابرہ سے منع فرماتے سنا ہے ۔ ان دونوں ( سفیان و ابن جریج ) کی موافقت حماد نے کی ہے ۔
وضاحت:
۱؎: یہ واقعہ معاویہ رضی اللہ عنہ کے آخری دور خلافت کا ہے، اس لیے پہلے سال سے مراد یزید کی خلافت کا پہلا سال ہے۔ (واللہ اعلم)
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب المزارعة / حدیث: 3949
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج حدیث «انظرماقبلہ (صحیح)»
حدیث نمبر: 3950
أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ حَبِيبِ بْنِ عَرَبِيٍّ ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ ، يَقُولُ : كُنَّا لَا نَرَى بِالْخِبْرِ بَأْسًا حَتَّى كَانَ عَامَ الْأَوَّلِ فَزَعَمَ رَافِعٌ أَنَّ " نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْهُ " . خَالَفَهُ عَارِمٌ ، فَقَالَ : عَنْ حَمَّادٍ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنْ جَابِرٍ ،
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عمرو بن دینار کہتے ہیں کہ` میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما کو کہتے سنا : ہم مخابرہ میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے ۔ یہاں تک کہ جب پہلا سال ہوا تو رافع رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے روکا ہے ۔ «عارم» محمد بن فضل نے یحییٰ بن عربی کی مخالفت کی ہے ۔ اور اسے بسند «عن حماد عن عمرو عن جابر» روایت کیا ہے ۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب المزارعة / حدیث: 3950
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح الإسناد , شیخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج حدیث «انظر حدیث رقم: 3948 (صحیح)»
حدیث نمبر: 3951
قَالَ : حَدَّثَنَا حَرَمِيُّ بْنُ يُونُسَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَارِمٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " نَهَى عَنْ كِرَاءِ الْأَرْضِ " . تَابَعَهُ مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمٍ الطَّائِفِيُّ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے زمین کرائے پر دینے سے منع فرمایا ہے ۱؎ ۔ محمد بن مسلم طائفی نے حماد کی متابعت کی ہے ۔
وضاحت:
۱؎: یہاں بھی کرایہ پر دینے سے مراد زمین کے بعض حصوں کی پیداوار کے بدلے کرایہ پر دینا ہے، نہ کہ روپیہ پیسے، یا سونا چاندی کے بدلے، جو کہ اجماعی طور پر جائز ہے۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب المزارعة / حدیث: 3951
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح الإسناد , شیخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج حدیث «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 2518)، مسند احمد (3/338، 389) (صحیح) (اس کے راوی ’’عارم محمد بن الفضل‘‘ آخری عمر میں مختلط ہو گئے تھے، اور امام نسائی نے ان سے اختلاط کے بعد روایت لی تھی، لیکن سابقہ متابعات سے تقویت پاکر یہ روایت صحیح ہے )»
حدیث نمبر: 3952
أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَامِرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : " نَهَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْمُخَابَرَةِ وَالْمُحَاقَلَةِ وَالْمُزَابَنَةِ " . جَمَعَ سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ الْحَدِيثَيْنِ ، فَقَالَ : عَنْ ابْنِ عُمَرَ , وَجَابِرٍ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مخابرہ ، محاقلہ اور مزابنہ سے منع فرمایا ہے ۔ سفیان بن عیینہ نے دونوں حدیثوں کو جمع کر کے ہے اور «عن ابن عمر و جابر» کہا ہے ۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب المزارعة / حدیث: 3952
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح لغيره , شیخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
تخریج حدیث «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 2565) (صحیح) (اس کے راوی ’’ محمد بن مسلم ‘‘ حافظہ کے قدرے کمزور تھے، لیکن متابعات سے تقویت پاکر یہ روایت صحیح ہے)»
حدیث نمبر: 3953
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، وَجَابِرٍ : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ الثَّمَرِ حَتَّى يَبْدُوَ صَلَاحُهُ , وَنَهَى عَنِ الْمُخَابَرَةِ كِرَاءِ الْأَرْضِ بِالثُّلُثِ وَالرُّبُعِ " . رَوَاهُ أَبُو النَّجَاشِيِّ عَطَاءُ بْنُ صُهَيْبٍ , وَاخْتُلِفَ عَلَيْهِ فِيهِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عمر اور جابر رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھل بیچنے سے منع فرمایا یہاں تک کہ اس کا پختہ ہو جانا واضح ہو جائے ۔ نیز آپ نے مخابرہ یعنی زمین کو تہائی یا چوتھائی ( پیداوار ) کے بدلے کرایہ پر دینے سے منع فرمایا ۔ اسے ابوالنجاشی عطاء بن صہیب نے بھی روایت کیا ہے اور اس میں ان سے روایت میں ان کے تلامذہ نے اختلاف کیا ہے ۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب المزارعة / حدیث: 3953
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج حدیث «صحیح مسلم/البیوع 17 (1536)، تحفة الأشراف: 2538) (صحیح)»
حدیث نمبر: 3954
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل الطَّبَرَانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بَحْرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُبَارَكُ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبُو النَّجَاشِيِّ ، قَالَ : حَدَّثَنِي رَافِعُ بْنُ خَدِيجٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِرَافِعٍ : " أَتُؤَاجِرُونَ مَحَاقِلَكُمْ ؟ " , قُلْتُ : نَعَمْ , يَا رَسُولَ اللَّهِ , نُؤَاجِرُهَا عَلَى الرُّبُعِ وَعَلَى الْأَوْسَاقِ مِنَ الشَّعِيرِ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تَفْعَلُوا ازْرَعُوهَا , أَوْ أَعِيرُوهَا , أَوِ امْسِكُوهَا " . خَالَفَهُ الْأَوْزَاعِيُّ , فَقَالَ : عَنْ رَافِعٍ ، عَنْ ظُهَيْرِ بْنِ رَافِعٍ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا : ” کیا تم اپنے کھیتوں کو اجرت پر دیتے ہو ؟ “ میں نے عرض کیا : جی ہاں ، اللہ کے رسول ! ہم انہیں چوتھائی اور کچھ وسق جو پر بٹائی دیتے ہیں ۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ایسا نہ کرو ، ان میں کھیتی کرو یا عاریتاً کسی کو دے دو ، یا اپنے پاس رکھو “ ۔ اوزاعی نے یحییٰ بن ابی کثیر کی مخالفت کی ہے اور «عن رافع عن ظہیر بن رافع» کہا ہے ۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب المزارعة / حدیث: 3954
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج حدیث «صحیح مسلم/البیوع 18 (1548) سنن ابی داود/البیوع 32 (3394 تعلیقًا)، (تحفة الأشراف: 3574) (صحیح)»
حدیث نمبر: 3955
أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي الْأَوْزَاعِيُّ ، عَنْ أَبِي النَّجَاشِيِّ ، عَنْ رَافِعٍ ، قَالَ : أَتَانَا ظُهَيْرُ بْنُ رَافِعٍ ، فَقَالَ : نَهَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , عَنْ أَمْرٍ كَانَ لَنَا رَافِقًا ، قُلْتُ : وَمَا ذَاكَ ؟ قَالَ : أَمْرُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ حَقٌّ , سَأَلَنِي : " كَيْفَ تَصْنَعُونَ فِي مَحَاقِلِكُمْ ؟ " . قُلْتُ : نُؤَاجِرُهَا عَلَى الرُّبُعِ وَالْأَوْسَاقِ مِنَ التَّمْرِ أَوِ الشَّعِيرِ . قَالَ : " فَلَا تَفْعَلُوا ازْرَعُوهَا ، أَوْ أَزْرِعُوهَا ، أَوِ امْسِكُوهَا " . رَوَاهُ بُكَيْرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَشَجِّ ، عَنْ أُسَيْدِ بْنِ رَافِعٍ فَجَعَلَ الرِّوَايَةَ لِأَخِي رَافِعٍ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` ہمارے پاس ( ہمارے چچا ) ظہیر بن رافع رضی اللہ عنہ نے آ کر کہا : مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ایسی چیز سے روکا ہے جو ہمارے لیے مفید و مناسب تھی ۔ میں نے کہا : وہ کیا ہے ؟ کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم اور وہ سچا ( برحق ) ہے ، آپ نے مجھ سے پوچھا : ” تم اپنے کھیتوں کا کیا کرتے ہو ؟ “ میں نے عرض کیا : ہم انہیں چوتھائی پیداوار اور کچھ وسق کھجور یا جو کے بدلے کرائے پر اٹھا دیتے ہیں ۔ آپ نے فرمایا : ” تم ایسا نہ کرو ، یا تو ان میں خود کھیتی کرو یا پھر دوسروں کو کرنے کے لیے دے دو ، یا انہیں یوں ہی روکے رکھو “ ۔ بکیر بن عبداللہ بن اشج نے اسے اسید بن رافع سے روایت کیا ہے ، اور اسے رافع کے بھائی سے روایت کیا ہے ۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب المزارعة / حدیث: 3955
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج حدیث «صحیح البخاری/الحرث18(2339)، صحیح مسلم/البیوع18(1548)، سنن ابن ماجہ/الرہون10(2459)، (تحفة الأشراف: 5029)، مسند احمد (1/168) (صحیح)»
حدیث نمبر: 3956
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَبَّانُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ ، عَنْ لَيْثٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي بُكَيْرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَشَجِّ ، عَنْ أُسَيْدِ بْنِ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ ، أَنَّ أَخَا رَافِعٍ ، قَالَ لِقَوْمِهِ : قَدْ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْيَوْمَ عَنْ شَيْءٍ كَانَ لَكُمْ رَافِقًا وَأَمْرُهُ طَاعَةٌ وَخَيْرٌ : " نَهَى عَنِ الْحَقْلِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´اسید بن رافع بن خدیج سے روایت ہے کہ` رافع کے بھائی نے اپنے قبیلے سے کہا : آج رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسی چیز سے منع فرمایا ہے ، جو تمہارے لیے سود مند تھی اور آپ کا حکم ماننا واجب ، آپ نے بیع محاقلہ سے منع فرمایا ہے ۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب المزارعة / حدیث: 3956
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح الإسناد , شیخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج حدیث «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 15531) (صحیح الإسناد)»
حدیث نمبر: 3957
أَخْبَرَنَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعَيْبُ بْنُ اللَّيْثِ ، عَنْ اللَّيْثِ ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ رَبِيعَةَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ هُرْمُزَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أُسَيْدَ بْنَ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ الْأَنْصَارِيَّ يَذْكُرُ : " أَنَّهُمْ مَنَعُوا الْمُحَاقَلَةَ وَهِيَ أَرْضٌ تُزْرَعُ عَلَى بَعْضِ مَا فِيهَا " . رَوَاهُ عِيسَى بْنُ سَهْلِ بْنِ رَافِعٍ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبدالرحمٰن بن ہرمز کہتے ہیں کہ` میں نے اسید بن رافع بن خدیج انصاری کو بیان کرتے سنا کہ انہیں ( یعنی صحابہ کو ) بیع محاقلہ سے روک دیا گیا ہے ، بیع محاقلہ یہ ہے کہ زمین کو اس کی کچھ پیداوار کے بدلے کھیتی کرنے کے لیے دے دیا جائے ۔ اسے عیسیٰ بن سہل بن رافع نے بھی روایت کیا ہے ۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب المزارعة / حدیث: 3957
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح الإسناد , شیخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج حدیث «انظر ما قبلہ (صحیح الإسناد)»
حدیث نمبر: 3958
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، قَالَ : أَنْبَأَنَا حَبَّانُ ، قَالَ : أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ يَزِيدَ أَبِي شُجَاعٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عِيسَى بْنُ سَهْلِ بْنِ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ ، قَالَ : إِنِّي لَيَتِيمٌ فِي حَجْرِ جَدِّي رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ ، وَبَلَغْتُ رَجُلًا , وَحَجَجْتُ مَعَهُ , فَجَاءَ أَخِي عِمْرَانُ بْنُ سَهْلِ بْنِ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ ، فَقَالَ : يَا أَبَتَاهُ , إِنَّهُ قَدْ أَكْرَيْنَا أَرْضَنَا فُلَانَةَ بِمِائَتَيْ دِرْهَمٍ . فَقَالَ : يَا بُنَيَّ , دَعْ ذَاكَ , فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ سَيَجْعَلُ لَكُمْ رِزْقًا غَيْرَهُ , إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " قَدْ نَهَى عَنْ كِرَاءِ الْأَرْضِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عیسیٰ بن سہل بن رافع بن خدیج کہتے ہیں کہ` میں یتیم تھا اور اپنے دادا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کی گود میں پرورش پا رہا تھا ، میں جوان ہوا اور میں نے ان کے ساتھ حج کیا تو میرے بھائی عمران بن سہل بن رافع بن خدیج آئے اور کہا : اے ابا جان ( دادا جان ) ! ہم نے اپنی زمین فلاں عورت کو دو سو درہم پر کرائے پردے دی ہے ۔ انہوں نے کہا : میرے بیٹے ! اسے چھوڑ دو ، اللہ تعالیٰ تمہیں اس کے علاوہ روزی دے گا کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زمین کرائے پر دینے سے روک دیا ہے ۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب المزارعة / حدیث: 3958
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: شاذ , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف، إسناده ضعيف، ابو داود (3401) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 350
تخریج حدیث «سنن ابی داود/البیوع32(3401)، (تحفة الأشراف: 3569) (شاذ) (اس کے راوی ’’ عیسیٰ بن سہل ‘‘ لین الحدیث ہیں اور اس میں شاذ بات یہ ہے کہ اس میں مطلق کرایہ پر دینے سے ممانعت ہے، جب کہ خود رافع رضی الله عنہ کی اس روایت کے کئی طرق میں سونا چاندی پر کرایہ پر دینے کی اجازت مذکور ہے)»