کتب حدیث ›
سنن نسائي › ابواب
› باب: زمین کو تہائی یا چوتھائی پر بٹائی دینے کی ممانعت کے سلسلے کی مختلف احادیث اور ان کے رواۃ کے الفاظ کے اختلاف کا ذکر۔
حدیث نمبر: 3893
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : أَنْبَأَنَا خَالِدٌ هُوَ ابْنُ الْحَارِثِ ، قَالَ : قَرَأْتُ عَلَى عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ جَعْفَرٍ ، أَخْبَرَنِي أَبِي ، عَنْ رَافِعِ بْنِ أُسَيْدِ بْنِ ظُهَيْرٍ ، عَنْ أَبِيهِ أُسَيْدِ بْنِ ظُهَيْرٍ ، أَنَّهُ خَرَجَ إِلَى قَوْمِهِ إِلَى بَنِي حَارِثَةَ ، فَقَالَ : يَا بَنِي حَارِثَةَ , لَقَدْ دَخَلَتْ عَلَيْكُمْ مُصِيبَةٌ ، قَالُوا : مَا هِيَ ؟ قَالَ : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ كِرَاءِ الْأَرْضِ " . قُلْنَا : يَا رَسُولَ اللَّهِ , إِذًا نُكْرِيهَا بِشَيْءٍ مِنَ الْحَبِّ ؟ قَالَ : " لَا " ، قَالَ : وَكُنَّا نُكْرِيهَا بِالتِّبْنِ ؟ فَقَالَ : " لَا " ، قَالَ : وَكُنَّا نُكْرِيهَا بِمَا عَلَى الرَّبِيعِ السَّاقِي ، قَالَ : " لَا ازْرَعْهَا , أَوِ امْنَحْهَا أَخَاكَ " . خَالَفَهُ مُجَاهِدٌ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´اسید بن ظہیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` وہ اپنے قبیلہ یعنی بنی حارثہ کی طرف نکل کر گئے اور کہا : اے بنی حارثہ ! تم پر مصیبت آ گئی ہے ، لوگوں نے کہا : وہ مصیبت کیا ہے ؟ انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زمین کرائے پر دینے سے منع فرما دیا ہے ۔ لوگوں نے کہا : اللہ کے رسول ! تو کیا ہم اسے کچھ اناج ( غلہ ) کے بدلے کرائے پر اٹھائیں ؟ آپ نے فرمایا : ” نہیں “ ، وہ کہتے ہیں : حالانکہ ہم اسے گھاس ( چارہ ) کے بدلے دیتے تھے ۔ آپ نے فرمایا : ” نہیں “ ، پھر کہا : ہم اسے اس پیداوار پر اٹھاتے تھے جو پانی کی کیاریوں کے پاس سے پیدا ہوتی ہے ، آپ نے فرمایا : ” نہیں “ ، تم اس میں خود کھیتی کرو یا پھر اسے اپنے بھائی کو دے دو ۔ مجاہد نے رافع بن اسید کی مخالفت کی ہے ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: مخالفت یہ ہے کہ رافع بن اسید نے اس کو اسید بن ظہیر رضی اللہ عنہ کی حدیث سے روایت کیا ہے، جب کہ مجاہد نے اس کو اسید بن ظہیر سے اور اسید نے رافع بن خدیج رضی اللہ عنہما کی حدیث سے روایت کیا ہے، اور رافع بن اسید لین الحدیث راوی ہیں، جب کہ مجاہد ثقہ امام ہیں، بہرحال حدیث صحیح ہے۔
حدیث نمبر: 3894
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى وَهُوَ ابْنُ آدَمَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُفَضَّلٌ وَهُوَ ابْنُ مُهَلْهَلٍ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ أُسَيْدِ بْنِ ظُهَيْرٍ ، قَالَ : جَاءَنَا رَافِعُ بْنُ خَدِيجٍ ، فَقَالَ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " نَهَاكُمْ عَنِ الْحَقْلِ , وَالْحَقْلُ : الثُّلُثُ وَالرُّبُعُ ، وَعَنِ الْمُزَابَنَةِ , وَالْمُزَابَنَةُ : شِرَاءُ مَا فِي رُءُوسِ النَّخْلِ بِكَذَا وَكَذَا وَسْقًا مِنْ تَمْرٍ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´اسید بن ظہیر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` ہمارے پاس رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ آئے تو کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہیں تہائی یا چوتھائی پیداوار پر ( کھیتوں کو ) بٹائی پر دینے سے اور مزابنہ سے منع فرمایا ہے ، مزابنہ درختوں میں لگے کھجوروں کو اتنے اور اتنے میں ( یعنی معین ) وسق کھجور کے بدلے بیچنے کو کہتے ہیں ۔
حدیث نمبر: 3895
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، سَمِعْتُ مُجَاهِدًا يُحَدِّثُ ، عَنْ أُسَيْدِ بْنِ ظُهَيْرٍ ، قَالَ : أَتَانَا رَافِعُ بْنُ خَدِيجٍ ، فَقَالَ : نَهَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَمْرٍ كَانَ لَنَا نَافِعًا وَطَاعَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيْرٌ لَكُمْ ، نَهَاكُمْ عَنِ الْحَقْلِ ، وَقَالَ : " مَنْ كَانَتْ لَهُ أَرْضٌ فَلْيَمْنَحْهَا , أَوْ لِيَدَعْهَا " , وَنَهَى عَنِ الْمُزَابَنَةِ , وَالْمُزَابَنَةُ : الرَّجُلُ يَكُونُ لَهُ الْمَالُ الْعَظِيمُ ، مِنَ النَّخْلِ فَيَجِيءُ الرَّجُلُ فَيَأْخُذُهَا بِكَذَا وَكَذَا وَسْقًا مِنْ تَمْرٍ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´اسید بن ظہیر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` ہمارے پاس رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ آئے تو کہا : ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ایسے معاملے سے منع فرمایا ہے جو ہمارے لیے نفع بخش تھا ، لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت تمہارے لیے زیادہ بہتر ہے ، آپ نے تمہیں محاقلہ سے منع فرمایا ہے ، آپ نے فرمایا : ” جس کی کوئی زمین ہو تو چاہیئے کہ وہ اسے کسی کو ہبہ کر دے یا اسے ایسی ہی چھوڑ دے “ ، نیز آپ نے مزابنہ سے روکا ہے ، مزابنہ یہ ہے کہ کسی آدمی کے پاس درخت پر کھجوروں کے پھل کا بڑا حصہ ہو ۔ پھر کوئی ( دوسرا ) آدمی اسے اتنی اتنی وسق ۱؎ ایسی ہی ( گھر میں موجود ) کھجور کے بدلے میں لے لے ۔
وضاحت:
۱؎: ایک وسق میں ساٹھ صاع ہوتے ہیں۔ اور صاع اڑھائی کلوگرام کا، یعنی وسق =۱۵۰ کلوگرام۔
حدیث نمبر: 3896
أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ قُدَامَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ أُسَيْدِ بْنِ ظُهَيْرٍ ، قَالَ : أَتَى عَلَيْنَا رَافِعُ بْنُ خَدِيجٍ , فَقَالَ : وَلَمْ أَفْهَمْ ، فَقَالَ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَاكُمْ عَنْ أَمْرٍ كَانَ يَنْفَعُكُمْ ، وَطَاعَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيْرٌ لَكُمْ مِمَّا يَنْفَعُكُمْ : " نَهَاكُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْحَقْلِ ، وَالْحَقْلُ : الْمُزَارَعَةُ بِالثُّلُثِ وَالرُّبُعِ ، فَمَنْ كَانَ لَهُ أَرْضٌ فَاسْتَغْنَى عَنْهَا فَلْيَمْنَحْهَا أَخَاهُ أَوْ لِيَدَعْ ، وَنَهَاكُمْ عَنِ الْمُزَابَنَةِ , وَالْمُزَابَنَةُ : الرَّجُلُ يَجِيءُ إِلَى النَّخْلِ الْكَثِيرِ بِالْمَالِ الْعَظِيمِ فَيَقُولُ خُذْهُ بِكَذَا وَكَذَا وَسْقًا مِنْ تَمْرِ ذَلِكَ الْعَامِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´اسید بن ظہیر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` ہمارے پاس رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ آئے تو انہوں نے کہا ، اور میں اس ( ممانعت کے راز ) کو سمجھ نہیں سکا ، پھر انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہیں ایک ایسی بات سے روک دیا ہے جو تمہارے لیے سود مند تھی ، لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت تمہارے لیے بہتر ہے اس چیز سے جو تمہیں فائدہ دیتی ہے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہیں «حقل» سے روکا ہے ۔ اور «حقل» کہتے ہیں : تہائی یا چوتھائی پیداوار کے بدلے زمین کو بٹائی پر دینا ۔ لہٰذا جس کے پاس زمین ہو اور وہ اس سے بے نیاز ہو تو چاہیئے کہ وہ اسے اپنے بھائی کو دیدے ، یا اسے ایسی ہی چھوڑ دے ، اور آپ نے تمہیں مزابنہ سے روکا ہے ۔ مزابنہ یہ ہے کہ آدمی بہت سارا مال لے کر کھجور کے باغ میں جاتا ہے اور کہتا ہے کہ اس سال کی اس مال کو ( یعنی پاس میں موجود کھجور کو ) اس سال کی ( درخت پر موجود ) کھجور کے بدلے اتنے اتنے وسق کے حساب سے لے لو ۔
حدیث نمبر: 3897
أَخْبَرَنِي إِسْحَاقُ بْنُ يَعْقُوبَ بْنِ إِسْحَاق الْبَغْدَادِيُّ أَبُو مُحَمَّدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أُسَيْدُ بْنُ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ ، قَالَ : قَالَ رَافِعُ بْنُ خَدِيجٍ : نَهَاكُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَمْرٍ كَانَ لَنَا نَافِعًا , وَطَاعَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْفَعُ لَنَا ، قَالَ : " مَنْ كَانَتْ لَهُ أَرْضٌ فَلْيَزْرَعْهَا ، فَإِنْ عَجَزَ عَنْهَا فَلْيُزْرِعْهَا أَخَاهُ " . خَالَفَهُ عَبْدُ الْكَرِيمِ بْنُ مَالِكٍ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہیں ایک ایسی بات سے روک دیا جو ہمارے لیے مفید اور نفع بخش تھی لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت ہمارے لیے اس سے زیادہ مفید اور نفع بخش ہے ۔ آپ نے فرمایا : ” جس کے پاس زمین ہو تو وہ اس میں کھیتی کرے اور اگر وہ اس سے عاجز ہو تو اپنے ( کسی مسلمان ) بھائی کو کھیتی کے لیے دیدے “ ۔ اس میں عبدالکریم بن مالک نے ان ( سعید بن عبدالرحمٰن ) کی مخالفت کی ہے ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: عبدالکریم بن مالک کی روایت آگے آ رہی ہے، اور مخالفت ظاہر ہے۔
حدیث نمبر: 3898
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ ، قَالَ : أَنْبَأَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ عَمْرٍو ، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، قَالَ : أَخَذْتُ بِيَدِ طَاوُسٍ حَتَّى أَدْخَلْتُهُ عَلَى ابْنِ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ ، فَحَدَّثَهُ عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَنَّهُ نَهَى عَنْ كِرَاءِ الْأَرْضِ " . فَأَبَى طَاوُسٌ , فَقَالَ : سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ لَا يَرَى بِذَلِكَ بَأْسًا . وَرَوَاهُ أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ أَبِي حَصِينٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، قَالَ : قَالَ : عَنْ رَافِعٍ مُرْسَلًا .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´مجاہد کہتے ہیں کہ` میں نے طاؤس کا ہاتھ پکڑا یہاں تک کہ میں انہیں لے کر رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کے بیٹے ( اسید ) کے یہاں گیا ، تو انہوں نے ان سے بیان کیا کہ میرے والد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے زمین کرائیے پر دینے سے منع فرمایا ، تو طاؤس نے انکار کر دیا اور کہا : میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سنا ہے کہ وہ اس میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے ۔ اور اس حدیث کو ابو عوانہ نے ابوحصین سے ، اور ابوحصین نے مجاہد سے ، اور مجاہد نے رافع رضی اللہ عنہ سے مرسلاً ( یعنی منقطعا ) روایت کیا ہے ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: سابقہ تمام سندوں میں مجاہد اور رافع کے درمیان یا تو اسید بن رافع بن خدیج یا اسید بن ظہیر کسی ایک کا واسطہ ہے اور اس سند میں یہ واسطہ ساقط ہے، اس لیے یہ سند منقطع ہے مگر متابعات سے تقویت پا کر یہ روایت بھی صحیح ہے۔
حدیث نمبر: 3899
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ أَبِي حَصِينٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، قَالَ : قَالَ رَافِعُ بْنُ خَدِيجٍ : نَهَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَمْرٍ كَانَ لَنَا نَافِعًا ، وَأَمْرُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الرَّأْسِ وَالْعَيْنِ : " نَهَانَا أَنْ نَتَقَبَّلَ الْأَرْضَ بِبَعْضِ خَرْجِهَا " . تَابَعَهُ إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُهَاجِرٍ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ایسی بات سے روک دیا جو ہمارے لیے نفع بخش اور مفید تھی ، آپ کا حکم سر آنکھوں پر ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں زمین کو اس کی کچھ پیداوار کے بدلے کرائے پر دینے سے منع فرمایا ۔ ابراہیم بن مہاجر نے ابوحصین کی متابعت کی ہے ( ان کی روایت آگے آ رہی ہے ) ۔
حدیث نمبر: 3900
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُهَاجِرٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ ، قَالَ : مَرَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى أَرْضِ رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ قَدْ عَرَفَ أَنَّهُ مُحْتَاجٌ ، فَقَالَ : " لِمَنْ هَذِهِ الْأَرْضُ ؟ " . قَالَ : لِفُلَانٍ , أَعْطَانِيهَا بِالْأَجْرِ . فَقَالَ : " لَوْ مَنَحَهَا أَخَاهُ " . فَأَتَى رَافِعٌ الْأَنْصَارَ ، فَقَالَ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَاكُمْ عَنْ أَمْرٍ كَانَ لَكُمْ نَافِعًا , وَطَاعَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْفَعُ لَكُمْ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم انصار کے ایک آدمی کی زمین کے پاس سے گزرے جسے آپ جانتے تھے کہ وہ ضرورت مند ہے ، پھر فرمایا : ” یہ زمین کس کی ہے ؟ “ اس نے کہا : فلاں کی ہے ، اس نے مجھے کرائے پر دی ہے ، آپ نے فرمایا : ” اگر اس نے اسے اپنے بھائی کو عطیہ کے طور پردے دی ہوتی ( تو اچھا ہوتا ) “ ، تب رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ نے انصار کے پاس آ کر کہا بولے : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہیں ایک ایسی چیز سے روکا ہے جو تمہارے لیے نفع بخش تھی ، لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت تمہارے لیے سب سے زیادہ مفید اور نفع بخش ہے ۔
حدیث نمبر: 3901
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ , قَالَا : حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ ، قَالَ : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْحَقْلِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے «حقل» سے منع فرمایا ۔
وضاحت:
۱؎: «حقل» کی تفصیل اوپر گزر چکی ہے مقصد تہائی اور چوتھائی کے بٹائی دینے کا معاملہ ہے۔
حدیث نمبر: 3902
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ ، عَنْ خَالِدٍ وَهُوَ ابْنُ الْحَارِثِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، قَالَ : حَدَّثَ رَافِعُ بْنُ خَدِيجٍ ، قَالَ : خَرَجَ إِلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَنَهَانَا عَنْ أَمْرٍ كَانَ لَنَا نَافِعًا ، فَقَالَ : " مَنْ كَانَ لَهُ أَرْضٌ فَلْيَزْرَعْهَا , أَوْ يَمْنَحْهَا , أَوْ يَذَرْهَا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہماری طرف نکلے تو آپ نے ہمیں ایک ایسی چیز سے روک دیا جو ہمارے لیے نفع بخش تھی اور فرمایا : ” جس کے پاس کوئی زمین ہو تو چاہیئے کہ وہ اس میں کھیتی کرے یا وہ اسے کسی کو دیدے یا اسے ( یونہی ) چھوڑ دے “ ۔
حدیث نمبر: 3903
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ خَالِدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، قَالَ : حَدَّثَنِي شُعْبَةُ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ ، عَنْ عَطَاءٍ ، وَطَاوُسٍ , وَمُجَاهِدٍ , عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ ، قَالَ : خَرَجَ إِلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَنَهَانَا عَنْ أَمْرٍ كَانَ لَنَا نَافِعًا , وَأَمْرُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيْرٌ لَنَا ، قَالَ : " مَنْ كَانَ لَهُ أَرْضٌ فَلْيَزْرَعْهَا , أَوْ لِيَذَرْهَا , أَوْ لِيَمْنَحْهَا " . وَمِمَّا يَدُلُّ عَلَى أَنَّ طَاوُسًا لَمْ يَسْمَعْ هَذَا الْحَدِيثَ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` ہماری طرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نکل کر آئے تو ہمیں ایک ایسی چیز سے روک دیا جو ہمارے لیے نفع بخش اور مفید تھی ، لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم ہمارے لیے زیادہ بہتر ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس کی کوئی زمین ہو تو وہ خود اس میں کھیتی کرے یا اسے چھوڑ دے یا اسے ( کسی کو ) دیدے “ ۔ اور اس بات کی دلیل کہ یہ حدیث طاؤس نے ( رافع رضی اللہ عنہ سے خود ) نہیں سنی ہے آنے والی حدیث ہے ۔
حدیث نمبر: 3904
أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ عَدِيٍّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، قَالَ : كَانَ طَاوُسٌ يَكْرَهُ أَنْ يُؤَاجِرَ أَرْضَهُ بِالذَّهَبِ , وَالْفِضَّةِ , وَلَا يَرَى بِالثُّلُثِ وَالرُّبُعِ بَأْسًا ، فَقَالَ لَهُ مُجَاهِدٌ : اذْهَبْ إِلَى ابْنِ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ , فَاسْمَعْ مِنْهُ حَدِيثَهُ ، فَقَالَ : إِنِّي وَاللَّهِ لَوْ أَعْلَمُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْهُ مَا فَعَلْتُهُ , وَلَكِنْ حَدَّثَنِي مَنْ هُوَ أَعْلَمُ مِنْهُ ابْنُ عَبَّاسٍ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّمَا قَالَ : " لَأَنْ يَمْنَحَ أَحَدُكُمْ أَخَاهُ أَرْضَهُ خَيْرٌ مِنْ أَنْ يَأْخُذَ عَلَيْهَا خَرَاجًا مَعْلُومًا " . وَقَدِ اخْتُلِفَ عَلَى عَطَاءٍ فِي هَذَا الْحَدِيثِ ، فَقَالَ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ مَيْسَرَةَ : عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ رَافِعٍ ، وَقَدْ تَقَدَّمَ ذِكْرُنَا لَهُ ، وَقَالَ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ : عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ جَابِرٍ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عمرو بن دینار کہتے ہیں کہ` طاؤس اس بات کو ناپسند کرتے تھے کہ آدمی اپنی زمین سونے ، چاندی کے بدلے کرائے پر اٹھائے ۔ البتہ ( پیداوار کی ) تہائی یا چوتھائی کے بدلے بٹائی پر دینے میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے ۔ تو ان سے مجاہد نے کہا : رافع بن خدیج کے لڑکے ( اسید ) کے پاس جاؤ اور ان سے ان کی حدیث سنو ، انہوں نے کہا : اللہ کی قسم اگر مجھے معلوم ہوتا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے روکا ہے تو میں ایسا نہ کرتا لیکن مجھ سے ایک ایسے شخص نے بیان کیا جو ان سے بڑا عالم ہے یعنی ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تو بس اتنا فرمایا تھا : ” تم میں سے کوئی اپنے بھائی کو اپنی زمین دیدے یہ اس سے بہتر ہے کہ وہ اس پر ایک متعین محصول ( لگان ) وصول کرے “ ۔ اس حدیث میں عطاء کے سلسلہ میں اختلاف واقع ہے ، عبدالملک بن میسرہ کہتے ہیں : «عن عطاء ، عن رافع» ( عطا سے روایت ہے وہ رافع سے روایت کرتے ہیں ) ( جیسا کہ حدیث رقم ۳۹۰۳ میں ہے ) اور یہ بات اوپر کی روایت میں گزر چکی ہے اور عبدالملک بن ابی سلیمان ( «عن رافع» کے بجائے ) «عن عطاء عن جابر» کہتے ہیں ( ان کی روایت آگے آ رہی ہے ) ۔
حدیث نمبر: 3905
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ مَسْعُودٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَنْ كَانَ لَهُ أَرْضٌ فَلْيَزْرَعْهَا ، فَإِنْ عَجَزَ أَنْ يَزْرَعَهَا فَلْيَمْنَحْهَا أَخَاهُ الْمُسْلِمَ ، وَلَا يُزْرِعْهَا إِيَّاهُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس کی کوئی زمین ہو تو وہ خود اس میں کھیتی کرے اور اگر وہ اس سے عاجز ہو تو اپنے کسی مسلمان بھائی کو دیدے اور اس سے اس میں بٹائی پر کھیتی نہ کرائے “ ۔
حدیث نمبر: 3906
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ كَانَتْ لَهُ أَرْضٌ فَلْيَزْرَعْهَا ، أَوْ لِيَمْنَحْهَا أَخَاهُ وَلَا يُكْرِيهَا " . تَابَعَهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَمْرٍو الْأَوْزَاعِيُّ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس کی کوئی زمین ہو تو وہ خود اس میں کھیتی کرے یا اسے اپنے بھائی کو دیدے اور اسے بٹائی پر نہ دے “ ۔ عبدالرحمٰن بن عمرو اوزاعی نے عبدالملک بن ابی سلیمان کی متابعت کی ہے ( یہ متابعت آگے آ رہی ہے ) ۔
حدیث نمبر: 3907
أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ حَمْزَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : كَانَ لِأُنَاسٍ فُضُولُ أَرَضِينَ يُكْرُونَهَا بِالنِّصْفِ وَالثُّلُثِ وَالرُّبُعِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ كَانَتْ لَهُ أَرْضٌ فَلْيَزْرَعْهَا , أَوْ يُزْرِعْهَا , أَوْ يُمْسِكْهَا " . وَافَقَهُ مَطَرُ بْنُ طَهْمَانَ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` بعض لوگوں کے پاس ضرورت سے زائد زمینیں تھیں جنہیں وہ آدھا ، تہائی اور چوتھائی پر اٹھاتے تھے ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس کی کوئی زمین ہو تو اس میں کھیتی کرے یا اس میں ( بلا کرایہ لیے ) کھیتی کرائے یا بلا کھیتی کرائے روکے رکھے “ ۔ مطر بن طہمان نے اوزاعی کی موافقت ( متابعت ) کی ہے ۔
حدیث نمبر: 3908
أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ مُحَمَّدٍ وَهُوَ أَبُو عُمَيْرِ بْنُ النَّحَّاسِ ، وَعِيسَى بْنُ يُونُسَ هُوَ الْفَاخُورِيُّ , قَالَا : حَدَّثَنَا ضَمْرَةُ ، عَنِ ابْنِ شَوْذَبٍ ، عَنْ مَطَرٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : " مَنْ كَانَتْ لَهُ أَرْضٌ فَلْيَزْرَعْهَا ، أَوْ لِيُزْرِعْهَا وَلَا يُؤَاجِرْهَا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´جابر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خطاب فرمایا اور کہا : ” جس کی کوئی زمین ہو تو اس میں کھیتی کرے یا کسی سے اس میں ( بلا کرایہ لیے ) کھیتی کرائے اور اسے کرائیے پر نہ دے “ ۔
حدیث نمبر: 3909
أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ يُونُسَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ مَطَرٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ جَابِرٍ رَفَعَهُ : " نَهَى عَنْ كِرَاءِ الْأَرْضِ " . وَافَقَهُ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ جُرَيْجٍ عَلَى النَّهْيِ عَنْ كِرَاءِ الْأَرْضِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے زمین کو کرائے پر اٹھانے سے منع فرمایا ۔ زمین کو کرائے پر نہ دینے کے سلسلہ میں ( روایت کرنے میں ) عبدالملک بن عبدالعزیز بن جریج نے مطر کی موافقت کی ہے ۔
حدیث نمبر: 3910
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْمُفَضَّلُ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، وَأبِي الزُبَيرِ , عَنْ جَابِرٍ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " نَهَى عَنِ الْمُخَابَرَةِ , وَالْمُزَابَنَةِ , وَالْمُحَاقَلَةِ , وَبَيْعِ الثَّمَرِ حَتَّى يُطْعَمَ إِلَّا الْعَرَايَا " . تَابَعَهُ يُونُسُ بْنُ عُبَيْدٍ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیع مخابرہ اور مزابنہ ، محاقلہ سے اور ان پھلوں کو بیچنے سے منع فرمایا ہے جو ابھی کھانے کے قابل نہ ہوئے ہوں ، سوائے بیع عرایا کے ۱؎ ۔ یونس بن عبید نے اس کی متابعت کی ہے ۔
وضاحت:
۱؎: مخابرہ: زمین کو آدھی یا تہائی یا چوتھائی پیداوار پر بٹائی پر دینا، کہتے ہیں: مخابرہ ” خیبر “ سے ماخوذ ہے، یعنی خیبر کی زمینوں کے ساتھ جو معاملہ کیا گیا اس کو ” مخابرہ “ کہتے ہیں۔ حالانکہ خیبر میں جو معاملہ کیا گیا وہ جائز ہے، اسی لیے تو وہ معاملہ کیا گیا، مؤلف نے حدیث نمبر ۳۹۱۴ میں مخابرہ کی تعریف یہ کی ہے کہ ” انگور جو ابھی بیلوں میں ہو کو اس انگور کے بدلے بیچنا جس کو توڑ لیا گیا ہو، یہی سب سے مناسب تعریف ہے جو ” مزابنہ “ اور ” محاقلہ “ سے مناسبت رکھتی ہے۔ مزابنہ: درخت پر لگے ہوئے پھل کو توڑے ہوئے پھل کے بدلے معینہ مقدار سے بیچنے کو مزابنہ کہتے ہیں۔ محاقلہ: کھیت میں لگی ہوئی فصل کا اندازہ کر کے اسے غلّہ سے بیچنا۔ عرایا: عرایا یہ ہے کہ مالک کا باغ ایک یا دو درخت کے پھل کسی مسکین و غریب کو کھانے کے لیے مفت دیدے، اور اس کے آنے جانے سے تکلیف ہو تو مالک اس درخت کے پھلوں کا اندازہ کر کے مسکین و فقیر سے خرید لے اور اس کے بدلے تر یا خشک پھل اس کے حوالے کر دے۔
حدیث نمبر: 3911
أَخْبَرَنِي زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ حُسَيْنٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ عُبَيْدٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " نَهَى عَنِ الْمُحَاقَلَةِ , وَالْمُزَابَنَةِ , وَالْمُخَابَرَةِ , وَعَنِ الثُّنْيَا إِلَّا أَنْ تُعْلَمَ " . وَفِي رِوَايَةِ هَمَّامِ بْنِ يَحْيَى كَالدَّلِيلِ عَلَى أَنَّ عَطَاءً لَمْ يَسْمَعْ مِنْ جَابِرٍ حَدِيثَهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ كَانَ لَهُ أَرْضٌ فَلْيَزْرَعْهَا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے محاقلہ و مزابنہ اور مخابرہ نامی بیع سے اور غیر متعین اور غیر معلوم مقدار کے استثناء ۱؎ سے منع فرمایا ہے ۔ ( آگے آنے والی ) ہمام بن یحییٰ کی روایت میں گویا یہ دلیل ہے کہ عطاء نے جابر رضی اللہ عنہ سے ان کی یہ حدیث نہیں سنی ہے ۲؎ جو انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے کہ جس کے پاس زمین ہو تو وہ اس میں کھیتی کرے ۔
وضاحت:
۱؎: بیچی ہوئی چیز میں سے بلا تعیین و تحدید کچھ لینے کی شرط رکھنا یا سارے باغ یا کھیت کو بیچ دینا اور اس میں سے غیر معلوم مقدار نکال لینا۔ ۲؎: جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے عطاء کی یہ روایت صحیح بخاری میں موجود ہے (دیکھئیے حدیث نمبر ۳۹۰۵ تخریج) سندھی فرماتے ہیں: مؤلف نے «کالدلیل» کہا ہے («الدلیل» نہیں کہا ہے) جو اس بات کی دلیل ہے کہ یہ بات مؤکد نہیں ہے۔ نیز یہ ممکن ہے کہ عطاء نے سلیمان سے سننے کے بعد پھر جابر رضی اللہ عنہ سے جا کر یہ حدیث سنی ہو۔ ایسا بہت ہوتا ہے۔
حدیث نمبر: 3912
أَخْبَرَنِي أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : سَأَلَ عَطَاءٌ سُلَيْمَانَ بْنَ مُوسَى ، قَالَ : حَدَّثَ جَابِرٌ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَنْ كَانَتْ لَهُ أَرْضٌ فَلْيَزْرَعْهَا أَوْ لِيُزْرِعْهَا أَخَاهُ وَلَا يُكْرِيهَا أَخَاهُ " . وَقَدْ رَوَى النَّهْيَ عَنِ الْمُحَاقَلَةِ يَزِيدُ بْنُ نُعَيْمٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس کی کوئی زمین ہو تو وہ اس میں کھیتی کرے یا اپنے بھائی سے اس میں ( بلا کرایہ لیے ) کھیتی کرائے لیکن اسے اپنے بھائی کو کرائیے پر نہ دے “ ۔
حدیث نمبر: 3913
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِدْرِيسَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو تَوْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ سَلَّامٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنِ يَزِيدَ بْنِ نُعَيْمٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " نَهَى عَنِ الْحَقْلِ وَهِيَ الْمُزَابَنَةُ " . خَالَفَهُ هِشَامٌ وَرَوَاهُ ، عَنْ يَحْيَى ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ جَابِرٍ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے «حقل» ( تہائی ، چوتھائی پر بیع ) ، اور یہی مزابنہ ہے ، سے منع فرمایا ۔ ہشام نے معاویہ کی مخالفت کی ہے ، انہوں نے اسے «عن یحییٰ عن ابی سلمہ عن جابر» کی سند سے روایت کیا ہے ۔
حدیث نمبر: 3914
أَخْبَرَنَا الثِّقَةُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ مَسْعَدَةَ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنِ الْمُزَابَنَةِ وَالْمُخَاضَرَةِ ، وَقَالَ : " الْمُخَاضَرَةُ : بَيْعُ الثَّمَرِ قَبْلَ أَنْ يَزْهُوَ ، وَالْمُخَابَرَةُ : بَيْعُ الْكَرْمِ بِكَذَا وَكَذَا صَاعٍ " . خَالَفَهُ عَمْرُو بْنُ أَبِي سَلَمَةَ ، فَقَالَ : عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیع مزابنہ اور مخاضرہ سے منع فرمایا ہے ۔ اور کہا مخاضرہ : پھل کو پکنے سے پہلے بیچنا اور مخابرہ ( درخت کی ) انگور کو خشک انگور کے اتنے اتنے صاع کے بدلے بیچنا ہے ۔ اس میں عمرو بن ابی سلمہ نے یحییٰ کی مخالفت کی ہے ، انہوں نے اسے اپنے باپ ابوسلمہ سے ، اور ابوسلمہ نے ، ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث سے روایت کیا ہے ۔
حدیث نمبر: 3915
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْمُحَاقَلَةِ وَالْمُزَابَنَةِ " ، خَالَفَهُمَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، فَقَالَ : عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیع محاقلہ اور مزابنہ سے منع فرمایا ۔ محمد بن عمرو نے عمر بن ابی سلمہ اور یحییٰ دونوں کی مخالفت کی ہے ، انہوں نے اسے ابوسلمہ سے اور ابوسلمہ نے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے ۔
حدیث نمبر: 3916
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى وَهُوَ ابْنُ آدَمَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِيمِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْمُحَاقَلَةِ وَالْمُزَابَنَةِ " . خَالَفَهُمْ الْأَسْوَدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، فَقَالَ : عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیع محاقلہ اور مزابنہ سے منع فرمایا ہے ۔ اسود بن علاء نے ان سب کی مخالفت کی ہے ، اور حدیثوں روایت کی ہے : ” عن ابی سلمۃ عن رافع بن خدیج “ ۔
حدیث نمبر: 3917
أَخْبَرَنَا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ حُمْرَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ ، عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ الْعَلَاءِ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " نَهَى عَنِ الْمُحَاقَلَةِ , وَالْمُزَابَنَةِ " . رَوَاهُ الْقَاسِمُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے محاقلہ و مزابنہ سے منع فرمایا ہے ۔ اسے قاسم بن محمد نے بھی رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے ۔
حدیث نمبر: 3918
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ مُرَّةَ ، قَالَ : سَأَلْتُ الْقَاسِمَ عَنِ الْمُزَارَعَةِ فَحَدَّثَ ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " نَهَى عَنِ الْمُحَاقَلَةِ , وَالْمُزَابَنَةِ " . قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ : مَرَّةً أُخْرَى .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عثمان بن مرہ کہتے ہیں کہ` میں نے قاسم سے بٹائی پر کھیت دینے کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیع محاقلہ اور مزابنہ سے منع فرمایا ہے ۔ ابوعبدالرحمٰن نسائی نے دوسری مرتبہ ( روایت کرتے ہوئے ) کہا ۔
حدیث نمبر: 3919
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ ، قَالَ : قَالَ أَبُو عَاصِمٍ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ مُرَّةَ ، قَالَ : سَأَلْتُ الْقَاسِمَ عَنْ كِرَاءِ الْأَرْضِ ، فَقَالَ : قَالَ رَافِعُ بْنُ خَدِيجٍ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " نَهَى عَنْ كِرَاءِ الْأَرْضِ " . وَاخْتُلِفَ عَلَى سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ فِيهِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عثمان بن مرہ کہتے ہیں کہ` میں نے قاسم سے زمین کرائے پر دینے کے سلسلے میں پوچھا تو وہ بولے : رافع بن خدیج نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زمین کرائے پر اٹھانے سے منع فرمایا ہے ۱؎ ۔ اس حدیث کی روایت میں سعید بن مسیب پر اختلاف واقع ہوا ہے ۔
وضاحت:
۱؎: یعنی: خود اس زمین سے پیدا ہونے والے غلہ کے بدلے کرایہ اٹھانے سے منع فرمایا، کیونکہ خود رافع رضی اللہ عنہ نے سونا چاندی کے بدلے کرایہ پر دینے کا فتویٰ دیا ہے۔ نیز مرفوعاً بھی روایت کی ہے (دیکھئیے حدیث رقم ۳۹۲۱، و ۳۹۲۹)۔
حدیث نمبر: 3920
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ الْخَطْمِيِّ وَاسْمُهُ عُمَيْرُ بْنُ يَزِيدَ , قَالَ : أَرْسَلَنِي عَمِّي وَغُلَامًا لَهُ إِلَى سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ أَسْأَلُهُ عَنِ الْمُزَارَعَةِ ؟ فَقَالَ : كَانَ ابْنُ عُمَرَ لَا يَرَى بِهَا بَأْسًا , حَتَّى بَلَغَهُ عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ حَدِيثٌ فَلَقِيَهُ ، فَقَالَ رَافِعٌ : أَتَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَنِي حَارِثَةَ فَرَأَى زَرْعًا ، فَقَالَ : " مَا أَحْسَنَ زَرْعَ ظُهَيْرٍ " . فَقَالُوا : لَيْسَ لِظُهَيْرٍ . فَقَالَ : " أَلَيْسَ أَرْضُ ظُهَيْرٍ ؟ " قَالُوا : بَلَى ، وَلَكِنَّهُ أَزْرَعَهَا . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " خُذُوا زَرْعَكُمْ , وَرُدُّوا إِلَيْهِ نَفَقَتَهُ " ، قَالَ : فَأَخَذْنَا زَرْعَنَا , وَرَدَدْنَا إِلَيْهِ نَفَقَتَهُ . وَرَوَاهُ طَارِقُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سَعِيدٍ , وَاخْتُلِفَ عَلَيْهِ فِيهِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوجعفر خطمی جن کا نام عمیر بن یزید ہے ، کہتے ہیں کہ` میرے چچا نے مجھے اور اپنے ایک بچے کو سعید بن مسیب کے پاس بٹائی پر زمین دینے کے بارے میں مسئلہ پوچھنے کے لیے بھیجا ، تو انہوں نے کہا : ابن عمر رضی اللہ عنہما اس میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے یہاں تک کہ انہیں رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث پہنچی تو وہ ان سے ملے ۔ رافع رضی اللہ عنہ نے کہا : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بنی حارثہ کے پاس آئے تو ایک کھیتی کو دیکھ کر فرمایا : ” ظہیر کی کھیتی کس قدر اچھی ہے ! “ لوگوں نے عرض کیا : یہ ( کھیتی ) ظہیر کی نہیں ہے ۔ آپ نے فرمایا : ” کیا یہ ظہیر کی زمین نہیں ہے ؟ “ لوگوں نے کہا : کیوں نہیں ! لیکن انہوں نے اسے بٹائی پر اٹھا رکھا ہے ۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اپنی کھیتی لے لو اور اس پر آنے والی خرچ اسے دے دو “ ، تو ہم نے اپنی کھیتی لے لی اور ان کا خرچہ انہیں لوٹا دیا ۔ اسے طارق بن عبدالرحمٰن نے بھی سعید بن مسیب سے روایت کیا اور اس میں طارق سے روایت کرنے میں اختلاف ہوا ہے ۔
حدیث نمبر: 3921
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ ، عَنْ طَارِقٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ ، قَالَ : نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْمُحَاقَلَةِ , وَالْمُزَابَنَةِ ، وَقَالَ : " إِنَّمَا يَزْرَعُ ثَلَاثَةٌ رَجُلٌ لَهُ أَرْضٌ فَهُوَ يَزْرَعُهَا أَوْ رَجُلٌ مُنِحَ أَرْضًا فَهُوَ يَزْرَعُ مَا مُنِحَ ، أَوْ رَجُلٌ اسْتَكْرَى أَرْضًا بِذَهَبٍ أَوْ فِضَّةٍ " . مَيَّزَهُ إِسْرَائِيلُ ، عَنْ طَارِقٍ ، فَأَرْسَلَ الْكَلَامَ الْأَوَّلَ , وَجَعَلَ الْأَخِيرَ مِنْ قَوْلِ سَعِيدٍ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیع محاقلہ اور مزابنہ سے منع فرمایا ہے ۔ ۱؎ اور فرمایا : ” کھیتی تین طرح کے لوگ کرتے ہیں : ایک وہ شخص جس کی اپنی ذاتی زمین ہو تو وہ اس میں کھیتی کرتا ہے ، دوسرا وہ شخص جسے عاریۃً ( بلامعاوضہ ) زمین دے دی گئی ہو تو وہ دی ہوئی زمین میں کھیتی کرتا ہے ۔ تیسرا وہ شخص جس نے سونا چاندی ( نقد ) دے کر زمین کرایہ پر لی ہو “ ۔ اس حدیث کو اسرائیل نے طارق سے روایت کرتے ہوئے دونوں ٹکڑوں کو الگ الگ کر دیا ہے ، پہلے ٹکڑے ۲؎ کو مرسلاً ( بطور کلام نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ) روایت کیا اور دوسرے ٹکڑے کو سعید بن مسیب کا قول بتایا ہے ۔
وضاحت:
۱؎: محاقلہ سے مراد یہاں مزارعہ (بٹائی) پر دینا ہے اور مزابنہ سے مراد: درخت پر لگے کھجور یا انگور کا اندازہ کر کے اسے خشک کھجور یا انگور کے بدلے بیچنا ہے۔ ۲؎: پہلی بات سے مراد «نہیٰ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عن المحاقلۃ والمزابنۃ» ہے اور آخری بات سے مراد «إنما یزرع ثلاثۃ، الیٰ آخرہ» ہے۔ یعنی: پہلی روایت میں آخری ٹکڑے کو درج کر کے اس کو مرفوع بنا دیا ہے، حالانکہ یہ سعید بن مسیب کا اپنا قول ہے، اسرائیل کی روایت جسے انہوں نے طارق سے روایت کیا ہے، دونوں ٹکڑوں کو چھانٹ کر الگ الگ کر دیا ہے۔
حدیث نمبر: 3922
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ، قَالَ : أَنْبَأَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ طَارِقٍ ، عَنْ سَعِيدٍ ، قَالَ : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْمُحَاقَلَةِ " . قَالَ سَعِيدٌ : فَذَكَرَهُ نَحْوَهُ . رَوَاهُ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ ، عَنْ طَارِقٍ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´تابعی سعید بن مسیب کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیع محاقلہ سے منع فرمایا ہے ۔ سعید بن مسیب نے کہا ، پھر راوی ( اسرائیل ) نے دوسری بات کو اسی طرح بیان کیا ( یعنی دوسرا قول ابن المسیب کا ہے ) ، اسے طارق سے سفیان ثوری نے بھی روایت کیا ہے ۔
حدیث نمبر: 3923
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ وَهُوَ ابْنُ مَيْمُونٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ طَارِقٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيِّبِ ، يَقُولُ : " لَا يُصْلِحُ الزَّرْعَ غَيْرُ ثَلَاثٍ أَرْضٍ يَمْلِكُ رَقَبَتَهَا ، أَوْ مِنْحَةٍ ، أَوْ أَرْضٍ بَيْضَاءَ يَسْتَأْجِرُهَا بِذَهَبٍ أَوْ فِضَّةٍ " . وَرَوَى الزُّهْرِيُّ الْكَلَامَ الْأَوَّلَ عَنْ سَعِيدٍ فَأَرْسَلَهُ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´طارق کہتے ہیں کہ` میں نے سعید بن مسیب کو کہتے سنا : تین قسم کی زمینوں کے علاوہ میں کھیتی درست نہیں : وہ زمین جو کسی کی اپنی ملکیت ہو ، یا وہ اسے عطیہ دی گئی ہو ، یا وہ زمین جسے آدمی سونے چاندی کے بدلے کرائے پر لی ہو ۔ زہری نے صرف پہلی بات سعید بن سعید سے مرسلاً روایت کی ۔
حدیث نمبر: 3924
قَالَ الْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ : عَنِ ابْنِ الْقَاسِمِ ، قَالَ : حَدَّثَنِي مَالِكٌ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " نَهَى عَنِ الْمُحَاقَلَةِ وَالْمُزَابَنَةِ " . وَرَوَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ لَبِيبَةَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، فَقَالَ : عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´تابعی سعید بن مسیب سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیع محاقلہ اور مزابنہ سے منع فرمایا ہے ۔ اسے محمد بن عبدالرحمٰن بن لبیبہ نے سعید بن المسیب سے روایت کیا ہے اور «عن سعد بن أبي وقاص» کہا ہے ۔
حدیث نمبر: 3925
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عَمِّي ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عِكْرِمَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ لَبِيبَةَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ ، قَالَ : كَانَ أَصْحَابُ الْمَزَارِعِ يُكْرُونَ فِي زَمَانِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَزَارِعَهُمْ بِمَا يَكُونُ عَلَى السَّاقِي مِنَ الزَّرْعِ , فَجَاءُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَاخْتَصَمُوا فِي بَعْضِ ذَلِكَ , فَنَهَاهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُكْرُوا بِذَلِكَ ، وَقَالَ : " أَكْرُوا بِالذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ " . وَقَدْ رَوَى هَذَا الْحَدِيثَ سُلَيْمَانُ ، عَنْ رَافِعٍ ، فَقَالَ : عَنْ رَجُلٍ مِنْ عُمُومَتِهِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` کھیتوں والے لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں اپنے کھیت کرائیے پر اس اناج کے بدلے دیا کرتے تھے جو کھیتوں کی مینڈھوں پر ہوتا ہے ۔ تو وہ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور اس سلسلے میں کسی چیز کے بارے میں انہوں نے جھگڑا کیا ۔ تو آپ نے انہیں اس کے ( غلہ کے ) بدلے کرائے پر دینے سے منع فرما دیا اور فرمایا : ” سونے چاندی کے بدلے کرائے پر دو “ ۔ اس حدیث کو سلیمان بن یسار نے بھی رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے ، لیکن انہوں نے اسے اپنے چچاؤں میں کسی چچا کی حدیث سے روایت کیا ہے ۔
حدیث نمبر: 3926
أَخْبَرَنِي زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ ، قَالَ : أَنْبَأَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ يَعْلَى بْنِ حَكِيمٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ ، قَالَ : كُنَّا نُحَاقِلُ بِالْأَرْضِ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَنُكْرِيهَا بِالثُّلُثِ وَالرُّبُعِ وَالطَّعَامِ الْمُسَمَّى ، فَجَاءَ ذَاتَ يَوْمٍ رَجُلٌ مِنْ عُمُومَتِي ، فَقَالَ : " نَهَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَمْرٍ كَانَ لَنَا نَافِعًا وَطَوَاعِيَةُ اللَّهِ وَرَسُولِهِ أَنْفَعُ لَنَا ، نَهَانَا أَنْ نُحَاقِلَ بِالْأَرْضِ , وَنُكْرِيَهَا بِالثُّلُثِ وَالرُّبُعِ وَالطَّعَامِ الْمُسَمَّى , وَأَمَرَ رَبَّ الْأَرْضِ أَنْ يَزْرَعَهَا , أَوْ يُزْرِعَهَا , وَكَرِهَ كِرَاءَهَا " . وَمَا سِوَى ذَلِكَ أَيُّوبُ لَمْ يَسْمَعْهُ مِنْ يَعْلَى .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں زمین میں بٹائی کا معاملہ کرتے تھے ، ہم اسے تہائی یا چوتھائی یا غلہ کی متعینہ مقدار کے عوض کرائیے پر دیتے تھے ۔ تو ایک دن میرے ایک چچا آئے اور انہوں نے کہا : مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ایسے معاملے سے روک دیا جو ہمارے لیے نفع بخش اور مفید تھا ، لیکن اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت ہمارے لیے زیادہ مفید اور نفع بخش ہے ، آپ نے ہمیں زمین میں بٹائی کا معاملہ کر کے انہیں تہائی اور چوتھائی یا متعینہ مقدار کے غلے کے بدلے کرائیے پر دینے سے منع کیا ہے ۔ اور زمین کے مالک کو حکم دیا ہے کہ وہ اس میں کھیتی کرے ، یا اس میں ( بلا کرایہ لیے ) کھیتی کرائے اور اسے کرائے پر اٹھانا یا اس کے علاوہ جو صورتیں ہوں انہیں ناپسند فرمایا ۔ ایوب نے اس حدیث کو یعلیٰ سے نہیں سنا ہے ، ( بلکہ بذریعہ کتابت روایت کی ہے جیسا کہ اگلی سند سے ظاہر ہے ) ۔
حدیث نمبر: 3927
أَخْبَرَنِي زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ أَيُّوبَ ، قَالَ : كَتَبَ إِلَيَّ يَعْلَى بْنُ حَكِيمٍ , إِنِّي سَمِعْتُ سُلَيْمَانَ بْنَ يَسَارٍ يُحَدِّثُ ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ ، قَالَ : " كُنَّا نُحَاقِلُ الْأَرْضَ , نُكْرِيهَا بِالثُّلُثِ وَالرُّبُعِ وَالطَّعَامِ الْمُسَمَّى " . رَوَاهُ سَعِيدٌ , عَنْ يَعْلَى بْنِ حَكِيمٍ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` ہم زمین میں بٹائی کا معاملہ کیا کرتے تھے ، ہم اسے تہائی اور چوتھائی اور غلہ کی مقررہ مقدار کے بدلے کرائیے پر دیتے تھے ۔ سعید نے بھی اسے یعلیٰ بن حکیم سے روایت کیا ہے ۔
حدیث نمبر: 3928
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ مَسْعُودٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ يَعْلَى بْنِ حَكِيمٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ ، أَنَّ رَافِعَ بْنَ خَدِيجٍ ، قَالَ : كُنَّا نُحَاقِلُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَزَعَمَ أَنَّ بَعْضَ عُمُومَتِهِ أَتَاهُ , فَقَالَ : نَهَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَمْرٍ كَانَ لَنَا نَافِعًا وَطَوَاعِيَةُ اللَّهِ وَرَسُولِهِ أَنْفَعُ لَنَا ، قُلْنَا : وَمَا ذَاكَ ؟ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ كَانَتْ لَهُ أَرْضٌ فَلْيَزْرَعْهَا ، أَوْ لِيُزْرِعْهَا أَخَاهُ ، وَلَا يُكَارِيهَا بِثُلُثٍ ، وَلَا رُبُعٍ ، وَلَا طَعَامٍ مُسَمًّى " . رَوَاهُ حَنْظَلَةُ بْنُ قَيْسٍ ، عَنْ رَافِعٍ فَاخْتَلَفَ عَلَى رَبِيعَةَ فِي رِوَايَتِهِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں بٹائی کا معاملہ کرتے تھے ، پھر کہتے ہیں کہ ان کے ایک چچا ان کے پاس آئے اور بولے : مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ایسی چیز سے روک دیا ہے جو ہمارے لیے نفع بخش اور مفید تھی لیکن اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت ہمارے لیے زیادہ نفع بخش اور مفید ہے ۔ ہم نے کہا : وہ کیا چیز ہے ؟ کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے : ” جس کی کوئی زمین ہو تو وہ اس میں کھیتی کرے یا اسے اپنے بھائی کو کھیتی کرنے کے لیے ( بلا کرایہ ) دیدے ، لیکن اسے تہائی ، چوتھائی اور معینہ مقدار غلہ کے بدلے کرائے پر نہ دے “ ۔ اسے حنظلہ بن قیس نے بھی رافع رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے اور ( حنظلہ سے روایت کرنے والے ) ربیعہ کے تلامذہ نے ربیعہ سے روایت کرنے میں اختلاف کیا ہے ۔
حدیث نمبر: 3929
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حُجَيْنُ بْنُ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ حَنْظَلَةَ بْنِ قَيْسٍ ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عَمِّي : " أَنَّهُمْ كَانُوا يُكْرُونَ الْأَرْضَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَا يَنْبُتُ عَلَى الْأَرْبِعَاءِ وَشَيْءٍ مِنَ الزَّرْعِ يَسْتَثْنِي صَاحِبُ الْأَرْضِ , فَنَهَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ " . فَقُلْتُ لِرَافِعٍ : فَكَيْفَ كِرَاؤُهَا بِالدِّينَارِ , وَالدِّرْهَمِ ؟ فَقَالَ رَافِعٌ : لَيْسَ بِهَا بَأْسٌ بِالدِّينَارِ , وَالدِّرْهَمِ . خَالَفَهُ الْأَوْزَاعِيُّ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` میرے چچا نے مجھ سے بیان کیا کہ وہ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں اس کے بدلے زمین کو بٹائی پر دیتے تھے جو پانی کی کیاریوں پر پیدا ہوتا تھا اور تھوڑی سی اس پیداوار کے بدلے جو زمین کا مالک مستثنی ( الگ ) کر لیتا تھا ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اس سے روک دیا ۔ میں نے رافع رضی اللہ عنہ سے کہا : تو دینار اور درہم سے کرائے پر دینا کیسا تھا ؟ رافع رضی اللہ عنہ نے کہا : دینار اور درہم کے بدلے دینے میں کوئی حرج نہیں ۔ اوزاعی نے لیث کی مخالفت کی ہے ، ( ان کی روایت آگے آ رہی ہے جس میں ” چچا “ کا ذکر نہیں ہے ) ۔
حدیث نمبر: 3930
أَخْبَرَنِي الْمُغِيرَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عِيسَى هُوَ ابْنُ يُونُسَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ حَنْظَلَةَ بْنِ قَيْسٍ الْأَنْصَارِيِّ ، قَالَ : سَأَلْتُ رَافِعَ بْنَ خَدِيجٍ عَنْ كِرَاءِ الْأَرْضِ بِالدِّينَارِ , وَالْوَرِقِ ؟ فَقَالَ : " لَا بَأْسَ بِذَلِكَ إِنَّمَا كَانَ النَّاسُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُؤَاجِرُونَ عَلَى الْمَاذِيَانَاتِ , وَأَقْبَالِ الْجَدَاوِلِ ، فَيَسْلَمُ هَذَا وَيَهْلِكُ هَذَا وَيَسْلَمُ هَذَا وَيَهْلِكُ هَذَا ، فَلَمْ يَكُنْ لِلنَّاسِ كِرَاءٌ إِلَّا هَذَا ، فَلِذَلِكَ زُجِرَ عَنْهُ فَأَمَّا شَيْءٌ مَعْلُومٌ مَضْمُونٌ فَلَا بَأْسَ بِهِ " . وَافَقَهُ مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ , عَلَى إِسْنَادِهِ , وَخَالَفَهُ فِي لَفْظِهِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´حنظلہ بن قیس انصاری کہتے ہیں کہ` میں نے رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے دینار اور چاندی کے بدلے زمین کو کرائے پر دینے کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا کہ اس میں کوئی حرج نہیں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں لوگ اس پیداوار کے بدلے کرائے دیا کرتے تھے جو کیاریوں اور نالیوں کے اوپر پیدا ہوتی ہے ، تو کبھی اس جگہ پیداوار ہوتی اور دوسری جگہ نہیں ہوتی اور کبھی یہاں نہیں ہوتی اور دوسری جگہ ہوتی ، لوگوں کا بٹائی پر دینے کا یہی طریقہ ہوتا ، اس لیے اس پر زجر و توبیخ ہوئی ۔ رہی معین چیز ( پر بٹائی ) جس کی ضمانت دی جا سکتی ہو تو اس میں کوئی حرج نہیں ۔ مالک بن انس نے بھی اوزاعی کی سند میں ( چچا کے نہ ذکر کرنے میں ) موافقت کی ہے لیکن الفاظ میں مخالفت کی ہے ۔
حدیث نمبر: 3931
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا مَالِكٌ ، عَنْ رَبِيعَةَ ، عَنْ حَنْظَلَةَ بْنِ قَيْسٍ ، قَالَ : سَأَلْتُ رَافِعَ بْنَ خَدِيجٍ عَنْ كِرَاءِ الْأَرْضِ ؟ فَقَالَ : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ كِرَاءِ الْأَرْضِ " . قُلْتُ : بِالذَّهَبِ وَالْوَرِقِ ؟ قَالَ : " لَا ، إِنَّمَا نَهَى عَنْهَا بِمَا يَخْرُجُ مِنْهَا فَأَمَّا الذَّهَبُ وَالْفِضَّةُ فَلَا بَأْسَ " . رَوَاهُ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، عَنْ رَبِيعَةَ وَلَمْ يَرْفَعْهُ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´حنظلہ بن قیس کہتے ہیں کہ` میں نے رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے زمین کو کرائے پر دینے کے بارے میں پوچھا ، تو انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زمین کرائے پر دینے سے روکا ہے ، میں نے کہا : سونے ، چاندی کے بدلے ؟ کہا : نہیں ( اس سے نہیں روکا ہے ) ۔ آپ نے تو اس سے صرف اس کی پیداوار کے بدلے روکا ہے ۔ رہا سونا اور چاندی ( کے بدلے کرایہ پر دینا ) تو اس میں کوئی حرج نہیں سفیان ثوری نے بھی اسے ربیعہ سے روایت کیا ہے لیکن اسے مرفوع نہیں کیا ہے ۔
حدیث نمبر: 3932
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ ، عَنْ وَكِيعٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ حَنْظَلَةَ بْنِ قَيْسٍ ، قَالَ : سَأَلْتُ رَافِعَ بْنَ خَدِيجٍ عَنْ كِرَاءِ الْأَرْضِ الْبَيْضَاءِ بِالذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ ، فَقَالَ : " حَلَالٌ لَا بَأْسَ بِهِ ذَلِكَ فَرْضُ الْأَرْضِ " . رَوَاهُ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ حَنْظَلَةَ بْنِ قَيْسٍ ، وَرَفَعَهُ . كَمَا رَوَاهُ مَالِكٌ ، عَنْ رَبِيعَةَ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´حنظلہ بن قیس کہتے ہیں کہ` میں نے رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے سونے ، چاندی کے بدلے صاف زمین کرائے پر اٹھانے کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا : حلال ہے ، اس میں کوئی حرج نہیں ، یہ زمین کا حق ہے ۔ یحییٰ بن سعید نے بھی اسے حنظلہ بن قیس سے روایت کیا ہے اور اسے مرفوع کیا ہے جیسا کہ مالک نے ربیعہ سے اسے مرفوعاً روایت کیا ہے ۔
…