أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قال : حَدَّثَنَا عَبْدَةُ ، قال : حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنَّ أُمَّ سُلَيْمٍ سَأَلَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْمَرْأَةِ تَرَى فِي مَنَامِهَا مَا يَرَى الرَّجُلُ ، قَالَ : " إِذَا أَنْزَلَتِ الْمَاءَ فَلْتَغْتَسِلْ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` ام سلیم رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس عورت کے متعلق دریافت کیا جو اپنے خواب میں وہ چیز دیکھتی ہے جو مرد دیکھتا ہے ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب وہ انزال کرے تو غسل کرے “ ۔
أَخْبَرَنَا كَثِيرُ بْنُ عُبَيْدٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ حَرْبٍ ، عَنْ الزُّبَيْدِيِّ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، أَنَّ عَائِشَةَ أَخْبَرَتْهُ ، أَنَّ أُمَّ سُلَيْمٍ كَلَّمَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَائِشَةُ جَالِسَةٌ ، فَقَالَتْ لَهُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ اللَّهَ لَا يَسْتَحْيِي مِنَ الْحَقِّ ، أَرَأَيْتَ الْمَرْأَةَ تَرَى فِي النَّوْمِ مَا يَرَى الرَّجُلُ ، أَفَتَغْتَسِلُ مِنْ ذَلِكَ ؟ فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " نَعَمْ " ، قَالَتْ عَائِشَةُ : فَقُلْتُ لَهَا : أُفٍّ لَكِ ، أَوَ تَرَى الْمَرْأَةُ ذَلِكَ ؟ فَالْتَفَتَ إِلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " تَرِبَتْ يَمِينُكِ ، فَمِنْ أَيْنَ يَكُونُ الشَّبَهُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ` ام سلیم رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بات کی ، اور عائشہ رضی اللہ عنہا ( بھی وہاں ) بیٹھی ہوئی تھیں ، ام سلیم رضی اللہ عنہا نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا : اللہ کے رسول ! اللہ تعالیٰ حق بات ( بیان کرنے ) سے نہیں شرماتا ہے ، آپ مجھے اس عورت کے متعلق بتائیے جو خواب میں وہ چیز دیکھتی ہے جو مرد دیکھتا ہے ، کیا وہ اس کی وجہ سے غسل کرے ؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا : ” ہاں ! “ ، عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں : تو میں نے ان سے ( ام سلیم رضی اللہ عنہا سے ) کہا : افسوس ہے تم پر ! کیا عورت بھی اس طرح خواب دیکھتی ہے ؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا : ” تمہارے ہاتھ خاک آلود ہوں ، پھر بچہ کیسے ( ماں کے ) مشابہ ہو جاتا ہے ؟ “ ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: مطلب یہ ہے کہ لڑکا مرد اور عورت کے پانی ہی سے پیدا ہوتا ہے، جس کا پانی غالب ہو جاتا ہے لڑکا اسی کے مشابہ ہوتا ہے۔
أَخْبَرَنَا شُعَيْبُ بْنُ يُوسُفَ ، قال : حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ هِشَامٍ ، قال : أَخْبَرَنِي أَبِي ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أُمِّ سَلَمَةَ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، أَنَّ امْرَأَةً ، قالت : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ اللَّهَ لَا يَسْتَحْيِي مِنَ الْحَقِّ ، هَلْ عَلَى الْمَرْأَةِ غُسْلٌ إِذَا هِيَ احْتَلَمَتْ ؟ قَالَ : " نَعَمْ ، إِذَا رَأَتِ الْمَاءَ " ، فَضَحِكَتْ أُمُّ سَلَمَةَ ، فَقَالَتْ : أَتَحْتَلِمُ الْمَرْأَةُ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " فَفِيمَ يُشْبِهُهَا الْوَلَدُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ` ایک عورت نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! اللہ حق بات ( بیان کرنے ) سے نہیں شرماتا ہے ( اسی لیے میں ایک مسئلہ دریافت کرنا چاہتی ہوں ) ، عورت کو احتلام ہو جائے تو کیا اس پر غسل ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ہاں ، جب منی دیکھ لے “ ، ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا ( یہ سن کر ) ہنس پڑیں ، اور کہنے لگیں : کیا عورت کو بھی احتلام ہوتا ہے ؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” پھر لڑکا کس چیز کی وجہ سے اس کے مشابہ ( ہم شکل ) ہوتا ہے ؟ “ ۔
أَخْبَرَنَا يُوسُفُ بْنُ سَعِيدٍ ، قال : حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، عَنْ شُعْبَةَ ، قال : سَمِعْتُ عَطَاءً الْخُرَاسَانِيَّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ خَوْلَةَ بِنْتِ حَكِيمٍ ، قالت : سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْمَرْأَةِ تَحْتَلِمُ فِي مَنَامِهَا ، فَقَالَ : " إِذَا رَأَتِ الْمَاءَ فَلْتَغْتَسِلْ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´خولہ بنت حکیم رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ` میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس عورت کے متعلق پوچھا جسے خواب میں احتلام ہو جائے ؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب وہ منی دیکھے تو غسل کرے “ ۔