حدیث نمبر: 678
أَخْبَرَنَا مُجَاهِدُ بْنُ مُوسَى وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَسَنِ الْمِقْسَمِيُّ ، قَالَا : حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، قال ابْنُ جُرَيْجٍ : أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ يَحْيَى ، أَنَّ عِيسَى بْنَ عُمَرَ أَخْبَرَهُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَلْقَمَةَ بْنِ وَقَّاصٍ ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ وَقَّاصٍ ، قال : إِنِّي عِنْدَ مُعَاوِيَةَ إِذْ أَذَّنَ مُؤَذِّنُهُ ، فَقَالَ مُعَاوِيَةُ كَمَا قَالَ الْمُؤَذِّنُ ، حَتَّى إِذَا قَالَ : " حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ ، قَالَ : لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ ، فَلَمَّا قَالَ : حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ ، قَالَ : لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ ، وَقَالَ بَعْدَ ذَلِكَ مَا قَالَ الْمُؤَذِّنُ " ، ثُمَّ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مِثْلَ ذَلِكَ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´علقمہ بن وقاص کہتے ہیں کہ` میں معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس تھا کہ ان کے مؤذن نے اذان دی ، تو آپ ویسے ہی کہتے رہے جیسے مؤذن کہہ رہا تھا یہاں تک کہ جب اس نے «حى على الصلاة» کہا تو انہوں نے : «لا حول ولا قوة إلا باللہ» کہا ، پھر جب اس نے «حى على الفلاح» کہا تو انہوں نے : «لا حول ولا قوة إلا باللہ» کہا ، اور اس کے بعد مؤذن جس طرح کہتا رہا وہ بھی ویسے کہتے رہے پھر انہوں نے کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسے ہی کہتے ہوئے سنا ہے ۔

حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب الأذان / حدیث: 678
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن , شیخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج حدیث «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 11431)، مسند احمد 4/91، 98، سنن الدارمی/الصلاة 10 (1239) (حسن)»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح البخاري: 914

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 914 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
914. حضرت معاویہ بن ابی سفیان ؓ سے روایت ہے کہ وہ جمعہ کے دن منبر پر تشریف فرما تھے تو مؤذن نے اذان دی۔ جب اس نے الله أكبر الله أكبر کہا تو حضرت معاویہ ؓ نے الله أكبر الله أكبر کہا: جب اس نے أشهد أن لا إله إلا الله کہا تو حضرت معاویہ ؓ نے کہا: میں بھی یہ گواہی دیتا ہوں۔ پھر اس نے أشهد أن محمدا رسول الله کہا تو حضرت معاویہ ؓ نے کہا: میں بھی یہی گواہی دیتا ہوں۔ پھر اذان ختم ہو گئی تو حضرت معاویہ ؓ نے کہا: اے لوگو! میں نے رسول اللہ ﷺ سے اسی مقام پر سنا کہ جب مؤذن نے اذان دی تو آپ بھی وہی فرماتے تھے جو تم نے مجھے کہتے ہوئے سنا ہے۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:914]
حدیث حاشیہ:
اس حدیث سے امام اور خطیب کے لیے اذان کے جواب کا استحباب معلوم ہوتا ہے، دوسرے لوگوں کو بھی اذان کا جواب دینا چاہیے، نیز معلوم ہوا کہ امام اگرچہ منبر پر فروکش ہو تو بھی تعلیم و تعلم کا سلسلہ جاری رکھ سکتا ہے۔
اس کے علاوہ شہادتین کا جواب صرف ضمیر متکلم سے بھی دیا جا سکتا ہے، چنانچہ امام ابن حبان ؒ نے اپنی صحیح میں اس کے متعلق مستقل عنوان قائم کیا ہے۔
(صحیح ابن حبان: 97/4)
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 914 سے ماخوذ ہے۔