سنن نسائي
كتاب المواقيت— کتاب: اوقات نماز کے احکام و مسائل
بَابُ : كَيْفَ يُقْضَى الْفَائِتُ مِنَ الصَّلاَةِ باب: فوت شدہ نماز کی قضاء کیسے کی جائے؟
أَخْبَرَنَا أَبُو عَاصِمٍ خُشَيْشُ بْنُ أَصْرَمَ ، قال : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَسَّانَ ، قال : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ فِي سَفَرٍ لَهُ : " مَنْ يَكْلَؤُنَا اللَّيْلَةَ لَا نَرْقُدَ عَنْ صَلَاةِ الصُّبْحِ ؟ " قَالَ بِلَالٌ : أَنَا ، فَاسْتَقْبَلَ مَطْلَعَ الشَّمْسِ فَضُرِبَ عَلَى آذَانِهِمْ حَتَّى أَيْقَظَهُمْ حَرُّ الشَّمْسِ ، فَقَامُوا ، فَقَالَ : " تَوَضَّئُوا ، ثُمَّ أَذَّنَ بِلَالٌ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ وَصَلَّوْا رَكْعَتَيِ الْفَجْرِ ثُمَّ صَلَّوْا الْفَجْرَ " .
´جبیر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ایک سفر میں فرمایا : ” آج رات کون ہماری نگرانی کرے گا تاکہ ہم فجر میں سوئے نہ رہ جائیں ؟ “ بلال رضی اللہ عنہ نے کہا : میں ، پھر انہوں نے سورج نکلنے کی جانب رخ کیا ، تو ان پر ایسی نیند طاری کر دی گئی کہ کوئی آواز ان کے کان تک پہنچ ہی نہیں سکی یہاں تک کہ سورج کی گرمی نے انہیں بیدار کیا ، تو وہ اٹھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم لوگ وضو کرو “ ، پھر بلال رضی اللہ عنہ نے اذان دی ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو رکعت فجر کی سنت پڑھی ، اور لوگوں نے بھی فجر کی دو رکعت سنت پڑھی ، پھر لوگوں نے فجر پڑھی ۔