سنن نسائي
كتاب الأشربة— کتاب: مشروبات (پینے والی چیزوں) کے احکام و مسائل
بَابُ : ذِكْرِ الأَخْبَارِ الَّتِي اعْتَلَّ بِهَا مَنْ أَبَاحَ شَرَابَ الْمُسْكِرِ باب: نشہ لانے والی شراب کو مباح اور جائز قرار دینے کی احادیث کا ذکر۔
حدیث نمبر: 5681
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، قَالَ : أَنْبَأَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، عَنْ ابْنِ بُرَيْدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " نَهَى عَنِ الدُّبَّاءِ ، وَالْحَنْتَمِ ، وَالنَّقِيرِ ، وَالْمُزَفَّتِ " . خَالَفَهُ أَبُو عَوَانَةَ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´بریدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کدو کی تونبی ، لاکھی برتن ، لکڑی کے برتن اور روغنی برتن سے منع فرمایا ہے ۔ ابو عوانہ نے شریک کی مخالفت کی ہے ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: یعنی: ابو عوانہ نے شریک کی مخالفت کی ہے، جو آگے کی روایت میں ہے۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ حافظ محمد امین
´نشہ لانے والی شراب کو مباح اور جائز قرار دینے کی احادیث کا ذکر۔`
بریدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کدو کی تونبی، لاکھی برتن، لکڑی کے برتن اور روغنی برتن سے منع فرمایا ہے۔ ابو عوانہ نے شریک کی مخالفت کی ہے ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5681]
بریدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کدو کی تونبی، لاکھی برتن، لکڑی کے برتن اور روغنی برتن سے منع فرمایا ہے۔ ابو عوانہ نے شریک کی مخالفت کی ہے ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5681]
اردو حاشہ: (1) مذکورہ روایت میں ابوعوانہ نے شریک کی مخالفت کی ہے۔ یہ مخالفت سند میں بھی ہے اور متن میں بھی جیسا کہ آئندہ روایت سے یہ مخالف واضح طور پر معلوم ہوجاتی ہے۔
(2) گویا اصل روایت اس طرح ہے۔ اس ضعیف راوی نے سند بدل دی اور روایت کے الفاظ بھی لہٰذا وہ ضعیف روایت کسی بھی لحاظ سے قابل استدلال نہیں۔ محقق کتاب کا اسے صحیح کہنا درست نہیں۔
(2) گویا اصل روایت اس طرح ہے۔ اس ضعیف راوی نے سند بدل دی اور روایت کے الفاظ بھی لہٰذا وہ ضعیف روایت کسی بھی لحاظ سے قابل استدلال نہیں۔ محقق کتاب کا اسے صحیح کہنا درست نہیں۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 5681 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح مسلم / حدیث: 1999 کی شرح از مولانا عبد العزیز علوی ✍️
ابن بریدہ اپنے باپ بریدہ رضی اللہ تعالی عنہ سے بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’میں نے تمہیں چمڑے کے برتنوں میں مشروبات پینے سے منع کیا تھا، اب ہر برتن میں پیو، لیکن نشہ آور چیز نہ پیو۔‘‘ [صحيح مسلم، حديث نمبر:5209]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: اس روایت میں حرف استثناء چھوٹ گیا ہے، اس لیے مفہوم الٹ ہو گیا ہے، اصل عبارت یہ ہے، "كنت نهيتكم عن الاشربة الأ فی ظروف الادم، " یہی روایت سنن ابی داود نمبر 3698 میں اس طرح ہے، ’’نهيتكم عن الاشربة ان تشربوا الا فی ظروف الادم۔
‘‘ جو اس بات کی صریح دلیل ہے کہ یہاں الا رہ گیا ہے، معنی ہے میں نے تمہیں چمڑے کے ظروف کے سوا میں مشروب پینے سے روک دیا تھا۔
‘‘ جو اس بات کی صریح دلیل ہے کہ یہاں الا رہ گیا ہے، معنی ہے میں نے تمہیں چمڑے کے ظروف کے سوا میں مشروب پینے سے روک دیا تھا۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 1999 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح مسلم / حدیث: 1999 کی شرح از مولانا عبد العزیز علوی ✍️
ابن بریدہ اپنے باپ سے بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’میں نے تمہیں (کچھ) برتنوں سے منع کیا تھا اور ظروف یا ظرف (برتن) کسی چیز کو حلال یا حرام نہیں کرتے اور ہر نشہ آور چیز حرام ہے۔‘‘ [صحيح مسلم، حديث نمبر:5208]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: مختلف برتنوں میں حرمت شراب کے ساتھ نبیذ بنانے سے منع کر دیا گیا تھا، کیونکہ ان میں نبیذ جلد نشہ آور حد تک پہنچ سکتا تھا اور شراب کی یاد تازہ کر سکتا تھا، نیز شراب کے عادی ہونے والوں کو اس کے نشہ آور حد تک پہنچنے کا احساس نہیں ہوتا تھا، اس لیے سد ذریعہ کے طور پر ان برتنوں میں نبیذ بنانے سے روک دیا گیا، لیکن جب شراب کی حرمت کی بنا پر شراب پینے کی عادت چھوٹ گئی اور نشہ آور اشیاء کی حرمت دلوں میں بیٹھ گئی اور اس بات کا خطرہ نہ رہا کہ نبیذ کے بہانہ شراب پی لی جائے گی، (کیونکہ نبیذ میں سکر کا آغاز ہو چکا ہو گا اور وہ سمجھیں گے نشہ پیدا نہیں ہوا)
تو پھر ممنوعہ برتنوں میں نبیذ بنانے کی اجازت دے دی گئی، کیونکہ ممانعت کا سبب زائل ہوگیا اور لوگوں کو ان برتنوں کی ضرورت تھی۔
تو پھر ممنوعہ برتنوں میں نبیذ بنانے کی اجازت دے دی گئی، کیونکہ ممانعت کا سبب زائل ہوگیا اور لوگوں کو ان برتنوں کی ضرورت تھی۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 1999 سے ماخوذ ہے۔