حدیث نمبر: 5675
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، عَنْ نُبَيْطٍ ، عَنْ جَابَانَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ مَنَّانٌ ، وَلَا عَاقٌّ ، وَلَا مُدْمِنُ خَمْرٍ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” احسان جتانے والا ، ماں باپ کی نافرمانی کرنے والا اور ہمیشہ شراب پینے والا ( عادی شرابی ) : یہ سب جنت میں نہیں داخل ہو سکتے ۔‏‏‏‏“

حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب الأشربة / حدیث: 5675
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج حدیث «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 8612)، مسند احمد (2/20101، 203) (صحیح)»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ حافظ محمد امین
´عادی شرابیوں کے سلسلے کی روایات کا ذکر۔`
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: احسان جتانے والا، ماں باپ کی نافرمانی کرنے والا اور ہمیشہ شراب پینے والا (عادی شرابی): یہ سب جنت میں نہیں داخل ہو سکتے۔‏‏‏‏ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5675]
اردو حاشہ: نہیں جائیں گے یعنی اولین طور پر جنت میں نہیں جائیں گے ورنہ سزا بھگتنے کے بعد تو کوئی چیز دخول جنت سے رکاوٹ نہیں۔ گویا یہ جرم ناقابل معافی ہیں۔ ان کی سزا ضرور ملے گی۔ الا ان يشاء اللهّ نیز ان تینوں سے مراد وہ اشخاص ہیں جو ان گناہوں کے عادی ہوں اور موت تک ان پر کار بد رہے ہوں ورنہ کبھی کبھار صدور تو قابل معافی ہے جیسا کہ پیچھے گزرا نیز توبہ گناہ کو ختم کردیتی ہے۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 5675 سے ماخوذ ہے۔