سنن نسائي
كتاب الاستعاذة— کتاب: استعاذہ (بری چیزوں سے اللہ کی پناہ مانگنے) کے آداب و احکام
بَابُ : الاِسْتِعَاذَةِ مِنَ الْخَسْفِ باب: زمین میں دھنس جانے سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 5531
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مَنْصُورٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ مُسْلِمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي جُبَيْرُ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِعَظَمَتِكَ أَنْ أُغْتَالَ مِنْ تَحْتِي " ، قَالَ جُبَيْرٌ : وَهُوَ الْخَسْفُ ، قَالَ عُبَادَةُ : فَلَا أَدْرِي قَوْلُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , أَوْ قَوْلُ جُبَيْرٍ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کہتے ہوئے سنا : «اللہم إني أعوذ بعظمتك أن أغتال من تحتي» ” اے اللہ ! میں تیری عظمت اور بڑائی کی پناہ مانگتا ہوں اس بات سے کہ میں نیچے کی طرف سے کسی آفت میں پھنس جاؤں “ ۔ یہ حدیث مختصر ہے ۔ جبیر کہتے ہیں : اس سے مراد زمین میں دھنس جانا ہے ۔ عبادہ کہتے ہیں : مجھے نہیں معلوم کہ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا قول ہے یا جبیر کا ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ حافظ محمد امین
´زمین میں دھنس جانے سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگنے کا بیان۔`
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کہتے ہوئے سنا: «اللہم إني أعوذ بعظمتك أن أغتال من تحتي» ” اے اللہ! میں تیری عظمت اور بڑائی کی پناہ مانگتا ہوں اس بات سے کہ میں نیچے کی طرف سے کسی آفت میں پھنس جاؤں۔“ یہ حدیث مختصر ہے۔ جبیر کہتے ہیں: اس سے مراد زمین میں دھنس جانا ہے۔ عبادہ کہتے ہیں: مجھے نہیں معلوم کہ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا قول ہے یا جبیر کا۔ [سنن نسائي/كتاب الاستعاذة/حدیث: 5531]
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کہتے ہوئے سنا: «اللہم إني أعوذ بعظمتك أن أغتال من تحتي» ” اے اللہ! میں تیری عظمت اور بڑائی کی پناہ مانگتا ہوں اس بات سے کہ میں نیچے کی طرف سے کسی آفت میں پھنس جاؤں۔“ یہ حدیث مختصر ہے۔ جبیر کہتے ہیں: اس سے مراد زمین میں دھنس جانا ہے۔ عبادہ کہتے ہیں: مجھے نہیں معلوم کہ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا قول ہے یا جبیر کا۔ [سنن نسائي/كتاب الاستعاذة/حدیث: 5531]
اردو حاشہ: (1) ”تیری عظمت“ جس طرح اللہ تعالی کی ذات سے پناہ لی جا سکتی ہے اسی طرح اللہ تعالی کی صفات کی پناہ بھی لی جا سکتی ہے کیونکہ صفات ذات سے الگ نہیں ہوتیں۔ مقصود ایک ہی ہے۔
(2) ”نیچےسے“ یعنی ایسے عذاب سے جو زمین سےآئے۔ اوردھنسایا جانا (خسف) بھی زمینی عذاب ہی سے ہوتا ہے۔ زلزلہ بھی مراد ہوسکتا ہے۔ واللہ أعلم۔
(2) ”نیچےسے“ یعنی ایسے عذاب سے جو زمین سےآئے۔ اوردھنسایا جانا (خسف) بھی زمینی عذاب ہی سے ہوتا ہے۔ زلزلہ بھی مراد ہوسکتا ہے۔ واللہ أعلم۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 5531 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: سنن نسائي / حدیث: 1308 کی شرح از حافظ محمد امین ✍️
´نماز میں تعوذ (اللہ کی پناہ) کا بیان۔`
فروہ بن نوفل کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے عرض کیا کہ آپ مجھ سے ایسی چیز بیان کیجئیے جس کے ذریعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی نماز میں دعا کرتے رہے ہوں، تو وہ کہنے لگیں: ہاں، سنو، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کہتے تھے: «اللہم إني أعوذ بك من شر ما عملت ومن شر ما لم أعمل» ” اے اللہ! میں تجھ سے اس کام کی برائی سے پناہ چاہتا ہوں جو میں نے کیا ہے، اور اس کام کی برائی سے جو میں نے نہیں کیا ہے۔“ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1308]
فروہ بن نوفل کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے عرض کیا کہ آپ مجھ سے ایسی چیز بیان کیجئیے جس کے ذریعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی نماز میں دعا کرتے رہے ہوں، تو وہ کہنے لگیں: ہاں، سنو، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کہتے تھے: «اللہم إني أعوذ بك من شر ما عملت ومن شر ما لم أعمل» ” اے اللہ! میں تجھ سے اس کام کی برائی سے پناہ چاہتا ہوں جو میں نے کیا ہے، اور اس کام کی برائی سے جو میں نے نہیں کیا ہے۔“ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1308]
1308۔ اردو حاشیہ: ➊ یہ معنیٰ بھی ہو سکتے ہیں کہ برے کام کرنے اور نیک کام نہ کرنے کے شر سے اللہ کی پناہ چاہتا ہوں۔ تیسرے معنیٰ یہ ہو سکتے ہیں کہ میں اپنے کاموں کے شر سے بھی تیری پناہ چاہتا ہوں اور ان کاموں اور چیزوں کے شر سے بھی جن کا میرے عمل سے تعلق نہیں۔ وہ دوسرے لوگوں کا فعل ہو یا اللہ تعالیٰ کا، یعنی قضا و قدر۔ دوسروں لوگوں کے فعل (مثلاً: ان کے حسد، بغض، معصیت وغیرہ) سے بھی تو انسان کو شر پہنچ سکتا ہے۔ واللہ أعلم۔
➋ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اکثر اللہ تعالیٰ کی پناہ طلب کرتے رہتے تھے۔ آپ نے اس سے امت کو یہ تعلیم دی ہے کہ ہمہ وقت اللہ کی پناہ طلب کرتے رہا کرو کیونکہ اللہ کی پکڑ سے صرف خانب وخاسر لوگ ہی بے خوف ہوتے ہیں۔
➋ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اکثر اللہ تعالیٰ کی پناہ طلب کرتے رہتے تھے۔ آپ نے اس سے امت کو یہ تعلیم دی ہے کہ ہمہ وقت اللہ کی پناہ طلب کرتے رہا کرو کیونکہ اللہ کی پکڑ سے صرف خانب وخاسر لوگ ہی بے خوف ہوتے ہیں۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 1308 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 1550 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´(بری باتوں سے اللہ کی) پناہ مانگنے کا بیان۔`
فروہ بن نوفل اشجعی کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا کے بارے میں جو آپ مانگتے تھے پوچھا، انہوں نے کہا: آپ کہتے تھے: «اللهم إني أعوذ بك من شر ما عملت، ومن شر ما لم أعمل» ” اے اللہ! میں ہر اس کام کے شر سے تیری پناہ مانگتا ہوں جسے میں نے کیا ہے اور ہر اس کام کے شر سے بھی جسے میں نے نہیں کیا ہے۔“ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 1550]
فروہ بن نوفل اشجعی کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا کے بارے میں جو آپ مانگتے تھے پوچھا، انہوں نے کہا: آپ کہتے تھے: «اللهم إني أعوذ بك من شر ما عملت، ومن شر ما لم أعمل» ” اے اللہ! میں ہر اس کام کے شر سے تیری پناہ مانگتا ہوں جسے میں نے کیا ہے اور ہر اس کام کے شر سے بھی جسے میں نے نہیں کیا ہے۔“ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 1550]
1550. اردو حاشیہ: یعنی اے اللہ! مجھے برے اعمال سے بچنے کی توفیق دے اور جو کر چکا ہوں ان کی نحوست اور عذاب سے محفوظ رکھ اور آیندہ کے لیے بھی محفوظ رکھ۔ ایسا نہ ہو کہ غلط کیش بنا رہوں اور اسی پر خوش رہوں۔ بعض اوقات کچھ لوگ اپنی غلطیوں پر بڑے نازاں ہوتے ہیں۔ چاہیے کہ انسان اس پر نادم ہو اور توبہ کرے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 1550 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابن ماجه / حدیث: 3839 کی شرح از مولانا عطا اللہ ساجد ✍️
´جن چیزوں سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پناہ چاہی ہے ان کا بیان۔`
فروہ بن نوفل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہما سے سوال کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کون سی دعا کیا کرتے تھے؟ انہوں نے کہا: آپ کہتے تھے: «اللهم إني أعوذ بك من شر ما عملت ومن شر ما لم أعمل» ” اے اللہ! میں تیری پناہ چاہتا ہوں ان کاموں کی برائی سے جو میں نے کئے اور ان کاموں کی برائی سے جو میں نے نہیں کئے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الدعاء/حدیث: 3839]
فروہ بن نوفل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہما سے سوال کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کون سی دعا کیا کرتے تھے؟ انہوں نے کہا: آپ کہتے تھے: «اللهم إني أعوذ بك من شر ما عملت ومن شر ما لم أعمل» ” اے اللہ! میں تیری پناہ چاہتا ہوں ان کاموں کی برائی سے جو میں نے کئے اور ان کاموں کی برائی سے جو میں نے نہیں کئے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الدعاء/حدیث: 3839]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
غلطی دو طرح کی ہوتی ہے: ایک یہ کہ جو کام نہیں کرنا چاہیے تھا وہ کر دیا، دوسرے یہ کہ جو کام کرنا چاہیے تھا وہ نہیں کیا۔
دونوں طرح کی غلطی کےدنیوی نقصانات بھی ہوتے ہیں اور اخروی نقصانات بھی۔
اس دعا میں دونوں طرح کی غلطیوں کےشر سے پناہ مانگی گئی ہے۔
فوائد و مسائل:
غلطی دو طرح کی ہوتی ہے: ایک یہ کہ جو کام نہیں کرنا چاہیے تھا وہ کر دیا، دوسرے یہ کہ جو کام کرنا چاہیے تھا وہ نہیں کیا۔
دونوں طرح کی غلطی کےدنیوی نقصانات بھی ہوتے ہیں اور اخروی نقصانات بھی۔
اس دعا میں دونوں طرح کی غلطیوں کےشر سے پناہ مانگی گئی ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3839 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: سنن نسائي / حدیث: 5528 کی شرح از حافظ محمد امین ✍️
´اعمال کی برائی سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگنے کا بیان اور ہلال کے شاگردوں کے اختلاف کا ذکر۔`
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کہتے تھے: «اللہم إني أعوذ بك من شر ما عملت ومن شر ما لم أعمل» ” اے اللہ! میں عمل کے شر سے تیری پناہ مانگتا ہوں جو میں نے کیا اور جو نہیں کیا۔“ [سنن نسائي/كتاب الاستعاذة/حدیث: 5528]
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کہتے تھے: «اللہم إني أعوذ بك من شر ما عملت ومن شر ما لم أعمل» ” اے اللہ! میں عمل کے شر سے تیری پناہ مانگتا ہوں جو میں نے کیا اور جو نہیں کیا۔“ [سنن نسائي/كتاب الاستعاذة/حدیث: 5528]
اردو حاشہ: ”کردہ نا کردہ“ یہ مفہوم بھی ہوسکتا ہے کہ میں حساب وکتاب کے بکھیڑے میں نہیں پڑتا۔ توسب گناہ معاف فرما۔ اس کے الفاظ کا یہ ایک بلیغ مفہوم ہے جوعرف عام میں استعمال ہوتا ہے۔واللہ أعلم۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 5528 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: سنن نسائي / حدیث: 5530 کی شرح از حافظ محمد امین ✍️
´جو کام نہیں کیے ان کی برائی سے اللہ تعالیٰ کی (پیشگی) پناہ مانگنے کا بیان۔`
فروہ بن نوفل کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا: مجھے ایسی دعا بتائیے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کرتے رہے ہوں۔ وہ بولیں: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کہا کرتے تھے: «اللہم إني أعوذ بك من شر ما عملت ومن شر ما لم أعمل» ” اے اللہ! میں اس عمل کے شر سے تیری پناہ مانگتا ہوں جو میں نے کیا ہے اور جو نہیں کیا ہے۔“ [سنن نسائي/كتاب الاستعاذة/حدیث: 5530]
فروہ بن نوفل کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا: مجھے ایسی دعا بتائیے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کرتے رہے ہوں۔ وہ بولیں: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کہا کرتے تھے: «اللہم إني أعوذ بك من شر ما عملت ومن شر ما لم أعمل» ” اے اللہ! میں اس عمل کے شر سے تیری پناہ مانگتا ہوں جو میں نے کیا ہے اور جو نہیں کیا ہے۔“ [سنن نسائي/كتاب الاستعاذة/حدیث: 5530]
اردو حاشہ: آئندہ گناہوں کےشرسے بھی پںاہ طلب کر جاسکتی ہے کیونکہ آخر ان کا صدور تومقدر ہے۔ اورقیامت کےدن سب گناہ ہی نامئہ اعمال میں موجود ہوں گے۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 5530 سے ماخوذ ہے۔