سنن نسائي
كتاب آداب القضاة— کتاب: قاضیوں اور قضا کے آداب و احکام اور مسائل
بَابُ : الْحُكْمِ بِاتِّفَاقِ أَهْلِ الْعِلْمِ باب: اہل علم کے اتفاق و اجماع کے مطابق فیصلہ کرنے کا بیان۔
أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ مَيْمُونٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْفِرْيَابِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ حُرَيْثِ بْنِ ظُهَيْرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ : أَتَى عَلَيْنَا حِينٌ وَلَسْنَا نَقْضِي وَلَسْنَا هُنَالِكَ ، وَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَدَّرَ أَنْ بَلَغْنَا مَا تَرَوْنَ ، فَمَنْ عَرَضَ لَهُ قَضَاءٌ بَعْدَ الْيَوْمِ , فَلْيَقْضِ فِيهِ بِمَا فِي كِتَابِ اللَّهِ ، فَإِنْ جَاءَ أَمْرٌ لَيْسَ فِي كِتَابِ اللَّهِ فَلْيَقْضِ بِمَا قَضَى بِهِ نَبِيُّهُ ، فَإِنْ جَاءَ أَمْرٌ لَيْسَ فِي كِتَابِ اللَّهِ وَلَمْ يَقْضِ بِهِ نَبِيُّهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلْيَقْضِ بِمَا قَضَى بِهِ الصَّالِحُونَ ، وَلَا يَقُولُ أَحَدُكُمْ إِنِّي أَخَافُ ، وَإِنِّي أَخَافُ ، فَإِنَّ الْحَلَالَ بَيِّنٌ ، وَالْحَرَامَ بَيِّنٌ ، وَبَيْنَ ذَلِكَ أُمُورٌ مُشْتَبِهَةٌ ، فَدَعْ مَا يَرِيبُكَ إِلَى مَا لَا يَرِيبُكَ " .
´عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` ہمارے اوپر ایک ایسا وقت آیا کہ اس وقت نہ ہم فیصلہ کرتے تھے اور نہ ہی فیصلہ کرنے کے اہل تھے ، پھر اللہ تعالیٰ نے ہمارے لیے وہ مقام مقدر کر دیا جہاں تم ہمیں دیکھ رہے ہو ، لہٰذا جس کسی کو آج کے بعد کوئی معاملہ درپیش ہو تو وہ اس کا فیصلہ اس کے مطابق کرے جو اللہ کی کتاب ( قرآن ) میں ہے ، اور اگر اس کے پاس کوئی ایسا معاملہ آئے جو اللہ کی کتاب ( قرآن ) میں نہیں ہے تو وہ اس کے مطابق فیصلہ کرے جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بارے میں کیا تھا ، اور اگر کوئی ایسا معاملہ درپیش ہو جو نہ کتاب اللہ ( قرآن ) میں ہو اور نہ ہی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بارے میں کوئی فیصلہ کیا ہو تو اس کے مطابق فیصلہ کرے جو نیک لوگوں نے کیا ہو ، اور تم میں سے کوئی یہ نہ کہے کہ مجھے ڈر لگ رہا ہے ، مجھے ڈر لگ رہا ہے ، کیونکہ حلال واضح ہے اور حرام واضح ہے اور ان کے درمیان کچھ شبہ والی چیزیں ہیں ، لہٰذا جو شک میں ڈالے اسے چھوڑ دو اور جو شک میں نہ ڈالے اسے لے لو ۔
تشریح، فوائد و مسائل
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہمارے اوپر ایک ایسا وقت آیا کہ اس وقت نہ ہم فیصلہ کرتے تھے اور نہ ہی فیصلہ کرنے کے اہل تھے، پھر اللہ تعالیٰ نے ہمارے لیے وہ مقام مقدر کر دیا جہاں تم ہمیں دیکھ رہے ہو، لہٰذا جس کسی کو آج کے بعد کوئی معاملہ درپیش ہو تو وہ اس کا فیصلہ اس کے مطابق کرے جو اللہ کی کتاب (قرآن) میں ہے، اور اگر اس کے پاس کوئی ایسا معاملہ آئے جو اللہ کی کتاب (قرآن) میں نہیں ہے تو وہ اس کے مطابق فیصلہ کرے جو نبی اکرم۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن نسائي/كتاب آداب القضاة/حدیث: 5400]