حدیث نمبر: 5395
أَخْبَرَنَا مُجَاهِدُ بْنُ مُوسَى ، عَنْ هُشَيْمٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي إِسْحَاق ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ : أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّ أَبِي أَدْرَكَهُ الْحَجُّ وَهُوَ شَيْخٌ كَبِيرٌ لَا يَثْبُتُ عَلَى رَاحِلَتِهِ , فَإِنْ شَدَدْتُهُ خَشِيتُ أَنْ يَمُوتَ , أَفَأَحُجُّ عَنْهُ ؟ قَالَ : " أَفَرَأَيْتَ لَوْ كَانَ عَلَيْهِ دَيْنٌ فَقَضَيْتَهُ أَكَانَ مُجْزِئًا ؟ " قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : " فَحُجَّ عَنْ أَبِيكَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ` ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا : میرے والد پر حج فرض ہو گیا ہے ، اور وہ اس قدر بوڑھے ہو گئے ہیں کہ سواری پر بیٹھ نہیں سکتے ، اور اگر انہیں باندھ دوں تو خطرہ ہے کہ وہ اس سے مر نہ جائیں ، کیا میں ان کی طرف سے حج ادا کر لوں ؟ آپ نے فرمایا : اگر ان پر کچھ قرض ہوتا اور تم اسے ادا کرتے تو کیا وہ کافی ہوتا ؟ اس نے کہا : ہاں ، آپ نے فرمایا : ” تو تم اپنے باپ کی طرف سے حج کر لو “ ۔

حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب آداب القضاة / حدیث: 5395
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: شاذ مضطرب والمحفوظ أن السائل امرأة والمسؤول عنه أبوها , شیخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج حدیث «انظر حدیث رقم: 2635 (شاذ) (اس واقعہ میں سائل کا مرد ہونا شاذ ہے)»