سنن نسائي
كتاب آداب القضاة— کتاب: قاضیوں اور قضا کے آداب و احکام اور مسائل
بَابُ : اسْتِعْمَالِ الشُّعَرَاءِ باب: شعراء کو ذمہ داری دینے کا بیان۔
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ أَخْبَرَهُ ، أَنَّهُ " قَدِمَ رَكْبٌ مِنْ بَنِي تَمِيمٍ , عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ أَبُو بَكْرٍ : أَمِّرِ الْقَعْقَاعَ بْنَ مَعْبَدٍ , وَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : بَلْ أَمِّرِ الْأَقْرَعَ بْنَ حَابِسٍ , فَتَمَارَيَا حَتَّى ارْتَفَعَتْ أَصْوَاتُهُمَا , فَنَزَلَتْ فِي ذَلِكَ : يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لا تُقَدِّمُوا بَيْنَ يَدَيِ اللَّهِ وَرَسُولِهِ حَتَّى انْقَضَتِ الْآيَةُ وَلَوْ أَنَّهُمْ صَبَرُوا حَتَّى تَخْرُجَ إِلَيْهِمْ لَكَانَ خَيْرًا لَهُمْ سورة الحجرات آية 1 - 5 " .
´عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ` بنو تمیم کے کچھ سوار نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے ، ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا : قعقاع بن معبد کو سردار بنائیے ، اور عمر رضی اللہ عنہ نے کہا : اقرع بن حابس کو سردار بنائیے ، پھر دونوں میں بحث و تکرار ہو گئی ، یہاں تک کہ ان کی آواز بلند ہو گئی ، تو اس سلسلے میں یہ حکم نازل ہوا ” اے لوگو ! جو ایمان لائے ہو ! اللہ اور اس کے رسول کے سامنے آگے مت بڑھو “ ( یعنی ان سے پہلے اپنی رائے مت پیش کرو ) یہاں تک کہ یہ آیت اس مضمون پر ختم ہو گئی : ” اگر وہ لوگ تمہارے باہر نکلنے تک صبر کرتے تو ان کے حق میں بہتر ہوتا “ ۱؎ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ بنو تمیم کے کچھ سوار نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: قعقاع بن معبد کو سردار بنائیے، اور عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اقرع بن حابس کو سردار بنائیے، پھر دونوں میں بحث و تکرار ہو گئی، یہاں تک کہ ان کی آواز بلند ہو گئی، تو اس سلسلے میں یہ حکم نازل ہوا ” اے لوگو! جو ایمان لائے ہو! اللہ اور اس کے رسول کے سامنے آگے مت بڑھو “ (یعنی ان سے پہلے اپنی رائے مت پیش کرو) یہاں تک کہ یہ۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن نسائي/كتاب آداب القضاة/حدیث: 5388]
(2) اس حدیث سے رسول اللہ ﷺ کی عظیم قدر و منزلت بھی واضح ہوتی ہے۔ کہ آپ کے سامنے کسی کو اونچی آواز سے بات کرنے کا حق بھی نہیں چہ جائیکہ آپ کے مقابلے میں کسی امتی کو درجۂ امامت پر فائز کر دیا جائے اور اس کی ہر بات کو آنکھیں بند کرکے تسلیم کر لیا جائے اور ساری زندگی نہ صرف اس کی اندھا دھند تقلید میں گزار دی جائے بلکہ بلا دلیل اس کی بات تسلیم نہ کرنے والوں کو طعن و تشنیع کا نشانہ بنایا جائے۔
(3) اس حدیث میں مسئلۃ الباب کا صراحتاً ذکر نہیں اگر کہیں اس کا ثبوت ملتا ہے کہ اقرع بن حابس بھی شاعری کرتے تھے تو پھر بات واضح ہے۔ واللہ أعلم۔
(4) قرآن مجید اور احادیث میں عموما! شعراء کی مذمت کی گئی ہے کیونکہ شعراء مبالغہ آرائی بلکہ جھوٹ، خوشامد اور تعلی کے عادی ہوتے ہیں اور شریعت ان اوصاف کو برا سمجھتی ہے۔ ویسے بھی حاکم کے لیے سنجیدہ طبع ہونا ضروری ہے اور یہ چیز پیشہ ور شعراء میں مفقود ہوتی ہے، اس لیے ظاہری طورپر سمجھ میں یہی آتا ہے کہ شعراء کو حاکم نہیں نبانا چاہیے مگر چونکہ ضروری نہیں کہ ہر شاعر ایسا ہی ہو خصوصاً جو پیشہ ور شاعر نہ ہو، لہٰذا اگر امارت کا اہل ہو تو اسے امیر بنایا جا سکتا ہے۔
(5) ”آگے نہ بڑھو“ یعنی اللہ اور اس کے رسول کے فیصلے سے قبل جلد بازی نہ کرو بلکہ ان کے فیصلے کا انتظار کرو جب تک رسول اللہ ﷺ خود مشورہ طلب نہ فرمائیں، تم خود بخود مشورہ نہ دو۔ امیر منتخب کرنا رسول اللہ ﷺ کا کام ہے نہ کہ تمہارا۔
(6) ”صبر کرتے“ اشارہ بنو تمیم کے وفد کی طرف ہے کہ جب وہ آئے تھے تو انہوں نے باہر کھڑے ہو کر زور زور سے آوازیں دینی شروع کردی تھیں: يَا مُحمّد! اُخْرُجْ ظاہر ہے یہ معقول انداز نہیں تھا۔ نبیٔ اکرم ﷺ جیسی عظیم شخصیت کو اس طرح نہیں بلایا جا سکتا بلکہ ان کا انتظار کیا جاتا ہے۔
اس کا ترجمہ، صاحب تفہیم البخاری نے یوں کیا ہے عمر ؓ نے کہا کہ ٹھیک ہے میرا مقصدصرف تمہاری رائے سے اختلاف کر نا ہی ہے۔
یہ ایسا خطر ناک ترجمہ ہے کہ حضرات شیخین کی شان اقدس میں اس سے بڑا دھبہ لگتا ہے جبکہ حضرات شیخین میں باہمی طور پر بہت ہی خلوص تھا۔
اگر کبھی کوئی موقع باہمی اختلافات کا آبھی گیاتو وہ اس کو فورا رفع دفع کر ليا کرتے تھے۔
خاص طور پر حضرت عمر ؓ حضرت صدیق اکبر ؓ کا بہت زیا دہ احترام کر تے تھے اور حضرت صدیق اکبر کا بھی یہی حال تھا۔
1۔
اس حدیث میں وفد بنوتمیم کے متعلق بیان ہوا ہے کہ وہ کس غرض سے آئے تھے۔
اس کی تفصیل ہم پہلے بیان کر آئے ہیں۔
2۔
آخر میں انھوں نے عرض کی کہ آپ ہم میں سے کسی کو امیر بنادیں۔
رسول اللہ ﷺ ابھی خاموش تھے کہ شیخین نے اپنی آراء کا اظہار شروع کردیا۔
حضرت ابوبکر ؓ نے قعقاع کا نام اس لیے پیش کیا کہ وہ ذرا نرم مزاج تھا۔
اس کے مقابلے میں حضرت عمر ؓ نے اقرع بن حابس کا نام پیش کیا کیونکہ نظام امارت چلانے میں یہ زیادہ ماہر تھے۔
دونوں حضرات نے بہتر ارادہ کیا تھا لیکن اللہ تعالیٰ کو یہ انداز پسند نہ آیا کہ رسول اللہ ﷺ کی موجودگی میں یہ حضرات اپنی آراء کا اظہار کریں، اس پر اللہ تعالیٰ نے تنبیہ فرمائی۔
اس کا نتیجہ یہ ہواکہ آئندہ جب عمر ؓ نبی اکرم ﷺ سے بات کرتے تو اس انداز سے جیسا کہ رازداری کی جاتی ہے۔
باربار انھیں کہا جاتا کہ تمہاری بات سمجھ میں نہیں آئی، دوبارہ کہو، چنانچہ اس کی وضاحت حضرت عبداللہ بن زبیر ؓ نے ایک دوسری روایت میں کی ہے۔
(صحیح البخاري، الاعتصام بالکتاب والسنة، حدیث: 7302)
مذکورہ ادب اگرچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس کے لیے سکھایا گیا ہے اور اس کے مخاطب صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین ہیں یا وہ لوگ جو آپ کے زمانے میں موجود تھے۔
اور یہ ادب اس لیے سکھایا گیا کہ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شخصیت کو ایک عام اور معمولی آدمی خیال نہ کریں بلکہ وہ یہ سمجھیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں بیٹھے ہوئے ہیں۔
وہ اللہ کے رسول اور اس کے مستند نمائندے ہیں جن کی شان دنیا کے افسروں اور بادشاہوں سے بہت ارفع اور اعلیٰ ہے، تاہم اس حکم کا اطلاق ایسے مواقع پر بھی ہوتا ہے جہاں آپ کے ارشادات، معمولات اور آپ کا اخلاق و کردار بیان ہو رہا ہو، یا آپ کی احادیث پڑھی، پڑھائی جا رہی ہوں۔
واللہ اعلم۔