حدیث نمبر: 5144
أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ سَلْمٍ الْبَلْخِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ يَحْيَى ، عَنْ أَبِي سَلَّامٍ ، عَنْ أَبِي أَسْمَاءَ ، عَنْ ثَوْبَانَ ، قَالَ : جَاءَتْ بِنْتُ هُبَيْرَةَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَفِي يَدِهَا فَتَخٌ مِنْ ذَهَبٍ , أَيْ : خَوَاتِيمُ ضِخَامٌ نَحْوَهُ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ثوبان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` ہبیرہ کی صاحب زادی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں ، ان کے ہاتھ میں سونے کی موٹی موٹی انگوٹھیاں تھیں ، پھر آگے اسی طرح بیان کیا ۔

حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب الزينة من السنن / حدیث: 5144
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج حدیث «انظر ما قبلہ (صحیح)»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ حافظ محمد امین
´عورتوں کے لیے زیورات اور سونے کی نمائش ممنوع ہے۔`
ثوبان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہبیرہ کی صاحب زادی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں، ان کے ہاتھ میں سونے کی موٹی موٹی انگوٹھیاں تھیں، پھر آگے اسی طرح بیان کیا۔ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5144]
اردو حاشہ: (1) حضرت ثوبان رسول اللہ ﷺ کے آزاد کردہ غلام تھے۔ عربی میں آزاد کردہ غلام کو مولی کہتے ہیں۔ رضي اللہ عنه وأرضاہ۔
(2) سونے کی تبھی تو رسول اللہ ﷺ نے ناراضی کا اظہار فرمایا۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 5144 سے ماخوذ ہے۔