سنن نسائي
كتاب الزينة من السنن— کتاب: زیب و زینت اور آرائش کے احکام و مسائل
بَابُ : التَّزَعْفُرِ وَالْخَلُوقِ باب: زعفران اور خلوق لگانے کا بیان۔
حدیث نمبر: 5128
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ يَعْقُوبَ الصَّبِيحِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ مُوسَى يَعْنِي مُحَمَّدًا ، قَالَ : أَخْبَرَنِي أَبِي ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَفْصٍ ، عَنْ يَعْلَى ، قَالَ : مَرَرْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا مُتَخَلِّقٌ ، فَقَالَ : " أَيْ يَعْلَى , هَلْ لَكَ امْرَأَةٌ ؟ " , قُلْتُ : لَا ، قَالَ : " اذْهَبْ فَاغْسِلْهُ ، ثُمَّ اغْسِلْهُ ، ثُمَّ اغْسِلْهُ ، ثُمَّ لَا تَعُدْ " ، قَالَ : فَذَهَبْتُ فَغَسَلْتُهُ ، ثُمَّ غَسَلْتُهُ ، ثُمَّ غَسَلْتُهُ ، ثُمَّ لَمْ أَعُدْ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´یعلیٰ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے گزرا ، میں خلوق لگائے ہوئے تھا ، آپ نے فرمایا : ” یعلیٰ ! کیا تمہاری بیوی ہے ؟ “ میں نے عرض کیا : نہیں ۔ آپ نے فرمایا : ” جاؤ ، اسے دھوؤ ، پھر دھوؤ اور پھر دھوؤ ، پھر ایسا نہ کرنا “ ، میں گیا اور اسے دھویا پھر دھویا اور پھر دھویا پھر ایسا نہیں کیا ۔
تشریح، فوائد و مسائل
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 2816 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´زعفران اور خلوق کا استعمال مردوں کے لیے مکروہ ہے۔`
یعلیٰ بن مرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو خلوق لگائے ہوئے دیکھا ۱؎، تو آپ نے فرمایا: ” جاؤ اسے دھو ڈالو۔ پھر دھو ڈالو، پھر (آئندہ کبھی) نہ لگاؤ۔“ [سنن ترمذي/كتاب الأدب/حدیث: 2816]
یعلیٰ بن مرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو خلوق لگائے ہوئے دیکھا ۱؎، تو آپ نے فرمایا: ” جاؤ اسے دھو ڈالو۔ پھر دھو ڈالو، پھر (آئندہ کبھی) نہ لگاؤ۔“ [سنن ترمذي/كتاب الأدب/حدیث: 2816]
اردو حاشہ:
1؎:
خلوق: ایک قسم کی خوشبو ہے جو عورتوں کے لیے مخصوص ہے۔
نوٹ:
(سند میں ابوحفص مجہول راوی ہے)
1؎:
خلوق: ایک قسم کی خوشبو ہے جو عورتوں کے لیے مخصوص ہے۔
نوٹ:
(سند میں ابوحفص مجہول راوی ہے)
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 2816 سے ماخوذ ہے۔