سنن نسائي
كتاب الزينة من السنن— کتاب: زیب و زینت اور آرائش کے احکام و مسائل
بَابُ : التَّزَعْفُرِ وَالْخَلُوقِ باب: زعفران اور خلوق لگانے کا بیان۔
حدیث نمبر: 5127
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ النَّضْرِ بْنِ مُسَاوِرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَفْصٍ ، عَنْ يَعْلَى بْنِ مُرَّةَ الثَّقَفِيِّ ، قَالَ : أَبْصَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبِي رَدْعٌ مِنْ خَلُوقٍ ، قَالَ : " يَا يَعْلَى , لَكَ امْرَأَةٌ ؟ " , قُلْتُ : لَا ، قَالَ : " اغْسِلْهُ ثُمَّ لَا تَعُدْ ، ثُمَّ اغْسِلْهُ ، ثُمَّ لَا تَعُدْ ، ثُمَّ اغْسِلْهُ ، ثُمَّ لَا تَعُدْ " ، قَالَ : فَغَسَلْتُهُ ، ثُمَّ لَمْ أَعُدْ ثُمَّ غَسَلْتُهُ ، ثُمَّ لَمْ أَعُدْ ، ثُمَّ غَسَلْتُهُ ، ثُمَّ لَمْ أَعُدْ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´یعلیٰ بن مرہ ثقفی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا ، مجھ پر خلوق کا داغ لگا ہوا تھا ، آپ نے فرمایا : ” یعلیٰ ! کیا تمہاری بیوی ہے ؟ “ میں نے کہا : نہیں ، آپ نے فرمایا : ” اسے دھو لو ، پھر نہ لگانا ، پھر دھو لو اور نہ لگانا اور پھر دھو لو اور نہ لگانا “ ، میں نے اسے دھو لیا اور پھر نہ لگایا ، میں نے پھر دھویا اور نہ لگایا اور پھر دھویا اور نہ لگایا ۔
تشریح، فوائد و مسائل
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 2816 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´زعفران اور خلوق کا استعمال مردوں کے لیے مکروہ ہے۔`
یعلیٰ بن مرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو خلوق لگائے ہوئے دیکھا ۱؎، تو آپ نے فرمایا: ” جاؤ اسے دھو ڈالو۔ پھر دھو ڈالو، پھر (آئندہ کبھی) نہ لگاؤ۔“ [سنن ترمذي/كتاب الأدب/حدیث: 2816]
یعلیٰ بن مرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو خلوق لگائے ہوئے دیکھا ۱؎، تو آپ نے فرمایا: ” جاؤ اسے دھو ڈالو۔ پھر دھو ڈالو، پھر (آئندہ کبھی) نہ لگاؤ۔“ [سنن ترمذي/كتاب الأدب/حدیث: 2816]
اردو حاشہ:
1؎:
خلوق: ایک قسم کی خوشبو ہے جو عورتوں کے لیے مخصوص ہے۔
نوٹ:
(سند میں ابوحفص مجہول راوی ہے)
1؎:
خلوق: ایک قسم کی خوشبو ہے جو عورتوں کے لیے مخصوص ہے۔
نوٹ:
(سند میں ابوحفص مجہول راوی ہے)
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 2816 سے ماخوذ ہے۔