حدیث نمبر: 5125
أَخْبَرَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَطَاءٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا حَفْصِ بْنَ عَمْرٍو ، عَنْ يَعْلَى بْنِ مُرَّةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبْصَرَ رَجُلًا مُتَخَلِّقًا ، قَالَ : " اذْهَبْ فَاغْسِلْهُ ، ثُمَّ اغْسِلْهُ وَلَا تَعُدْ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´یعلیٰ بن مرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو خلوق لگائے ہوئے دیکھا تو فرمایا : ” جاؤ اسے دھو لو ، اور پھر دھو لو اور دوبارہ نہ لگانا “ ۔

حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب الزينة من السنن / حدیث: 5125
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف، إسناده ضعيف، انظر الحديث السابق (5124) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 361
تخریج حدیث «انظر ما قبلہ (ضعیف)»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ترمذي: 2816 | سنن نسائي: 5127 | سنن نسائي: 5128 | مسند الحميدي: 841

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 2816 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´زعفران اور خلوق کا استعمال مردوں کے لیے مکروہ ہے۔`
یعلیٰ بن مرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو خلوق لگائے ہوئے دیکھا ۱؎، تو آپ نے فرمایا: جاؤ اسے دھو ڈالو۔ پھر دھو ڈالو، پھر (آئندہ کبھی) نہ لگاؤ۔‏‏‏‏ [سنن ترمذي/كتاب الأدب/حدیث: 2816]
اردو حاشہ:
1؎:
خلوق: ایک قسم کی خوشبو ہے جو عورتوں کے لیے مخصوص ہے۔

نوٹ:
(سند میں ابوحفص مجہول راوی ہے)
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 2816 سے ماخوذ ہے۔