حدیث نمبر: 50
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ الْمُخَرِّمِيُّ ، قال : حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ شَرِيكٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ جَرِيرٍ ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " تَوَضَّأَ ، فَلَمَّا اسْتَنْجَى دَلَكَ يَدَهُ بِالْأَرْضِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا ، جب آپ نے ( اس سے پہلے ) استنجاء کیا تو اپنے ہاتھ کو زمین پر رگڑا ۱؎ ۔

وضاحت:
۱؎: تاکہ ہاتھ اچھی طرح صاف ہو جائے، اور نجاست کا اثر کلی طور پر زائل ہو جائے۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / ذكر الفطرة / حدیث: 50
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن , شیخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
تخریج حدیث «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 14887)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الطہارة 24 (45)، سنن ابن ماجہ/الطہارة 29 (358)، 41 (473)، مسند احمد 2/311، 454، سنن الدارمی/الطہارة 15 (703) (حسن)»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ابي داود: 45

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ حافظ محمد امین
´استنجاء کے بعد زمین پر ہاتھ رگڑنے کا بیان۔`
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا، جب آپ نے (اس سے پہلے) استنجاء کیا تو اپنے ہاتھ کو زمین پر رگڑا ۱؎۔ [سنن نسائي/ذكر الفطرة/حدیث: 50]
50۔ اردو حاشیہ: ➊ پانی کے ساتھ دھونے سے بسا اوقات ہاتھ سے بدبو نہیں جاتی۔ مٹی پر ملنے سے بدبو ختم ہو جاتی ہے اور اگر کوئی چکنائی والی نجاست ہو تو چکنائی بھی ختم ہو جاتی ہے۔ آج کل صابن وغیرہ ملنے سے یہ مقصد حاصل ہو سکتا ہے، مٹی ضروری نہیں کیونکہ مقصد تو پاکیزگی اور صفائی ہے۔
➋ شرم گاہ اور ہاتھ کا درجہ ایک نہیں، لہٰذا ہاتھ کی خصوصی صفائی ضروری ہے کیونکہ ہاتھ کھانے، پینے، قرأت قرآن اور اور اد و وظائف میں بھی استعمال ہوتا ہے۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 50 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 45 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´استنجاء کے بعد ہاتھ کو زمین پر رگڑ کر دھونا`
«. . . ثُمَّ مَسَحَ يَدَهُ عَلَى الْأَرْضِ . . .»
. . . آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنا ہاتھ زمین پر رگڑتے . . . [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ: 45]
فوائد و مسائل:
کچی جگہوں پر استنجا کرنے کے بعد ہاتھ کو زمین پر رگڑ کر مزید صاف کر لینا مستحب ہے تاکہ بو کا شائبہ بھی نہ رہے اور جہاں مٹی میسر نہ ہو وہاں صابن اس کا قائم مقام ہو گا۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 45 سے ماخوذ ہے۔