سنن نسائي
كتاب قطع السارق— کتاب: چور کا ہاتھ کاٹنے سے متعلق احکام و مسائل
بَابُ : مَا يَكُونُ حِرْزًا وَمَا لاَ يَكُونُ باب: کون سا سامان محفوظ سمجھا جائے اور کون سا نہ سمجھا جائے؟
أَخْبَرَنِي أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ حَكِيمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَمْرٌو ، عَنْ أَسْبَاطٍ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ حُمَيْدٍ ابْنِ أُخْتِ صَفْوَانَ ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ أُمَيَّةَ ، قَالَ : كُنْتُ نَائِمًا فِي الْمَسْجِدِ عَلَى خَمِيصَةٍ لِي ثَمَنُهَا ثَلَاثُونَ دِرْهَمًا , فَجَاءَ رَجُلٌ فَاخْتَلَسَهَا مِنِّي ، فَأُخِذَ الرَّجُلُ فَأُتِيَ بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَأَمَرَ بِهِ لِيُقْطَعَ ، فَأَتَيْتُهُ ، فَقُلْتُ : أَتَقْطَعُهُ مِنْ أَجْلِ ثَلَاثِينَ دِرْهَمًا أَنَا أَبِيعُهُ وَأُنْسِئُهُ ثَمَنَهَا ، قَالَ : " فَهَلَّا كَانَ هَذَا قَبْلَ أَنْ تَأْتِيَنِي بِهِ ؟ " .
´صفوان بن امیہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` میں مسجد میں اپنی ایک چادر پر سو رہا تھا ، جس کی قیمت تیس درہم تھی ، اتنے میں ایک شخص آیا اور مجھ سے چادر اچک لے گیا ، پھر وہ آدمی پکڑا گیا اور اسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا گیا ، آپ نے حکم دیا کہ اس کا ہاتھ کاٹا جائے ، تو میں نے آپ کے پاس آ کر عرض کیا : کیا آپ اس کا ہاتھ صرف تیس درہم کی وجہ سے کاٹ دیں گے ؟ میں چادر اس کے ہاتھ بیچ دیتا ہوں اور اس کی قیمت ادھار کر لیتا ہوں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ایسا تم نے اسے ہمارے پاس لانے سے پہلے کیوں نہیں کیا “ ۔