سنن نسائي
كتاب الفرع والعتيرة— کتاب: فرع و عتیرہ کے احکام و مسائل
بَابُ : تَفْسِيرِ الْفَرَعِ باب: فرع کی تفسیر۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْأَشْعَثِ أَحْمَدُ بْنُ الْمِقْدَامِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ وَهُوَ ابْنُ زُرَيْعٍ ، قَالَ : أَنْبَأَنَا خَالِدٌ ، عَنْ أَبِي الْمَلِيحِ ، عَنْ نُبَيْشَةَ ، قَالَ : نَادَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ , فَقَالَ : إِنَّا كُنَّا نَعْتِرُ عَتِيرَةً يَعْنِي فِي الْجَاهِلِيَّةِ فِي رَجَبٍ فَمَا تَأْمُرُنَا ؟ قَالَ : " اذْبَحُوهَا فِي أَيِّ شَهْرٍ كَانَ , وَبَرُّوا اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَأَطْعِمُوا " . قَالَ : إِنَّا كُنَّا نُفْرِعُ فَرَعًا فِي الْجَاهِلِيَّةِ ، قَالَ : " فِي كُلِّ سَائِمَةٍ فَرَعٌ حَتَّى إِذَا اسْتَحْمَلَ ذَبَحْتَهُ وَتَصَدَّقْتَ بِلَحْمِهِ ، فَإِنَّ ذَلِكَ هُوَ خَيْرٌ " .
´نبیشہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو پکار کر کہا : ہم لوگ عتیرہ ذبح کرتے تھے ۔ یعنی زمانہ جاہلیت میں رجب کے مہینے میں ، تو اب آپ ہمیں کیا حکم دیتے ہیں ؟ آپ نے فرمایا : ” جس مہینہ میں چاہو اسے ذبح کرو ، اور اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرو اور لوگوں کو کھلاؤ “ ، اس نے کہا : ہم لوگ عہد جاہلیت میں فرع ذبح کرتے تھے ؟ آپ نے فرمایا : ” ہر چرنے والے جانور میں فرع ہے یہاں تک کہ جب وہ مکمل ( جانور ) ہو جائے تو تم اسے ذبح کرو اور اس کا گوشت صدقہ کرو ، یہی چیز بہتر ہے “ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
نبیشہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے بتایا گیا کہ ہم لوگ جاہلیت میں عتیرہ ذبح کرتے تھے۔ آپ نے فرمایا: ” اللہ کے لیے ذبح کرو چاہے کوئی سا مہینہ ہو، اور اللہ کے لیے نیک کام کرو اور لوگوں کو کھلاؤ۔“ [سنن نسائي/كتاب الفرع والعتيرة/حدیث: 4233]