حدیث نمبر: 4234
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا بِشْرٌ وَهُوَ ابْنُ الْمُفَضَّلِ ، عَنْ خَالِدٍ , وَرُبَّمَا قَالَ : عَنْ أَبِي الْمَلِيحِ ، وَرُبَّمَا ذَكَرَ أَبَا قِلَابَةَ ، عَنْ نُبَيْشَةَ ، قَالَ : نَادَى رَجُلٌ وَهُوَ بِمِنًى ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّا كُنَّا نَعْتِرُ عَتِيرَةً فِي الْجَاهِلِيَّةِ فِي رَجَبٍ ، فَمَا تَأْمُرُنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ ، قَالَ : " اذْبَحُوا فِي أَيِّ شَهْرٍ مَا كَانَ , وَبَرُّوا اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ , وَأَطْعِمُوا " ، قَالَ : إِنَّا كُنَّا نُفْرِعُ فَرَعًا فَمَا تَأْمُرُنَا ؟ ، قَالَ : " فِي كُلِّ سَائِمَةٍ فَرَعٌ تَغْذُوهُ مَاشِيَتُكَ حَتَّى إِذَا اسْتَحْمَلَ ذَبَحْتَهُ وَتَصَدَّقْتَ بِلَحْمِهِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´نبیشہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` ایک شخص نے منیٰ میں پکار کر کہا : اللہ کے رسول ! ہم لوگ جاہلیت میں رجب میں عتیرہ کرتے تھے ۔ تو اللہ کے رسول ! ہمارے لیے آپ کا کیا حکم ہے ؟ آپ نے فرمایا : ” ذبح کرو جس مہینے میں چاہو اور اللہ کی اطاعت کرو اور لوگوں کو کھلاؤ “ ، اس نے کہا : ہم فرع ذبح کرتے تھے ، تو آپ کا کیا حکم ہے ؟ آپ نے فرمایا : ” ہر چرنے والے جانور میں ایک فرع ہے ، جسے تم چراتے ہو ، جب وہ مکمل اونٹ ہو جائے تو اسے ذبح کرو اور اس کا گوشت صدقہ کرو “ ۔

حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب الفرع والعتيرة / حدیث: 4234
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج حدیث «انظر ما قبلہ (صحیح)»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ابي داود: 2830 | سنن ابن ماجه: 3167 | سنن نسائي: 4233 | سنن نسائي: 4236 | سنن نسائي: 4237

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: سنن نسائي / حدیث: 4233 کی شرح از حافظ محمد امین ✍️
´عتیرہ کی تفسیر۔`
نبیشہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے بتایا گیا کہ ہم لوگ جاہلیت میں عتیرہ ذبح کرتے تھے۔ آپ نے فرمایا: اللہ کے لیے ذبح کرو چاہے کوئی سا مہینہ ہو، اور اللہ کے لیے نیک کام کرو اور لوگوں کو کھلاؤ۔‏‏‏‏ [سنن نسائي/كتاب الفرع والعتيرة/حدیث: 4233]
اردو حاشہ: مقصود یہ ہے کہ نیکی کے لیے کسی مہینے کی قید نہیں، کسی بھی وقت غریبوں کو کھلایا جا سکتا ہے۔ رجب کی قید مناسب نہیں۔ اپنی طرف سے کسی مہینے، دن یا وقت کو متعین کر لینا اور پھر اس کو واجب یا افضل خیال کرنا صحیح نہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ کسی بھی نیکی کے لیے خاص اوقات وایام اور ماہ وسال مقرر کرنا کسی انسان کاحق ہے نہ اس کی ذمہ داری، بلکہ نیکی کے لیے وقت کی تعیین صرف اﷲ تعالیٰ کا حق ہے۔ اس میں تصرف کا اختیار کسی اور کو نہیں۔ مزید برآں یہ بھی ضروری ہے کہ نیکی کی کیفیت اور مقدار وہی معتبر ہوگی جو شریعت نے مقرر کر دی ہے۔ اس سے تجارز بدعات اور ایجادِ بندہ قرار پائیں گی۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 4233 سے ماخوذ ہے۔