حدیث نمبر: 3970
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ ، قَالَ : أَنْبَأَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ ، عَنْ يُونُسَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، فِي عَبْدَيْنِ مُتَفَاوِضَيْنِ كَاتَبَ أَحَدُهُمَا ، قَالَ : " جَائِزٌ إِذَا كَانَا مُتَفَاوِضَيْنِ يَقْضِي أَحَدُهُمَا عَنِ الْآخَرِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´زہری کہتے ہیں کہ` مفاوضہ کے طور پر دو غلام شریکوں پھر ایک مکاتبت کر لے تو یہ جائز ہے اس میں شرط یہ ہے کہ دونوں شریک میں یہ بات طے ہو کہ ہر ایک دوسرے کی طرف سے ادا کرے گا ۔

حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب المزارعة / حدیث: 3970
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح الإسناد مقطوع , شیخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج حدیث «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 19415) (صحیح الإسناد)»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ حافظ محمد امین
´صنعت و کاریگری میں شرکت کا بیان۔`
زہری کہتے ہیں کہ مفاوضہ کے طور پر دو غلام شریکوں پھر ایک مکاتبت کر لے تو یہ جائز ہے اس میں شرط یہ ہے کہ دونوں شریک میں یہ بات طے ہو کہ ہر ایک دوسرے کی طرف سے ادا کرے گا۔ [سنن نسائي/كتاب المزارعة/حدیث: 3970]
اردو حاشہ: شرکت مفاوضہ میں دو شخص اپنے تمام مال اور فوائد ومنافع میں شریک ہوتے ہیں۔ ایک دوسرے کے وکیل اور کفیل ہوتے ہیں حتیٰ کہ ایک کے قرض کا مطالبہ دوسرے سے کیا جاسکتا ہے‘ لہٰذا ایسی صورت میں جب ایک اپنی آزادی کی قیمت اپنے مالک سے طے کرے تو دوسرا بھی اس کے ساتھ تعاون اور حصہ داری کرے گا۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 3970 سے ماخوذ ہے۔