حدیث نمبر: 3968
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ طَارِقٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، قَالَ : لَا بَأْسَ بِإِجَارَةِ الْأَرْضِ الْبَيْضَاءِ بِالذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´سعید بن مسیب کہتے ہیں کہ` خالی زمین کو سونے ، چاندی کے بدلے کرائے پر اٹھانے میں کوئی حرج نہیں ہے ۔

حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب المزارعة / حدیث: 3968
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف الإسناد مقطوع , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف، إسناده ضعيف، شريك القاضي عنعن. انوار الصحيفه، صفحه نمبر 350
تخریج حدیث «تفردبہ النسائي (تحفة الأشراف: 18707) (ضعیف) (اس کے راوی ’’شریک القاضی‘‘ ضعیف الحفظ ہیں)»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ حافظ محمد امین
´مزارعت (بٹائی) کے سلسلے میں وارد مختلف الفاظ اور عبارتوں کا ذکر۔`
سعید بن مسیب کہتے ہیں کہ خالی زمین کو سونے، چاندی کے بدلے کرائے پر اٹھانے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ [سنن نسائي/كتاب المزارعة/حدیث: 3968]
اردو حاشہ: (1) مزارعت کے ساتھ چونکہ مضاربت کا گہرا تعلق ہے اور دونوں ایک سے ہیں‘ اس لیے مزارعت کے ساتھ مضاربت کا ذکر فرمایا۔
(2) امام نسائی رحمہ اللہ نے مضاربت کے لفظ "قرض" استعمال فرمایا ہے کیونکہ مضاربت میں قراض پایا جاتا ہے۔
(3) مضاربت پر دیا گیا مال مضارب (کاروبار کرنے والا) کے ہاتھ میں بطور امانت رہے گا۔ اگر وہ مال… اللہ نہ کرے… چوری ہوجائے یا ضائع ہوجائے‘ مثلاً: گم ہوگیا یا آگ لگ گئی وغیرہ تو مضارب ذمہ دار نہ ہوگا‘ البتہ اس سے ثبوت یا حلفیہ بیان (جو بھی مناسب ہو) لیا جائے گا۔
(4) اگر کاروبار میں خسارہ ہوجائے تو وہ اصل مال سے متصور ہوگا۔ مضارب کو حصہ نہ دینا پڑے گا۔ مالک کا مال گیا اور مضارب کی محنت گئی۔ اللہ اللہ خیر سلا۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 3968 سے ماخوذ ہے۔