سنن نسائي
كتاب المزارعة— کتاب: مزارعت (بٹائی پر زمین دینے) کے احکام و مسائل
بَابُ : 3 - باب ذِكْرِ اخْتِلاَفِ الأَلْفَاظِ الْمَأْثُورَةِ فِي الْمُزَارَعَةِ باب: مزارعت (بٹائی) کے سلسلے میں وارد مختلف الفاظ اور عبارتوں کا ذکر۔
حدیث نمبر: 3965
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ ، قَالَ : سَمِعْتُ مَعْمَرًا ، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ الْجَزَرِيِّ ، قَالَ : قَالَ سَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ ، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : " إِنَّ خَيْرَ مَا أَنْتُمْ صَانِعُونَ أَنْ يُؤَاجِرَ أَحَدُكُمْ أَرْضَهُ بِالذَّهَبِ وَالْوَرِقِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ` جو کچھ تم کرتے ہو اس میں سب سے بہتر یہ ہے کہ تم میں سے کوئی آدمی اپنی زمین سونے ، چاندی کے بدلے کرائے پردے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ حافظ محمد امین
´مزارعت (بٹائی) کے سلسلے میں وارد مختلف الفاظ اور عبارتوں کا ذکر۔`
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ جو کچھ تم کرتے ہو اس میں سب سے بہتر یہ ہے کہ تم میں سے کوئی آدمی اپنی زمین سونے، چاندی کے بدلے کرائے پردے۔ [سنن نسائي/كتاب المزارعة/حدیث: 3965]
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ جو کچھ تم کرتے ہو اس میں سب سے بہتر یہ ہے کہ تم میں سے کوئی آدمی اپنی زمین سونے، چاندی کے بدلے کرائے پردے۔ [سنن نسائي/كتاب المزارعة/حدیث: 3965]
اردو حاشہ: پیچھے گزرچکا ہے کہ غریب آدمی کے لیے ٹھیکے کی بجائے بٹائی پر زمین لینا زیادہ مفید ہے‘ اگرچہ زمین دینے والے کے لیے ٹھیکہ مفید رہتا ہے۔ اور شریعت غریبوں کی حامی ہے۔ (دیکھیے‘ حدیث:3921)
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 3965 سے ماخوذ ہے۔