حدیث نمبر: 3951
قَالَ : حَدَّثَنَا حَرَمِيُّ بْنُ يُونُسَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَارِمٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " نَهَى عَنْ كِرَاءِ الْأَرْضِ " . تَابَعَهُ مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمٍ الطَّائِفِيُّ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے زمین کرائے پر دینے سے منع فرمایا ہے ۱؎ ۔ محمد بن مسلم طائفی نے حماد کی متابعت کی ہے ۔

وضاحت:
۱؎: یہاں بھی کرایہ پر دینے سے مراد زمین کے بعض حصوں کی پیداوار کے بدلے کرایہ پر دینا ہے، نہ کہ روپیہ پیسے، یا سونا چاندی کے بدلے، جو کہ اجماعی طور پر جائز ہے۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب المزارعة / حدیث: 3951
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح الإسناد , شیخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج حدیث «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 2518)، مسند احمد (3/338، 389) (صحیح) (اس کے راوی ’’عارم محمد بن الفضل‘‘ آخری عمر میں مختلط ہو گئے تھے، اور امام نسائی نے ان سے اختلاط کے بعد روایت لی تھی، لیکن سابقہ متابعات سے تقویت پاکر یہ روایت صحیح ہے )»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ حافظ محمد امین
´زمین کو تہائی یا چوتھائی پر بٹائی دینے کی ممانعت کے سلسلے کی مختلف احادیث اور ان کے رواۃ کے الفاظ کے اختلاف کا ذکر۔`
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے زمین کرائے پر دینے سے منع فرمایا ہے ۱؎۔ محمد بن مسلم طائفی نے حماد کی متابعت کی ہے۔ [سنن نسائي/كتاب المزارعة/حدیث: 3951]
اردو حاشہ: مطلب یہ ہے کہ جس طرح سابقہ روایت میں "حماد بن زید عن عمروبن دینار عن جابر بن عبداللہ" ہے‘ اسی طرح اس روایت میں بھی حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کے بجائے حضرت جابر ہی مذکور ہے۔ الفاظ یہ ہیں: محمد بن مسلم عن عمرو بن دینار عن جابر۔ واللہ أعلم۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 3951 سے ماخوذ ہے۔