سنن نسائي
كتاب المزارعة— کتاب: مزارعت (بٹائی پر زمین دینے) کے احکام و مسائل
بَابُ : ذِكْرِ الأَحَادِيثِ الْمُخْتَلِفَةِ فِي النَّهْىِ عَنْ كِرَاءِ الأَرْضِ بِالثُّلُثِ وَالرُّبُعِ وَاخْتِلاَفِ أَلْفَاظِ النَّاقِلِينَ لِلْخَبَرِ باب: زمین کو تہائی یا چوتھائی پر بٹائی دینے کی ممانعت کے سلسلے کی مختلف احادیث اور ان کے رواۃ کے الفاظ کے اختلاف کا ذکر۔
حدیث نمبر: 3927
أَخْبَرَنِي زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ أَيُّوبَ ، قَالَ : كَتَبَ إِلَيَّ يَعْلَى بْنُ حَكِيمٍ , إِنِّي سَمِعْتُ سُلَيْمَانَ بْنَ يَسَارٍ يُحَدِّثُ ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ ، قَالَ : " كُنَّا نُحَاقِلُ الْأَرْضَ , نُكْرِيهَا بِالثُّلُثِ وَالرُّبُعِ وَالطَّعَامِ الْمُسَمَّى " . رَوَاهُ سَعِيدٌ , عَنْ يَعْلَى بْنِ حَكِيمٍ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` ہم زمین میں بٹائی کا معاملہ کیا کرتے تھے ، ہم اسے تہائی اور چوتھائی اور غلہ کی مقررہ مقدار کے بدلے کرائیے پر دیتے تھے ۔ سعید نے بھی اسے یعلیٰ بن حکیم سے روایت کیا ہے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ حافظ محمد امین
´زمین کو تہائی یا چوتھائی پر بٹائی دینے کی ممانعت کے سلسلے کی مختلف احادیث اور ان کے رواۃ کے الفاظ کے اختلاف کا ذکر۔`
رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم زمین میں بٹائی کا معاملہ کیا کرتے تھے، ہم اسے تہائی اور چوتھائی اور غلہ کی مقررہ مقدار کے بدلے کرائیے پر دیتے تھے۔ سعید نے بھی اسے یعلیٰ بن حکیم سے روایت کیا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب المزارعة/حدیث: 3927]
رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم زمین میں بٹائی کا معاملہ کیا کرتے تھے، ہم اسے تہائی اور چوتھائی اور غلہ کی مقررہ مقدار کے بدلے کرائیے پر دیتے تھے۔ سعید نے بھی اسے یعلیٰ بن حکیم سے روایت کیا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب المزارعة/حدیث: 3927]
اردو حاشہ: تہائی یا چوتھائی کے عوض بٹائی پر زمین دینا تو جائز ہے‘ البتہ معین مقدارِ غلہ کے عوض جائز نہیں کیونکہ ہوسکتا ہے اس زمین میں اتنا غلہ پیدا ہی نہ ہو۔ ہاں‘ مقررہ رقم لی جا سکتی ہے کیونکہ رقم زمین سے الگ چیز ہے۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 3927 سے ماخوذ ہے۔