سنن نسائي
كتاب المزارعة— کتاب: مزارعت (بٹائی پر زمین دینے) کے احکام و مسائل
بَابُ : ذِكْرِ الأَحَادِيثِ الْمُخْتَلِفَةِ فِي النَّهْىِ عَنْ كِرَاءِ الأَرْضِ بِالثُّلُثِ وَالرُّبُعِ وَاخْتِلاَفِ أَلْفَاظِ النَّاقِلِينَ لِلْخَبَرِ باب: زمین کو تہائی یا چوتھائی پر بٹائی دینے کی ممانعت کے سلسلے کی مختلف احادیث اور ان کے رواۃ کے الفاظ کے اختلاف کا ذکر۔
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُهَاجِرٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ ، قَالَ : مَرَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى أَرْضِ رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ قَدْ عَرَفَ أَنَّهُ مُحْتَاجٌ ، فَقَالَ : " لِمَنْ هَذِهِ الْأَرْضُ ؟ " . قَالَ : لِفُلَانٍ , أَعْطَانِيهَا بِالْأَجْرِ . فَقَالَ : " لَوْ مَنَحَهَا أَخَاهُ " . فَأَتَى رَافِعٌ الْأَنْصَارَ ، فَقَالَ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَاكُمْ عَنْ أَمْرٍ كَانَ لَكُمْ نَافِعًا , وَطَاعَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْفَعُ لَكُمْ .
´رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم انصار کے ایک آدمی کی زمین کے پاس سے گزرے جسے آپ جانتے تھے کہ وہ ضرورت مند ہے ، پھر فرمایا : ” یہ زمین کس کی ہے ؟ “ اس نے کہا : فلاں کی ہے ، اس نے مجھے کرائے پر دی ہے ، آپ نے فرمایا : ” اگر اس نے اسے اپنے بھائی کو عطیہ کے طور پردے دی ہوتی ( تو اچھا ہوتا ) “ ، تب رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ نے انصار کے پاس آ کر کہا بولے : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہیں ایک ایسی چیز سے روکا ہے جو تمہارے لیے نفع بخش تھی ، لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت تمہارے لیے سب سے زیادہ مفید اور نفع بخش ہے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
اربعاء اسی کی جمع ہے۔
ربیع نالی کو کہتے ہیں اور بعض روایتوں میں علی الربع ہے۔
جیسا کہ یہاں مذکور ہے۔
یعنی چوتھائی پیداوار پر، لیکن حافظ نے کہا صحیح ''علی الربيع'' ہے اور مطلب یہ ہے کہ وہ زمین کا کرایہ یہ ٹھہراتے کہ نالیوں پر جو پیداوار ہو وہ تو زمین والا لے گا اور باقی پیداوار محنت کرنے والے کی ہوگی۔
اس پر آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ ایسا نہ کرو۔
یا تو خود کھیتی کرو، یا کراؤ یا اسے خالی پڑا رہنے دو۔
یا کاشت کے لیے اپنے کسی مسلمان بھائی کو بخش دو۔
زمین کا کوئی خاص قطعہ کھیت والا اپنے لیے مخصوص کر لے ایسا کرنے سے منع فرمایا کیوں کہ اس میں کاشتکار کے لیے نقصان کا احتمال ہے۔
بلکہ ایک طرح سے کھیت والے کے لیے بھی، کیوں کہ ممکن ہے اس خاص ٹکڑے سے دوسرے ٹکڑوں میں پیداوار بہتر ہو۔
پس نصف یا تہائی چوتھائی بٹائی پر اجازت دی گئی اور یہی طریقہ آج تک ہر جگہ مروج ہے۔
بصورت نقد روپیہ وغیرہ محصول لے کر زمین کاشتکار کو دے دینا، یہ طریقہ بھی اسلام نے جائز رکھا۔
آگے آنے والی احادیث میں یہ جملہ تفصیلات مذکور ہو رہی ہیں۔
(1)
امام بخاری ؒ نے اس عنوان سے ذکر کردہ روایات کے معنی کا تعین کیا ہے کہ جن روایات میں مزارعت کی نہی بیان ہوئی ہے وہ زہد کی تعلیم کے لیے ہے تاکہ لوگوں میں ہمدردی اور ایثار کے جذبات پیدا ہوں، اس سے نہی تحریم مراد نہیں۔
(2)
اگر سوال پیدا ہو کہ زمین کاشت کیے بغیر چھوڑ دینا مال کو ضائع کرنا ہے تو اس کا جواب بایں طور دیا گیا ہے کہ اس سے زمین کی منفعت معطل نہیں ہوتی کیونکہ گھاس وغیرہ خوب اُگے گی اس سے جانوروں کے لیے چارے کا انتظام وافر مقدار میں ہو گا، نیز لکڑی وغیرہ بھی حاصل کی جا سکتی ہے اور کچھ نہیں تو زمین کی نمو و قوت میں اضافہ ہو گا تاکہ آئندہ سال زیادہ فصل پیدا ہو۔
بہرحال ممانعت کی مخصوص صورتیں ہیں، جن کی وضاحت پہلے ہو چکی ہے۔
رافع بن خدیج رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ایک ایسے کام سے منع فرما دیا جو ہمارے لیے مفید تھا، وہ یہ کہ جب ہم میں سے کسی کے پاس زمین ہوتی تو وہ اس کو (زراعت کے لیے) کچھ پیداوار یا روپیوں کے عوض دے دیتا۔ آپ نے فرمایا: ” جب تم میں سے کسی کے پاس زمین ہو تو وہ اپنے بھائی کو (مفت) دیدے۔ یا خود زراعت کرے ۱؎۔“ [سنن ترمذي/كتاب الأحكام/حدیث: 1384]
وضاحت:
1؎:
دیکھئے پچھلی حدیث اور اس کا حاشہ۔
رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں (بٹائی پر) کھیتی باڑی کا کام کرتے تھے تو (ایک بار) میرے ایک چچا آئے اور کہنے لگے کہ ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک کام سے منع فرما دیا ہے جس میں ہمارا فائدہ تھا، لیکن اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت ہمارے لیے مناسب اور زیادہ نفع بخش ہے، ہم نے کہا: وہ کیا ہے؟ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ” جس کے پاس زمین ہو تو چاہیئے کہ وہ خود کاشت کرے، یا (اگر خود کاشت نہ کر سکتا ہو تو) اپنے کسی بھائی کو کاشت کروا دے اور اسے تہائی یا چوتھائی یا کسی معی۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابي داود/كتاب البيوع /حدیث: 3395]
تہائی چوتھائی یا متعین غلے پر کرائے کی ایک ہی صورت مروج تھی۔
جس میں آبی گزرگاہوں نالیوں وغیرہ کی پیداوار مالک کےلئے مختص تھی، اس صورت کو ممنوع قرار دیا گیا۔
رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کہتے ہیں ہمارے پاس ابورافع رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے آئے اور کہنے لگے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اس کام سے روک دیا ہے جو ہمارے لیے سود مند تھا، لیکن اللہ کی اطاعت اور اس کے رسول کی فرماں برداری ہمارے لیے اس سے بھی زیادہ سود مند ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں زراعت کرنے سے روک دیا ہے مگر ایسی زمین میں جس کے رقبہ و حدود کے ہم خود مالک ہوں یا جسے کوئی ہمیں (بلامعاوضہ و شرط) دیدے۔ [سنن ابي داود/كتاب البيوع /حدیث: 3397]
یہ نہی مروجہ غلط صورت کے بارے میں ہے۔
رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہماری طرف نکلے تو آپ نے ہمیں ایک ایسی چیز سے روک دیا جو ہمارے لیے نفع بخش تھی اور فرمایا: ” جس کے پاس کوئی زمین ہو تو چاہیئے کہ وہ اس میں کھیتی کرے یا وہ اسے کسی کو دیدے یا اسے (یونہی) چھوڑ دے۔“ [سنن نسائي/كتاب المزارعة/حدیث: 3902]
رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہمارے پاس (ہمارے چچا) ظہیر بن رافع رضی اللہ عنہ نے آ کر کہا: مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ایسی چیز سے روکا ہے جو ہمارے لیے مفید و مناسب تھی۔ میں نے کہا: وہ کیا ہے؟ کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم اور وہ سچا (برحق) ہے، آپ نے مجھ سے پوچھا: ” تم اپنے کھیتوں کا کیا کرتے ہو؟ “ میں نے عرض کیا: ہم انہیں چوتھائی پ۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن نسائي/كتاب المزارعة/حدیث: 3955]
رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ” کیا تم اپنے کھیتوں کو اجرت پر دیتے ہو؟ “ میں نے عرض کیا: جی ہاں، اللہ کے رسول! ہم انہیں چوتھائی اور کچھ وسق جو پر بٹائی دیتے ہیں۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” ایسا نہ کرو، ان میں کھیتی کرو یا عاریتاً کسی کو دے دو، یا اپنے پاس رکھو۔“ اوزاعی نے یحییٰ بن ابی کث [سنن نسائي/كتاب المزارعة/حدیث: 3954]
رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں بٹائی کا معاملہ کرتے تھے، پھر کہتے ہیں کہ ان کے ایک چچا ان کے پاس آئے اور بولے: مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ایسی چیز سے روک دیا ہے جو ہمارے لیے نفع بخش اور مفید تھی لیکن اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت ہمارے لیے زیادہ نفع بخش اور مفید ہے۔ ہم نے کہا: وہ کیا چیز ہے؟ کہا: رسول اللہ۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن نسائي/كتاب المزارعة/حدیث: 3928]
رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہیں ایک ایسی بات سے روک دیا جو ہمارے لیے مفید اور نفع بخش تھی لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت ہمارے لیے اس سے زیادہ مفید اور نفع بخش ہے۔ آپ نے فرمایا: ” جس کے پاس زمین ہو تو وہ اس میں کھیتی کرے اور اگر وہ اس سے عاجز ہو تو اپنے (کسی مسلمان) بھائی کو کھیتی کے لیے دیدے۔“ اس میں عبدالکریم ب [سنن نسائي/كتاب المزارعة/حدیث: 3897]
(2) ”دے دے“ یعنی اگر اس کے پاس فالتو ہے ورنہ اگر وہ خود غریب ہے اور کسی عذر کی بنا پر کاشت نہیں کرسکتا (مثلاً وہ بیمار ہے یا بیوہ یا یتیم ہے وغیرہ) تو بلاریب بٹائی پر کاشت کے لیے دے سکتا ہے۔
رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں محاقلہ کیا کرتے تھے، پھر ان کا خیال ہے کہ ان کے چچاؤں میں سے کوئی آیا اور کہنے لگا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ” جس کے پاس زمین ہو وہ اس کو متعین غلے کے بدلے کرائے پر نہ دے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الرهون/حدیث: 2465]
فوائد ومسائل: یہ اس وقت کی بات ہے جب تہائی چوتھائی یا غلے کی مقرر مقدار کےعوض زمین کرائے پردینے کی صرف ایک ہی صورت مروج تھی جس میں پانی کی نالیوں کےکنارے اورآبی گزر گاہوں وغیرہ کےقریب واقع زمین کےٹکڑے کی پیداوار مالک کےلیے مختص تھی۔
حدیث میں مذکور اسی صورت کوممنوع قرار دیا گیا ہے۔
واللہ اعلم۔