سنن نسائي
كتاب الأيمان والنذور— ابواب: قسم اور نذر کے احکام و مسائل
بَابُ : تَحْرِيمِ مَا أَحَلَّ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ باب: اللہ کی حلال کی ہوئی چیزوں کو حرام کر لینے کا بیان۔
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ , قَالَ : حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ , عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ , قَالَ : زَعَمَ عَطَاءٌ , أَنَّهُ سَمِعَ عُبَيْدَ بْنَ عُمَيْرٍ , يَقُولُ : سَمِعْتُ عَائِشَةَ تَزْعُمُ : أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَمْكُثُ عِنْدَ زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ , فَيَشْرَبُ عِنْدَهَا عَسَلًا , فَتَوَاصَيْتُ أَنَا وَحَفْصَةُ أَنَّ أَيَّتُنَا دَخَلَ عَلَيْهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَلْتَقُلْ : إِنِّي أَجِدُ مِنْكَ رِيحَ مَغَافِيرَ , أَكَلْتَ مَغَافِيرَ ؟ فَدَخَلَ عَلَى إِحْدَاهُمَا , فَقَالَتْ ذَلِكَ لَهُ , فَقَالَ : " لَا , بَلْ شَرِبْتُ عَسَلًا عِنْدَ زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ , وَلَنْ أَعُودَ لَهُ " , فَنَزَلَتْ : يَأَيُّهَا النَّبِيُّ لِمَ تُحَرِّمُ مَا أَحَلَّ اللَّهُ لَكَ إِلَى إِنْ تَتُوبَا إِلَى اللَّهِ سورة التحريم آية 1 - 4 عَائِشَةُ , وَحَفْصَةُ وَإِذْ أَسَرَّ النَّبِيُّ إِلَى بَعْضِ أَزْوَاجِهِ حَدِيثًا سورة التحريم آية 3 , لِقَوْلِهِ : " بَلْ شَرِبْتُ عَسَلًا " .
´ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ام المؤمنین زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا کے پاس ٹھہرتے اور ان کے پاس شہد پیتے تھے ، میں نے اور حفصہ نے آپس میں مشورہ کیا کہ ہم میں سے جس کے پاس نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم آئیں تو وہ کہے : مجھے آپ ( کے منہ ) سے مغافیر ۱؎ کی بو محسوس ہو رہی ہے ، آپ نے مغافیر کھائی ہے ۔ آپ ان دونوں میں سے ایک کے پاس گئے تو اس نے آپ سے یہی کہا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” نہیں ، میں نے تو زینب بنت جحش کے پاس شہد پیا ہے اور آئندہ اسے نہیں پیوں گا “ ۔ تو آیت کریمہ «يا أيها النبي لم تحرم ما أحل اللہ لك» سے ( آیت کا سیاق یہ ہے کہ ) ” اے نبی جس چیز کو اللہ تعالیٰ نے حلال کر دیا ہے اسے آپ کیوں حرام کرتے ہیں “ ( التحریم : ۱ ) «إن تتوبا إلى اللہ» ( آیت کا سیاق یہ ہے کہ ) ” ( اے نبی کی بیویو ! ) اگر تم دونوں اللہ تعالیٰ کے سامنے توبہ کر لو ( تو بہتر ہے ) “ ( التحریم : ۴ ) تک نازل ہوئی ، اس سے عائشہ اور حفصہ رضی اللہ عنہما مراد ہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قول : میں نے تو شہد پیا ہے ( مگر اب نہیں پیوں گا ) کی وجہ سے آیت کریمہ «وإذ أسر النبي إلى بعض أزواجه حديثا» ” جب نبی نے اپنی بعض عورتوں سے چپکے سے ایک بات کہی “ ( التحریم : ۳ ) نازل ہوئی ۔
تشریح، فوائد و مسائل
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ام المؤمنین زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا کے پاس ٹھہرتے اور ان کے پاس شہد پیتے تھے، میں نے اور حفصہ نے آپس میں مشورہ کیا کہ ہم میں سے جس کے پاس نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم آئیں تو وہ کہے: مجھے آپ (کے منہ) سے مغافیر ۱؎ کی بو محسوس ہو رہی ہے، آپ نے مغافیر کھائی ہے۔ آپ ان دونوں میں سے ایک کے پاس گئے تو اس نے آپ سے یہی کہا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” نہیں،۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن نسائي/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 3826]
مغافیر ایک بو دار گوند ہےجو ایک درخت سےجھڑتا ہے۔
تشریح: آنحضرت ﷺ بڑے لطیف مزاج اورنفاست پسند تھے آپ کو نفرت تھی کہ آپ کےجسم یا کپڑوں سے کسی قسم کی بری بو آئے ہمیشہ خوشبو کوپسند فرماتےتھے اورخوشبو کا استعمال رکھتے تھے۔
جدھر آپ گزرتے جاتے وہاں در و دیوار معطر ہو جاتے۔
حضرت عائشہ ؓ نے یہ صلاح اس لیے کی کہ آپ حضرت زینب ؓ کے پاس جانا وہاں ٹھہرے رہنا کم کر دیں۔
اسی واقعہ پرآیت ﴿يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ لِمَ تُحَرِّمُ مَا أَحَلَّ اللَّهُ لَكَ﴾ (الترحیم: 1)
نازل ہوئیں اورقسموں کےتوڑنے اورکفارہ ادا کرنے کا حکم ہوا۔
اس واقعہ میں صداقت محمدی کی بڑی دلیل ہے، اگرخدا نخواستہ آپ اللہ کےسچے نہ ہوتے تو اس ذاتی واقعہ کو اس طرح اظہار میں نہ لاتے بلکہ پوشیدہ رکھ چھوڑتے، برخلاف اس کےاللہ پاک نے بذریعہ وحی اسے قرآن شریف میں نازل فرما دیا جوقیامت تک اس کمزوری کی نشان وہی کرتا رہےگا۔
اس میں ایمان والوں کے لیے بہت سے اسباق مضمر ہیں اللہ پاک سمجھنے اورغور و فکر کرنے کی توفیق عطا کرے، آمین۔
حضرت زینب بنت جحش ؓ امہات المؤمنین میں سے ہیں ان کی والدہ کا نام امیہ ہے۔
وہ عبدالمطلب کی بیٹی ہیں اور آنحضرت ﷺ کی پھوپھی ہیں۔
زید بن حارثہ کےنکاح میں تھیں جو آنحضرتﷺ کےآزاد کردہ غلام تھے پھر حضرت زید نے ان کو طلاق دے دی تھی۔
اس کےبعد 8ھ میں یہ حضرت رسول کریم ﷺ کےحرم میں داخل ہوئیں۔
حضرت زینب ؓ ازواج مطہرات میں آپ ﷺ کی وفات کے بعد سب پہلے انتقال کرنے والی ہیں۔
حضرت عائشہ ؓ ان کی شان میں فرماتی ہیں حضرت زینب ؓسب سےزیادہ دیندار، سب سےبڑھ کر تقویٰ شعار، سب سےزیادہ سچ بولنے والی ہیں۔
20ھ میں بعمر 53ھ سال مدینہ میں وفات پائی۔
حضرت عائشہ اور حضرت ام حبیبہ ؓ وغیرہ ان سے روایت حدیث کرتی ہیں۔
1۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بڑے لطیف مزاج اور نفاست پسند تھے۔
آپ کو یہ بات انتہائی ناپسند تھی کہ آپ کے جسم یا کپڑوں سے کوئی ناگوار بو آئے۔
آپ ہمیشہ خوشبو کو پسند کرتے اورخوشبو لگایا کرتے تھے۔
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے یہ پروگرام اس لیے تشکیل دیا تھا تا کہ آپ حضرت زینب رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے ہاں جانا اور وہاں قیام کرنا کچھ کم کردیں۔
چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیویوں کو خوش کرنے کے لیے شہد نہ کھانے کی قسم اٹھا لی، جس پر اللہ تعالیٰ نے آپ کو متنبہ فرمایا۔
2۔
چونکہ بیویوں کو خوش کرنے کے لیے ایک حلال چیز کوحرام کرلینے کا جو فعل آپ سے صادر ہوا وہ اگرچہ آپ کے اہم ترین ذمہ دارانہ منصب کے لحاظ سے مناسب نہ تھا، لیکن یہ کوئی گناہ بھی نہ تھا کہ اس پر مواخذہ کیا جاتا، اس لیے اللہ تعالیٰ نے صرف ٹوک کر اس کی اصلاح کر دینے پر اکتفا فرمایا اور آپ کی اس لغزش کو معاف کردیا۔
واللہ اعلم۔
3ھ میں ان کا نکاح ثانی رسول کریم ﷺ سے ہوا۔
بہت نیک خاتون تھیں۔
نماز روزہ کا بہت اہتمام کرنے والی 45ھ ماہ شعبان میں انتقال ہوا۔
رضي اللہ عنها۔
(1)
یہ نذر معصیت یا لجاج کی مثال ہے، یعنی وہ نذر جس میں انسان کسی حلال چیز کو بطور نذر خود پر حرام کر لیتا ہے۔
ایسی نذر کے متعلق اہل کوفہ کا موقف ہے کہ قسم کا کفارہ دے کر ایسی نذر کا ختم کرنا ضروری ہے لیکن راجح بات یہ ہے کہ ایسی نذر کا کوئی اعتبار نہیں ہے، اسے ختم کر دیا جائے اور اگر قسم اٹھائی ہے تو اس کا کفارہ دے، بصورت دیگر کفارہ نہیں ہے۔
(2)
امام بخاری رحمہ اللہ کا یہی رجحان معلوم ہوتا ہے کیونکہ انہوں نے حدیث کے آخر میں اس روایت کا حوالہ دیا ہے جس میں بصراحت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قسم کھانے کا ذکر ہے۔
امام شافعی رحمہ اللہ نے بھی اسی موقف کو اختیار کیا ہے۔
(3)
واضح رہے کہ امام بخاری رحمہ اللہ نے جس روایت کا ذکر کیا ہے وہ کتاب التفسیر، حدیث: 4912 میں ہے۔
واللہ أعلم
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اس سے بڑی نفرت تھی کہ آپ کے بدن یا کپڑے میں سے کوئی بد بو آئے۔
آپ انتہائی نفاست پسند تھے۔
ہمیشہ خوشبو میں معطر رہتے تھے۔
حضرت عائشہ اور حضرت حفصہ رضی اللہ عنہما نے یہ صلاح اس لیے کی کہ آپ شہد پینا چھوڑ کر اس دن سے زینب رضی اللہ عنہا کے پاس ٹھہرنا چھوڑ دیں۔
(1)
جو حضرات کہتے ہیں کہ بیوی کو خود پر حرام قرار دینے سے کچھ لازم نہیں آتا انھوں نے اسی آیت سے دلیل لی ہے۔
لیکن امام بخاری رحمہ اللہ نے اس موقف کی تردید کی ہے کہ یہ آیت شہد کے حرام کرنے پر نازل ہوئی تھی،عورت کے حرام کرنے پر نہیں۔
(2)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم طبعاً بہت نفاست پسند تھے۔
آپ کو بہت نفرت تھی کہ آپ کے بدن یا کپڑوں سے کسی قسم کی بو آئے،اس لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اکثر اوقات خوشبو سے معطر رہتے تھے۔
شہد کو حرام کردینے کی بھی یہی وجہ تھی۔
چونکہ آپ نے قسم بھی اٹھائی تھی جیسا کہ ایک دوسری روایت سے معلوم ہوتا ہے،(صحیح البخاری، التفسیر، حدیث: 4912)
اس لیے آپ کو قسم کا کفارہ دینے کے متعلق کہا گیا۔
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کا موقف یہ تھا کہ بیوی کو حرام کرلینے سے طلاق واقع نہیں ہوتی بلکہ قسم کا کفارہ دینا ہوگا جیسا کہ ایک روایت میں ہے کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس ایک آدمی آیا اور اس نے کہا: میں نے اپنی بیوی کو اپنے آپ پر حرام کرلیا ہے تو انھوں نے فرمایا: تو غلط کہتا ہے۔
وہ تجھ پر حرام نہیں ہوئی،پھر آپ نے سورۂ تحریم کی پہلی آیت پڑھی اور فرمایا کہ تجھے ایک غلام آزاد کرنا ہوگا۔
(سنن النسائی، الطلاق، حدیث: 3449)
مَغَافِيْر: مَغْفُوْر کی جمع ہے۔
یہ عرفط نامی بوٹی کا ایک قسم کا پھول ہے جس سے بدبو پھوٹتی ہے۔
فوائد ومسائل: حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا اور حضرت حفصہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو چونکہ یہ بات معلوم تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت زینب رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے ہاں شہد پیتے ہیں اور شہد کی مکھیاں علاقہ کی جڑی بوٹیوں سے رس چوس کر شہد تیار کرتی ہیں اور مدینہ کے علاقہ میں عرفط بوٹی تھی جس کے پھول سے بد بو پھوٹتی تھی اس لیے دونوں نے توریہ و تعریض سے کام لیتے ہوئے سوالیہ انداز میں پوچھا کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مغافیر کھایا ہے؟ تا کہ رس کی بد بو کی طرف اشارہ کیا جا سکے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم بو کو ناپسند فرماتے تھے، اس طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم شہد پینے کے لیے حضرت زینب رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے ہاں زیادہ قیام نہیں کریں گے، اور ان کا یہی مقصود تھا، اور آیت میں راز کی بات کہی اس لیے فرمایا گیا ہے کہ بخاری شریف میں ہے: (قَدْ حَلَفْتُ)
(میں نے قسم اٹھائی ہے)
(وَلَا تُخْبِرِيْ بِذٰلِكَ اَحَداً)
(تم کسی کو اس کی خبر نہ دینا)
اور ایک اور روایت سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت حفصہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی باری کے دن حضرت حفصہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے گھر میں حضرت ماریہ قبطیہ کو بلا لیا تھا کیونکہ حضرت حفصہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت لے کر اپنے باپ کے گھر کچھ وقت کے لیے چلی گئی تھیں واپسی پر انھوں نے جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو غسل کیے ہوئے دیکھا تو اعتراض کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ماریہ کو اپنے اوپر حرام قرار دے دیا اور فرمایا اس کی اطلاع کی دوسری بیوی کو نہ دینا لیکن حضرت حفصہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے درمیانی دیوار پر ہاتھ مار کر حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو متوجہ کر کے انہیں بتا دیا۔
اور اور ان دونوں واقعات کے بعد سورہ تحریم کی ابتدائی آیات کا نزول ہوا، اور حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما کے قول کی بنیاد یہی دوسرا واقعہ ہے۔
کیونکہ قرآن مجید میں اس کو قسم قرار دیا گیا ہے: ﴿قَدْ فَرَضَ اللَّهُ لَكُمْ تَحِلَّةَ أَيْمَانِكُمْ﴾ (التحریم: 2) (اللہ تعالیٰ نے تم پر قسموں کو کھول ڈالنا لازم ٹھہرایا ہے)
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ام المؤمنین زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا کے پاس ٹھہرے ہوئے تھے اور ان کے ہاں شہد پی رہے تھے، میں نے اور حفصہ رضی اللہ عنہا نے باہم مشورہ کیا کہ ہم میں سے جس کے پاس نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم آئیں تو وہ کہے: مجھے آپ سے مغافیر ۱؎ کی بو آ رہی ہے، آپ نے مغافیر کھایا ہے۔ آپ ان میں سے ایک کے پاس گئے تو اس نے یہی کہا، آپ نے فرمایا: ” نہیں، میں نے تو زینب بنت جحش کے پاس شہد پیا ہے اور اب آئندہ نہیں پیو۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن نسائي/كتاب عشرة النساء/حدیث: 3410]
(2) ”مغافیر“ یہ گوند سی ایک چیز ہے جو گگل جیسے درخت سے نکلتی ہے۔ ا س کا ذائقہ تو میٹھا ہوتا ہے مگر بوقبیح ہوتی ہے۔ کھانے والے کے منہ سے بعد میں بھی بو محسوس ہوتی ہے۔ اور آپ کو بدبو سے سخت نفرت تھی‘ لہٰذا آپ نے شہد نہ پینے کا فیصلہ فرما لیا۔ لیکن چونکہ ان ازواج مطہرات رضی اللہ عنھن نے اس مقصد کے لیے غلط طریقہ اختیار کیا تھا‘ اس لیے اللہ تعالیٰ نے آپ کو شہد کا استعمال جاری رکھنے کاحکم فرمایا۔
(3) ”اگر تم توبہ کرو“ غلطی ہر انسان سے ہوسکتی ہے۔ ازواج مطہرات رضی اللہ عنھن معصوم نہیں تھیں۔ ان سے یہ غلطی ہوئی‘ پھر انہوں نے توبہ کرلی اور حدیث شریف میں ہے [التّائِبُ مِنَ الذَّنْبِ كمَن لا ذَنْبَ له ] (صحیح الجامع الصغیر‘ حدیث: 3008) توبہ سے گناہ ختم ہوجاتا ہے‘ لہٰذا ان پر کوئی اعتراض نہیں کیا جاسکتا بلکہ توبہ کرلینا ان کی فضیلت ہے۔
(4) ”راز کی بات“ آپ نے فرمایا تھا: ”مں ان کے ہاں شہد نہیں پیوں گا لیکن تم کسی سے ذکر نہ کرنا“ مگر حضرت حفصہ سے غلطی ہوگئی کہ انہوں نے یہ بات حضرت عائشہؓ سے ذکر کردی۔ اسی لیے انہیں توبہ کرنے کی تلقین کی گئی اور انہوں نے توبہ کرلی۔
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم زینب رضی اللہ عنہا کے پاس ٹھہرتے اور ان کے پاس شہد پی کر آتے تو ہم نے اور حفصہ نے آپس میں صلاح و مشورہ کیا کہ ہم میں سے جس کے پاس بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم آئیں وہ کہے کہ (کیا بات ہے) مجھے آپ کے منہ سے مغافیر ۱؎ کی بو آتی ہے، آپ ہم میں سے ایک کے پاس آئے تو اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی بات کہی۔ آپ نے کہا: ” میں نے تو کچھ کھایا پیا نہیں بس زینب کے پاس صرف شہد پیا ہے۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3450]