حدیث نمبر: 2381
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ ، قَالَ : أَنْبَأَنَا إِسْمَاعِيلُ ، عَنِ الْجُرَيْرِيِّ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الشِّخِّيرِ ، عَنْ أَخِيهِ مُطَرِّفٍ ، عَنْ عِمْرَانَ ، قَالَ : قِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ! إِنَّ فُلَانًا لَا يُفْطِرُ نَهَارًا الدَّهْرَ , قَالَ : " لَا صَامَ وَلَا أَفْطَرَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´عمران بن حصین رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` عرض کیا گیا : اللہ کے رسول ! فلاں شخص کبھی دن کو افطار نہیں کرتا ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اس نے نہ روزہ رکھا ، نہ افطار کیا “ ۔

حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب الصيام / حدیث: 2381
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج حدیث «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 10858)، مسند احمد 4/426، 431، 433 (صحیح)»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ حافظ محمد امین
´صیام الدھر (ہمیشہ روزہ رکھنے) کی ممانعت، اور اس سلسلہ کی حدیث میں مطرف بن عبداللہ پر راویوں کے اختلاف کا ذکر۔`
عمران بن حصین رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ عرض کیا گیا: اللہ کے رسول! فلاں شخص کبھی دن کو افطار نہیں کرتا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس نے نہ روزہ رکھا، نہ افطار کیا۔‏‏‏‏ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2381]
اردو حاشہ: ہمیشہ روزہ رکھنا فطرت انسانی کے خلاف ہے کیونکہ اس سے حقوق العباد کی ادائیگی میں خرابی پیدا ہو گی، جسمانی کمزور ہوگی، معاش خراب ہوگا، وغیرہ وغیرہ۔ لہٰذا ہمیشہ روزہ رکھنا درست نہیں، چاہے وہ عیدین اور ایام تشریق کے روزے چھوڑ بھی دے کیونکہ مذکورہ بالا خرابیاں اس صورت میں بھی بعینہٖ موجود ہیں۔ اگرچہ فقہی طور پر اس کے جواز کی یہ کہہ کر گنجائش نکالی گئی ہے کہ پانچ ناغے ہونے سے حقیقتاً ہمیشہ کا روزہ نہ رہا۔ مگر فقہی موشگافیوں کے بجائے مصالح اور مفاسد کا لحاظ رکھنا اصل ہے۔ شریعت کے احکام میں یہ چیز صاف نظر آتی ہے، مثلا: کتے کا جوٹھا پلید ہے، بلی کا پاک۔ محفوظ پانی قلیل نجاست سے پلید ہو جاتا ہے، مگر کھلا پانی نہیں، وغیرہ۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 2381 سے ماخوذ ہے۔