حدیث نمبر: 2224
أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الضَّعِيفُ شَيْخٌ صَالِحٌ وَالضَّعِيفُ لَقَبٌ لِكَثْرَةِ عِبَادَتِهِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ الْحَضْرَمِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي يَعْقُوبَ ، عَنْ أَبِي نَصْرٍ ، عَنْ رَجَاءِ بْنِ حَيْوَةَ ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ ، أَنَّهُ سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيُّ الْعَمَلِ أَفْضَلُ ؟ قَالَ : " عَلَيْكَ بِالصَّوْمِ فَإِنَّهُ لَا عِدْلَ لَهُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ابوامامہ باہلی رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ` انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا : کون سا عمل افضل ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” روزے کو لازم پکڑو کیونکہ اس کے برابر کوئی عمل نہیں ہے “ ۔

حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب الصيام / حدیث: 2224
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج حدیث «انظر حدیث رقم: 2222 (صحیح)»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ حافظ محمد امین
´روزہ دار کی فضیلت کے سلسلے میں ابوامامہ رضی الله عنہ والی حدیث میں محمد بن ابی یعقوب پر راویوں کے اختلاف کا ذکر۔`
ابوامامہ باہلی رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: کون سا عمل افضل ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " روزے کو لازم پکڑو کیونکہ اس کے برابر کوئی عمل نہیں ہے۔‏‏‏‏" [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2224]
اردو حاشہ: اس روایت کے راوی کا لقب ضعیف ہے، روایت کے اعتبار سے ضعیف نہیں کیونکہ وہ کثرت عبادت سے کمزور ہوگئے تھے۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 2224 سے ماخوذ ہے۔