سنن نسائي
كتاب الصيام— کتاب: روزوں کے احکام و مسائل و فضائل
بَابُ : فَصْلِ مَا بَيْنَ صِيَامِنَا وَصِيَامِ أَهْلِ الْكِتَابِ باب: ہمارے (مسلمانوں) اور اہل کتاب کے روزہ میں فرق کا بیان۔
حدیث نمبر: 2168
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُلَيٍّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي قَيْسٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ فَصْلَ مَا بَيْنَ صِيَامِنَا وَصِيَامِ أَهْلِ الْكِتَابِ أَكْلَةُ السُّحُورِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عمرو بن العاص رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ہمارے اور اہل کتاب کے صیام میں جو فرق ہے ، ( وہ ہے ) سحری کھانا “ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ حافظ محمد امین
´ہمارے (مسلمانوں) اور اہل کتاب کے روزہ میں فرق کا بیان۔`
عمرو بن العاص رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” ہمارے اور اہل کتاب کے صیام میں جو فرق ہے، (وہ ہے) سحری کھانا۔“ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2168]
عمرو بن العاص رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” ہمارے اور اہل کتاب کے صیام میں جو فرق ہے، (وہ ہے) سحری کھانا۔“ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2168]
اردو حاشہ: فوائد کے لیے دیکھیے‘حدیث:2164۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 2168 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 2343 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´سحری کھانے کی تاکید کا بیان۔`
عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” ہمارے اور اہل کتاب کے روزے میں سحری کھانے کا فرق ہے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الصيام /حدیث: 2343]
عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” ہمارے اور اہل کتاب کے روزے میں سحری کھانے کا فرق ہے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الصيام /حدیث: 2343]
فوائد ومسائل:
مسلمان کی زندگی کے تمام امور... عبادات و معاملات... نیت صالحہ پر مبنی ہونے چاہئیں۔
روزے میں صبح کا کھانا محض اس فکر سے نہیں کھانا چاہیے کہ سارا دن بھوک اور پیاس برداشت کرنی ہے۔
بلکہ اس نیت سے کھانا چاہیے کہ اللہ کی اطاعت اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے، نیز اہل کتاب سے امتیاز بھی ہے۔
اور یہی شرح ہے اس معروف حدیث کی یعنی (إنَّمَا الأَعْمالُ بِالنياتِ) نیت صالحہ و طیبہ سے عمل کے اجر میں بہت اضافہ ہو جاتا ہے۔
اور شریعت کا اہم مطالبہ بھی ہے کہ مسلمان ملی طور پر دوسری امتون سے اپنی امتوں سے اپنی عبادات میں بھی منفرد ہوں اور عادات میں بھی۔
مسلمان کی زندگی کے تمام امور... عبادات و معاملات... نیت صالحہ پر مبنی ہونے چاہئیں۔
روزے میں صبح کا کھانا محض اس فکر سے نہیں کھانا چاہیے کہ سارا دن بھوک اور پیاس برداشت کرنی ہے۔
بلکہ اس نیت سے کھانا چاہیے کہ اللہ کی اطاعت اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے، نیز اہل کتاب سے امتیاز بھی ہے۔
اور یہی شرح ہے اس معروف حدیث کی یعنی (إنَّمَا الأَعْمالُ بِالنياتِ) نیت صالحہ و طیبہ سے عمل کے اجر میں بہت اضافہ ہو جاتا ہے۔
اور شریعت کا اہم مطالبہ بھی ہے کہ مسلمان ملی طور پر دوسری امتون سے اپنی امتوں سے اپنی عبادات میں بھی منفرد ہوں اور عادات میں بھی۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2343 سے ماخوذ ہے۔