حدیث نمبر: 2166
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ ، قَالَ : أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، عَنْ بَقِيَّةَ بْنِ الْوَلِيدِ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي بَحِيرُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ ، عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِ يكَرِبَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " عَلَيْكُمْ بِغَدَاءِ السُّحُورِ ، فَإِنَّهُ هُوَ الْغَدَاءُ الْمُبَارَكُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´مقدام بن معد یکرب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم صبح کا کھانا ( سحری کو ) لازم پکڑو ، کیونکہ یہ مبارک کھانا ہے “ ۔

حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب الصيام / حدیث: 2166
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح الإسناد , شیخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج حدیث «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 11560) ، مسند احمد 4/132 (صحیح الإسناد)»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ حافظ محمد امین
´سحری کو صبح کا کھانا کہنے کا بیان۔`
مقدام بن معد یکرب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم صبح کا کھانا (سحری کو) لازم پکڑو، کیونکہ یہ مبارک کھانا ہے۔‏‏‏‏ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2166]
اردو حاشہ: غذا اس کھانے کو کہا جاتا ہے جو دن کے آغاز میں کھایا جاتا ہے۔ روزے دار کے لیے چونکہ سحری ہی دن کے کھانے کے قائم مقام ہے، لہٰذا اسے حدیث مبارکہ میں غذا بھی کہا گیا ہے، جیسے ہم اپنی زبان میں سحری کو ناشتہ کہہ لیں۔(مزید دیکھئے، حدیث: 2146)
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 2166 سے ماخوذ ہے۔