سنن نسائي
كتاب الصيام— کتاب: روزوں کے احکام و مسائل و فضائل
بَابُ : ذِكْرِ الاِخْتِلاَفِ عَلَى مَنْصُورٍ فِي حَدِيثِ رِبْعِيٍّ فِيهِ باب: اس سلسلہ میں ربعی کی حدیث میں منصور پر راویوں کے اختلاف کا ذکر۔
حدیث نمبر: 2129
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ رِبْعِيٍّ ، عَنْ بَعْضِ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تَقَدَّمُوا الشَّهْرَ حَتَّى تُكْمِلُوا الْعِدَّةَ ، أَوْ تَرَوْا الْهِلَالَ ، ثُمَّ صُومُوا وَلَا تُفْطِرُوا حَتَّى تَرَوْا الْهِلَالَ ، أَوْ تُكْمِلُوا الْعِدَّةَ ثَلَاثِينَ " , أَرْسَلَهُ الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ایک صحابی رسول رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم رمضان کے مہینہ پر سبقت نہ کرو یہاں تک کہ شعبان کی گنتی پوری کر لو ، یا رمضان کا چاند دیکھ لو پھر روزہ رکھو ، اور نہ روزہ بند کرو یہاں تک کہ تم عید الفطر کا چاند دیکھ لو ، یا رمضان کی تیس ( دن ) کی گنتی پوری کر لو “ ۔ حجاج بن ارطاۃ نے اسے مرسلاً روایت کیا ہے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ حافظ محمد امین
´اس سلسلہ میں ربعی کی حدیث میں منصور پر راویوں کے اختلاف کا ذکر۔`
ایک صحابی رسول رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” تم رمضان کے مہینہ پر سبقت نہ کرو یہاں تک کہ شعبان کی گنتی پوری کر لو، یا رمضان کا چاند دیکھ لو پھر روزہ رکھو، اور نہ روزہ بند کرو یہاں تک کہ تم عید الفطر کا چاند دیکھ لو، یا رمضان کی تیس (دن) کی گنتی پوری کر لو۔“ حجاج بن ارطاۃ نے اسے مرسلاً روایت کیا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2129]
ایک صحابی رسول رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” تم رمضان کے مہینہ پر سبقت نہ کرو یہاں تک کہ شعبان کی گنتی پوری کر لو، یا رمضان کا چاند دیکھ لو پھر روزہ رکھو، اور نہ روزہ بند کرو یہاں تک کہ تم عید الفطر کا چاند دیکھ لو، یا رمضان کی تیس (دن) کی گنتی پوری کر لو۔“ حجاج بن ارطاۃ نے اسے مرسلاً روایت کیا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2129]
اردو حاشہ: چونکہ قمری مہینہ تیس دن سے زائد ہوتا ہی نہیں، لہٰذا تیس دن پورے ہونے کے بعد چاند دیکھنا ضروری نہیں۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 2129 سے ماخوذ ہے۔