سنن نسائي
كتاب الجنائز— کتاب: جنازہ کے احکام و مسائل
بَابُ : ذِكْرِ أَوَّلِ مَنْ يُكْسَى باب: (قیامت کے دن) جسے سب سے پہلے کپڑا پہنایا جائے گا۔
أَخْبَرَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا وَكِيعٌ ، وَوَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ , وَأَبُو دَاوُدَ , عَنْ شُعْبَةَ ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ النُّعْمَانِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْمَوْعِظَةِ , فَقَالَ : " يَا أَيُّهَا النَّاسُ , إِنَّكُمْ مَحْشُورُونَ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ عُرَاةً قَالَ أَبُو دَاوُدَ : حُفَاةً غُرْلًا ، وَقَالَ وَكِيعٌ ، وَوَهْبٌ : عُرَاةً غُرْلًا كَمَا بَدَأْنَا أَوَّلَ خَلْقٍ نُعِيدُهُ سورة الأنبياء آية 104 , قَالَ : أَوَّلُ مَنْ يُكْسَى يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِبْرَاهِيمُ عَلَيْهِ السَّلَام وَإِنَّهُ سَيُؤْتَى قَالَ : أَبُو دَاوُدَ : يُجَاءُ ، وَقَالَ وَهْبٌ ، وَوَكِيعٌ سَيُؤْتَى بِرِجَالٍ مِنْ أُمَّتِي فَيُؤْخَذُ بِهِمْ ذَاتَ الشِّمَالِ , فَأَقُولُ : رَبِّ أَصْحَابِي ، فَيُقَالُ : إِنَّكَ لَا تَدْرِي مَا أَحْدَثُوا بَعْدَكَ , فَأَقُولُ : كَمَا قَالَ الْعَبْدُ الصَّالِحُ وَكُنْتُ عَلَيْهِمْ شَهِيدًا مَا دُمْتُ فِيهِمْ فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِي إِلَى قَوْلِهِ وَإِنْ تَغْفِرْ لَهُمْ سورة المائدة آية 117 - 118 الْآيَةَ , فَيُقَالُ : إِنَّ هَؤُلَاءِ لَمْ يَزَالُوا مُدْبِرِينَ , قَالَ أَبُو دَاوُدَ : مُرْتَدِّينَ عَلَى أَعْقَابِهِمْ مُنْذُ فَارَقْتَهُمْ " .
´عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نصیحت کرنے کھڑے ہوئے تو فرمایا : ” لوگو ! تم اللہ تعالیٰ کے پاس ننگے جسم جمع کئے جاؤ گے ، ( ابوداؤد کی روایت میں ہے ننگے پاؤں اور غیر مختون جمع کئے جاؤ گے ، اور وکیع اور وہب کی روایت میں ہے : ننگے جسم اور بلا ختنہ ) جیسے ہم نے پہلی دفعہ پیدا کیا تھا ویسے ہی دوبارہ پیدا کریں گے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : سب سے پہلے جسے قیامت کے دن کپڑا پہنایا جائے گا ابراہیم علیہ السلام ہوں گے ، اور عنقریب میری امت کے کچھ لوگ لائے جائیں گے ( ابوداؤد کی روایت میں «یجائ» ہے اور وہب اور وکیع کی روایت میں «سیؤتی» ہے ) اور وہ پکڑ کر بائیں جانب لے جائے جائیں گے ، میں عرض کروں گا : اے میرے رب ! یہ میرے اصحاب ( امتی ) ہیں ، کہا جائے گا : آپ نہیں جانتے جو آپ کے بعد انہوں نے شریعت میں نئی چیزیں ایجاد کر ڈالی ہیں ، تو میں وہی کہوں گا جو نیکوکار بندے ( عیسیٰ علیہ السلام ) نے کہا تھا کہ جب تک میں ان کے درمیان موجود تھا ان پر گواہ تھا جب تو نے مجھے وفات دے دی ( تو تو ہی ان کا نگہبان تھا ) اب اگر تو انہیں سزا دے تو یہ تیرے بندے ہیں ، اور اگر انہیں بخش دے تو تو زبردست حکمت والا ہے ، تو کہا جائے گا : یہ لوگ برابر پیٹھ پھیرنے والے رہے ، ( اور ابوداؤد کی روایت میں ہے : جب سے تم ان سے جدا ہوئے یہ اپنے ایڑیوں کے بل پلٹنے والے رہے ) ۔
تشریح، فوائد و مسائل
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نصیحت کرنے کھڑے ہوئے تو فرمایا: ” لوگو! تم اللہ تعالیٰ کے پاس ننگے جسم جمع کئے جاؤ گے، (ابوداؤد کی روایت میں ہے ننگے پاؤں اور غیر مختون جمع کئے جاؤ گے، اور وکیع اور وہب کی روایت میں ہے: ننگے جسم اور بلا ختنہ) جیسے ہم نے پہلی دفعہ پیدا کیا تھا ویسے ہی دوبارہ پیدا کریں گے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سب سے پہلے جسے قیامت کے دن کپڑا پہنایا جائے گا ابراہیم ع۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 2089]
(2) ”بائیں طرف“ یعنی انھیں جہنم کی طرف لے جایا جائے گا۔ جہنمیوں کو اصحاب الشمال کہا گیا ہے۔
(3) ”اسی وقت مرتد ہوگئے تھے“ فتنہ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے فوراً بعد شروع ہوگیا تھا اور اب تک جاری ہے۔ کوئی نہ کوئی بدنصیب مرتد ہوتا ہی رہتا ہے۔ أعاذنا اللہ منه۔ ممکن ہے صرف وہ لوگ مراد ہوں جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے فوراً بعد مرتد ہوگئے تھے اور جن سے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ برسر پیکار ہوئے۔ اور ممکن ہے اسلام سے ارتداد کے بجائے سنن سے ارتداد مقصود ہو، یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد بدعتی ہوگئے تھے اور اصل اسلامی تعلیمات سے انحراف کرکے اسی بدعتی انحراف پر قائم رہے۔ أعاذنا اللہ من البدع و الخرافات۔
1۔
اس حدیث اور آیت کریمہ سے یہ بھی معلوم ہوا کہ حضرات انبیاء ؑ کو غیب کا علم نہیں ہوتا، مگر اتنا ہی جنتا اللہ تعالیٰ انھیں بتا دے نیز انبیاء ؑ کے رخصت ہونے کے بعد انھیں اپنی امت کے اعمال کی خبر نہیں ہوتی۔
2۔
رسول اللہ ﷺ کی وفات کے بعد فتنوں کا دروازہ کھلا۔
مدینہ مکہ اور بحرین کے علاوہ باقی تمام جگہوں میں شور و غل اٹھا، یمامہ میں مسیلمہ کذاب نے نبوت کا دعوی کر دیا۔
اسود عنسی بھی نبوت کا دعویدار تھا جو رسول اللہ ﷺ کی وفات سے تین دن پہلے جہنم واصل ہوا۔
کچھ لوگ اس کے معتقدہوئے تھے کچھ لوگ دور جاہلیت کی طرف پھر گئے کچھ اسلام پر رہے لیکن بعض واجبات کا انھوں نے انکار کردیا جیسا کہ منکرین زکاۃ سے حضرت ابو بکر ؓ سال بھر جنگ کرتے ہے۔
کچھ مرتدین مارے گئے البتہ اکثر اسلام کی طرف واپس آگئے۔
غالباً انھی لوگوں کے متعلق رسول اللہ ﷺ "أصحابي" کے الفاظ کہیں گے۔
3۔
اس حدیث سے حضرت ابراہیم ؑ کی ایک جزوی فضیلت معلوم ہوتی ہے اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ آپ سیدالانبیاء حضرت محمد ﷺ سے افضل ہیں کیونکہ جزوی فضیلت کلی فضیلت کو لازم نہیں ہے۔
ہمارے رجحان کے مطابق "أصحابي" سے مراد جملہ اہل بدعت ہیں جن کا اوڑھنا بچھونا ہی بدعات و رسومات ہیں۔
ان کے متعلق رسول اللہ ﷺ پہلے نرم گوشتہ رکھیں گے۔
پھر جب حقیقت حال سے آگاہ ہوں گے تو ان سے اعلان بے زاری فرمائیں گے۔
أعاذنا اللہ منه أجمعین۔
حضرت ابوبکر ؓنے ان سے جہاد کیا۔
یہ دیہات کے وہ بدوی تھے جو برائے نام اسلام میں داخل ہوگئے تھے اور آنحضرت ﷺ کی وفات کے ساتھ ہی پھر مرتد ہوکر اسلام کے خلاف مقابلہ کے لیے کھڑے ہوگئے تھے جو یا تو منافق تھے یا اسلام کے غلبہ سے خوف زدہ ہوکر اسلام میں داخل ہوگئے تھے۔
اور انہوں نے اسلام سے کبھی کوئی دلچسپی سرے سے لی ہی نہیں تھی۔
ان مرتدین نے خلافت اسلامیہ کے خلاف جنگ کی اور شکست کھائی یا قتل کئے گئے۔
1۔
حضرت ابراہیم ؑ کی خصوصیت یہ تھی کہ انھیں ننگا کرکے آتش نمرود میں ڈالا گیا تھا۔
چونکہ یہ اللہ کے لیے تھا،اس لیے قیامت کے دن تمام لوگوں سے پہلے انھیں لباس پہنایا جائے گا۔
اگرچہ رسول اللہ ﷺ تمام انبیاء سے افضل ہیں، تاہم یہ جزوی فضیلت کلی فضیلت کے منافی نہیں جیسا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’قیامت کے دن جب میں ہوش میں آؤں گا تو حضرت موسیٰ علیہ السلام کو عرش الٰہی کاکنارا پکڑے ہوئے پاؤں گا۔
‘‘ (صحیح البخاري، الخصومات، حدیث: 2411)
یہ بھی ایک اُصول ہے کہ متکلم اپنے عمومی خطاب میں داخل نہیں ہوتا۔
چونکہ رسول اللہ ﷺ متکلم ہیں، اس لیے مذکورہ حکم سے خارج ہیں۔
2۔
حدیث کے آخر میں جن لوگوں کا حال بیان کیا گیا ہے ان سے غالباً وہ لوگ مراد ہیں جو رسول اللہ ﷺ کی وفات کے بعد خلافت صدیقی میں مرتد ہوگئے اور حضرت ابوبکر ؓنے ان کے خلاف جہاد کیا تھا۔
3۔
رسول اللہ ﷺ حضرت عیسیٰ کی بات دہرائیں گے جسے قرآن نے ان الفاظ میں بیان کیا ہے: ’’جب تک میں ان کے اندر رہا ان کا حال دیکھتا رہا،پھر جب تو نے مجھے واپس بلالیا تو پھر تو ہی ان پر نگران تھا اور توتو ساری چیزوں پر شاہد ہے۔
اگر توانھیں سزا دے تو وہ تیرے ہی بندے ہیں اوراگر تو انھیں معاف کردے تو بلاشبہ تو ہی غالب اور دانا ہے۔
‘‘ (المآئدة: 117/5، 118)
4۔
بہرحال اس حدیث سے امام بخاری ؒنے حضرت ابراہیم ؑ کی ایک جزوی فضیلت کو ثابت کیا ہے۔
1۔
پوری آیات کا ترجمہ حسب ذیل ہے: "میں ان پر گواہ رہا جب تک میں ان میں موجود رہا، پھر جب تو نے مجھے اٹھا لیا توتوہی ان پر مطلع رہا اور تو ہر چیز کی پوری خبر رکھتا ہے اگر تونے انھیں سزا دی تو یہ تیرے بندے ہیں اور اگر تو نے انھیں معاف فرما دے توتو زبردست ہےخوب حکمت والا ہے۔
"(المائدة: 117/5، 118)
2۔
اس آیت کریمہ میں بندوں کی عاجزی اور اللہ تعالیٰ کی جلالت شان کے حوالے سے عفود مغفرت کی التجا کی گئی ہے۔
سبحان اللہ! یہ آیت کس قدر عجیب اور بلیغ ہے چنانچہ ایک حدیث میں ہے کہ ایک رات رسول اللہ ﷺ پر نوافل میں اس آیت کو پڑھتے ہوئے ایسی کیفیت طاری ہوئی کہ بار بار ہر رکعت میں اس آیت کو پڑھتے رہے حتی کہ صبح ہو گئی۔
(مسند أحمد: 149/5)
3۔
بہر حال اس آیت کریمہ میں حضرت عیسیٰ ؑ بڑے حکیمانہ انداز میں اللہ کے حضوربندوں کی سفارش کریں گے۔
پہلے تو اللہ کی کبریائی بیان کرتے ہوئے کہیں گے کہ اگر تو انھیں عذاب دے گا تو یہ تیرے بندے ہی ہیں نہ دم مار سکتے ہیں اور نہ بھاگ کر کہیں جا سکتے ہیں اور اگر تو انھیں معاف فرما دے تو تیری شان غفاری کے کیا کہنے اور اگر تو انھیں معاف کردے تو مختار اور اگر سزا دے تو بھی مختار ہے۔
واللہ المستعان۔
آج کل قبروں اور بزرگوں کے مزارات پر ایسے لوگ بکثرت دیکھے جا سکتے ہیں جن کے لیے کہا گیا ہے۔
شکوہ جفائے وفا نما جو حرم کو اہل حرم سے ہے اگر بت کدے میں بیاں کروں تو کہے صنم بھی ہری ہریحضرت عیسیٰ علیہ السلام نے فرمایا اے اللہ! میں جب تک ان میں موجود رہا اس وقت تک میں ان پر گواہ تھا۔
پھر جب کہ تونے خود مجھے لے لیا پھر تو تو ہی ان پر نگہبان تھا اور تو تو ہر چیز سے پورا باخبر ہے اگر تو انہیں سزا دے تو یہ تیرے غلام ہیں اور اگر تو انہیں بخش دے تو بے شک تو زبردست غلبے والا اور حکمت والا ہے۔
(1)
اس حدیث میں مرتدین کا ذکر ہے، جن سے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے جہاد کیا جیسا کہ ایک روایت میں حضرت قبیصہ نے اس کی وضاحت کی ہے۔
(صحیح البخاري، أحادیث الأنبیاء، حدیث: 3447)
یا اس سے دیہاتیوں کی وہ جماعت مراد ہے جو ابھی تک تہذیب و اخلاق سے مزین نہ ہوئے تھے اور نہ اسلام ان کے دلوں میں داخل ہی ہوا تھا۔
بعض اہل علم نے منافقین کی جماعت مراد لی ہے جو اسلام کی حقانیت کے پیش نظر نہیں بلکہ دنیوی لالچ اور مفاد پرستی کی خاطر دائرۂ اسلام میں داخل ہوئے تھے۔
یہی وجہ ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ان کی صحیح صورت حال واضح ہوئی تو آپ نے بھی ان کے متعلق کسی قسم کا نرم گوشہ نہیں رکھا بلکہ فرمایا: ’’تباہی اور بربادی ہو اس انسان کے لیے جس نے میرے بعد میرے دین کو بدل کر رکھ دیا۔
‘‘ (صحیح البخاري، الفتن، حدیث: 7051) (2)
امام بخاری رحمہ اللہ نے ان احادیث سے قیامت کے دن لوگوں کے اٹھائے جانے کی کیفیت کو بیان کیا ہے کہ وہ بالکل برہنہ حالت میں، یعنی ننگے بدن اٹھائے جائیں گے جیسا کہ خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس موقع پر قرآن پاک کی آیت تلاوت کر کے ہمیں آگاہ کیا کہ اللہ تعالیٰ تمام انسانوں کو دوبارہ پیدا کرے گا۔
سب اپنی قبروں سے ننگے پاؤں، ننگے بدن اور غیر ختنہ شدہ اٹھیں گے۔
اللہ تعالیٰ کا یہ وعدہ سچا ہے اور وہ ایسا کر کے رہے گا۔
اس میں کسی قسم کے شک و شبہ کی گنجائش نہیں ہے۔
واللہ المستعان
خود معلوم ہونے پر آنحضرت ﷺفرمائیں گے سحقالمن غیر بعدي دینا ان کےلیے دوری ہوجنہوں نے میرےبعد میرے دین کوبدل ڈالا۔
ان جملہ احادیث مذکورہ میں کسی نہ کسی طرح سے حضرت عیسیٰ ؑ کاذکر آیا ہے۔
اس لیے ان کویہاں لایا گیا اور یہی باب سےوجہ مناسبت ہے۔
1۔
وہ اہل بدعت بھی حوض کوثر سے روک دیے جائیں گے جنھوں نے بدعات کو رواج دے کر چہرہ اسلام کو مسخ کرڈالاتھا کیونکہ ایک روایت میں ہے: ان لوگوں کے لیے دوری ہو جنھوں نے میرے جانے کے بعد میرے دین کو بدل ڈالا۔
(صحیح البخاري، الرقاق، حدیث: 6584)
2۔
ان تمام احادیث میں کسی نہ کسی پہلو سے حضرت عیسیٰ ؑ کا ذکر آیا ہے، اس لیے امام بخاری ؒ نے انھیں اس عنوان کے تحت درج کیا ہے۔
ان سے مقصود حضرت عیسیٰ ؑ کاتعارف کروانا اور ان کے حالات بیان کرنا ہے۔
واللہ أعلم۔
ہم کہتے ہیں کہ صحابہ سب کے سب اسلام پر قائم رہے خصوصاً عشرہ مبشرہ جن کے لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بہشت کی بشارت دی اور پیغمبر کا وعدہ جھوٹ نہیں ہوسکتا۔
قرآن شریف ان بزرگوں کے فضائل سے بھرا ہوا ہے اور متعدد حدیثیں ان کے مناقب میں وارد ہیں اگر معاذاللہ! رافضیوں کا کہنا صحیح ہو تو آنحضرت کی صحبت کی برکات ایک درویش کی صحبت سے کم قرار پاتی ہیں اور پیغمبر کی بڑی توہین اور تحقیر ہوتی ہے۔
اب بعض صحابہ سے جو ایسی باتیں منقول ہیں جن میں یہ شبہ ہوتا ہے کہ وہ اللہ ورسول کی مرضی کے خلاف تھیں تو اول تو یہ روایتیں صحیح نہیں ہیں۔
دوسرے اگر صحیح بھی ہوں تو صحابہ معصوم نہ تھے۔
خطا اجتہادی ان سے ممکن ہے جس پر وہ معذور سمجھے جانے کے لائق ہیں اور حدیث سے ثابت ہے کہ مجتہد اگر خطا بھی کرے تو اس کو ایک اجر ملے گا۔
علاوہ اس کے اجلہ صحابہ جیسے حضرت ابوبکر صدیق اور عمر فاروق اور عثمان غنی رضی اللہ عنہم وغیرہ ہیں ان سے تو کوئی ایسی بات منقول نہیں ہے جو شرع کے خلاف ہو۔
(وحیدی)
1۔
جو لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد مرتد ہوگئے تھے وہ دوردراز کے رہنے والے بدولوگ تھے جوذاتی مفادات اور قتل وغارت کے ڈر سے مسلمان ہوئے تھے، اس لیے لفظ "رجال" کا اطلاق ہوا ہے جو ان کی تذلیل وتحقیر کی طرف اشارہ ہے۔
اس سے قطعاً وہ لوگ مراد نہیں ہیں جو ہر وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہتے تھے اورآپ کے وفادار اور سچے جاں نثار تھے، ان کے متعلق ارشاد باری تعالیٰ ہے: ’’اللہ ان سے راضی ہوا اور وہ اللہ سے خوش ہوئے‘‘ خاص طور پر عشرہ مبشرہ جنھیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ہی مجلس میں جنتی ہونے کی بشارت دی ہے اسی طرح شیخین حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مشیر اور وزیرتھے اور مرنے کے بعد بھی آپ کے پہلو میں محو استراحت ہیں، ان کی تکفیر تو کوئی بے دین ہی کرسکتا ہے، اہل ایمان کے لیے ایسا ممکن نہیں۔
واللہ اعلم۔
حدیث کی توضیح و تفسیر پیچھے گزر چکی ہے۔
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وعظ و نصیحت کرتے ہوئے فرمایا: ” تم لوگ قیامت کے دن اللہ کے پاس ننگے اور غیر مختون جمع کئے جاؤ گے، پھر آپ نے آیت پڑھی «كما بدأنا أول خلق نعيده وعدا علينا» ” ہم نے جیسے پہلے آدمی کو پیدا کیا ہے ویسا ہی دوبارہ لوٹا دیں گے (پیدا فرما دیں گے) “ (الانبیاء: ۱۰۴)، آپ نے فرمایا: ” قیامت کے دن جنہیں سب سے پہلے کپڑا پہنایا جائے گا وہ ابراہیم علیہ السلام ہوں گے، (قیامت کے دن) میری امت کے کچھ لوگ لائے جائیں گے جنہیں چھانٹ کر بائیں جانب (جہنم کی رخ) کر دیا جائے گا، میں کہوں گا۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ترمذي/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 3167]
وضاحت:
1؎:
ہم نے جیسے پہلے آدمی کو پیدا کیا ہے ویسا ہی دوبارہ لوٹا دیں گے، (پیدا فرما دیں گے...(الأنبیاء: 104)
2؎:
میں جب تک ان کے درمیان تھا ان کی دیکھ بھال کرتا رہا تھا، پھر جب آپ نے مجھے اٹھا لیا آپ ان کے محافظ ونگہبان بن گئے، آپ ہر چیز سے واقف ہیں۔
اگر آپ انہیں سزا دیں تو وہ آپ کے بندے وغلام ہیں۔
(آپ انہیں سزادے سکتے ہیں) اور اگر آپ انہیں معاف کر دیں تو آپ زبردست حکمت والے ہیں (المائدۃ: 118)
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” قیامت کے دن لوگوں کا حشر اس حال میں ہو گا کہ وہ ننگے بدن، ننگے پیر اور ختنہ کے بغیر ہوں گے، پھر آپ نے اس آیت کریمہ کی تلاوت کی: «كما بدأنا أول خلق نعيده وعدا علينا إنا كنا فاعلين» ” جیسے کہ ہم نے اول دفعہ پیدائش کی تھی اسی طرح دوبارہ کریں گے، یہ ہمارے ذمے وعدہ ہے، اور ہم اسے ضرور کر کے ہی رہیں گے “ (الانبیاء: ۱۰۴)، انسانوں میں سب سے پہلے ابراہیم علیہ السلام کو کپڑا پہنایا جائے گا، اور میری امت کے بعض لوگ دائیں اور بائیں طرف لے جائے جائیں گے تو میں کہوں گا: میرے رب! یہ تو م۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ترمذي/كتاب صفة القيامة والرقائق والورع/حدیث: 2423]
وضاحت:
1؎:
جیسے کہ ہم نے اول دفعہ پیدائش کی تھی اسی طرح دوبارہ کریں گے، یہ ہمارے ذمے وعدہ ہے، اور ہم اسے ضرور کرکے ہی رہیں گے۔
(الانبیاء: 104)
2؎:
ابراہیم علیہ السلام کے کپڑے اللہ کے راستے میں سب سے پہلے اتارے گئے تھے، اور انہیں آگ میں ڈالا گیا تھا، اس لیے قیامت کے دن سب سے پہلے انہیں لباس پہنایا جائے گا، اس حدیث سے معلوم ہواکہ اگر انسان کا ایمان وعمل درست نہ ہوتووہ عذاب سے نہیں بچ سکتا اگرچہ وہ دینی اعتبار سے کسی عظیم ہستی کی صحبت میں ر ہا ہو، کسی دوسری ہستی پر مغرور ہوکر عمل میں سستی کرنا اس سے بڑھ کر جہالت اور کیا ہوسکتی ہے، بڑے بڑے مشائخ کے صحبت یافتہ اکثر و بیشتر اس مہلک مرض میں گرفتارہیں، اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہواکہ دین میں نئی باتیں ایجاد کرنا اور اس پر عامل ہونا عظیم خسارے کا باعث ہے۔
3؎:
اگر تو انہیں عذاب دے تو یقینا یہ تیرے بندے ہیں اور اگر انہیں تو بخش دے تو یقینا تو غالب اور حکمت والا ہے۔
(المائدہ: 118)
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” تم لوگ (قیامت کے دن) جمع کیے جاؤ گے ننگے پیر، ننگے جسم، بیختنہ کے، ایک عورت (ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا) نے کہا: کیا ہم میں سے بعض بعض کی شرمگاہ دیکھے گا؟ آپ نے فرمایا: «لكل امرئ منهم يومئذ شأن يغنيه» ” اے فلانی! اس دن ہر ایک کی ایک ایسی حالت ہو گی جو اسے دوسرے کی فکر سے غافل و بے نیاز کر دے گی “ (سورۃ عبس: ۴۲)۔ [سنن ترمذي/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 3332]
وضاحت:
1؎:
سورہ عبس: 42۔
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو منبر پر خطبہ دیتے سنا آپ فرما رہے تھے: ” تم اللہ تعالیٰ سے ننگے پاؤں، ننگے بدن (اور) غیر مختون ملو گے۔“ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 2083]
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” لوگ قیامت کے دن ننگ دھڑنگ، غیر مختون اکٹھا کیے جائیں گے، اور مخلوقات میں سب سے پہلے ابراہیم علیہ السلام کو کپڑا پہنایا جائے گا، پھر آپ نے یہ آیت کریمہ تلاوت فرمائی: «كما بدأنا أول خلق نعيده» ” جیسے ہم نے پہلی دفعہ پیدا کیا تھا ویسے ہی دوبارہ پیدا کریں گے “ (الانبیاء: ۱۰۴)۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 2084]
(2) ”ویسے ہی“ یعنی تمام اعضاء اصلی حالت میں ہوں گے حتیٰ کہ ختنہ بھی نہیں ہوگا (کیونکہ یہ بعد کی تبدیلی ہے) البتہ جسامت کے لحاظ سے جسم بڑا ہوگا۔
اس حدیث سے ثابت ہوا کہ مسجد میں منبر ہونا چاہیے، قیامت کے دن انسان بالکل ننگا ہوگا، اس دن سب برابر ہوں گے، اور بغیر ختنے کے ہوں گے۔ روز قیامت سب سے پہلے ابراہیم علیہ اسلام کولباس پہنایا جائے گا۔ [صحيح البخاري: 6526]